ہوم << شعراء دربار رسالتؐ کے اشعار کامختصراُردو ترجمہ – میر افسر امان
600x314

شعراء دربار رسالتؐ کے اشعار کامختصراُردو ترجمہ – میر افسر امان

حضرت ابو طالب کا شمار حضور اکرمؐ کے سب سے پہلے نعت گو اور مدح خواں کی حیثیت سے ادبی دنیا میں تسلسل کے ساتھ تاریخ کا حصہ ہے۔ آپ کے اشعار میں حضورؐ کی نبوت کی سچائی اور عظمت کا نمایاں اظہار ملتا ہے۔

”قصیدہ لامیہ“ حضور اقدسؐ کی شان، دفاع اور حفاظت میں ایک ایسا لازوال قصیدہ ہے، جو قریش کی طرف سے شدید دباؤ اور دشمنی کے دوران قلم بند کیا گیا ہے۔ اور اس میں واضح اور والِشگاف الفاظ میں اس بات کا اظہار ہے کہ حضورؐ کی حفاظت میری اولین اور ترجیحی ذمہ داری ہے اور کسی صورت ان کو (حضورؐ کو) دشمنوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ شعبِ ابی طالب میں آپ کے اشعار عزم و ہمت کا پہاڑ، حضورؐ کی حفاظت کے امین ہیں۔

حضرت ابو طالب فرماتے ہیں:

”ہم جنگ لڑنا جانتے ہیں،
اور اتنا جانتے ہیں کہ جنگ رو دے گی،
لیکن ہم جنگ کے دوران بھی فیصلے
عقل اور فہم پر کرتے ہیں۔“

یہ اشعار حضور اقدسؐ کے دفاع اور حفاظت اور قریش کی دشمنی کو عزم و استقلال سے رد کرنے کے حوالے سے یادگار ہیں۔ آپ کا دیوان شام میں پروفیسر ڈاکٹر محمد ال تونجی نے اکٹھا کیا اور شائع کروایا، جو مدحتِ رسولؐ اور حفاظتِ رسولؐ کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ ڈاکٹر محمد ال تونجی حلب یونیورسٹی آف شام میں فارسی ادب کے پروفیسر ہیں۔ ان کے مطابق اہلِ تشیع کی آراء یہ ہے کہ ابو طالب کا قصیدہ لامیہ امراء القیس کی شاعری سے بھی اعلیٰ درجہ کی تحقیق ہے، لیکن اس میں مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے۔

اشعار کا اردو ترجمہ:

”پے در پے رنج و غم اور تغیرات کی وجہ سے میری راتیں اتنی طویل ہوتی جا رہی ہیں اور میرے آنسو اس طرح بہتے ہیں جیسے مشکیزہ سے پانی بہہ رہا ہو، اور یہ لوگ (میرے بھتیجےؐ) محمد مصطفیٰؐ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ”تمہاری باتیں غلط ہیں۔“ ”یہ بہت بودی اور واہیات بات ہے۔“

مزید اشعار کا اردو ترجمہ:

”آپؐ وہ روشن اور مبارک شخصیت ہیں جن کے
چہرۂ انور کے وسیلے سے بارش طلب کی جاتی ہے۔
آپؐ یتیموں کا سہارا اور بیواؤں کے محافظ ہیں۔“

لیکن یہاں یہ بات لکھنا ضروری ہو گا کہ نعت گوئی کی باقاعدہ صنف بعد میں وجود پذیر ہوئی۔

آپؐ کے دربارِ گوہر سے وابستہ اور آپؐ کی شان میں نعتیں اور کفار کے مقابلے میں اسلام کا دفاع کرنے والے ”شعراء کو دربارِ رسالت“ کہا جاتا ہے۔ اِن شعراء نے ثنائے مصطفیٰ اور مدحتِ مصطفیٰؐ کا جو موضوع باندھا ہے، وہ انمول اور نایاب، مضبوط و پائیدار بنیادوں پر مبنی ہے، جو آپؐ کے حُسن و جمال، حسب و نسب اور عظمت و شرف کے مظاہر بیان ہیں۔

ایک مشہور صحابی حسان بن ثابت نے آقاؐ کی مدحِ مصطفیٰؐ کے ذریعے شانِ مصطفیٰ کو یوں بیان کیا:

”آپؐ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا،
اور آپؐ جیسا خوبصورت کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔
آپؐ ہر عیب اور نقص سے پاک پیدا کیے گئے ہیں،
گویا، آپؐ اپنی مرضی اور چاہت کے مطابق تخلیق کیے گئے ہیں۔“

شاعر حسان بن ثابت حضرت ابو بکرؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر قریش کے حسب و نسب سے واقفیت حاصل کر کے پھر اپنے اشعار میں ان کی مذمت کرتے اور اسلام کا دفاع کرتے تھے، اور کفار کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے۔ اور اُن کے عیب اور برائیاں بیان کرتے۔ اُن کے کفر اور بتوں کی پرستش پر، جو نہ سن سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، انہیں شرم اور غیرت دلاتے تھے۔

حسان بن ثابتؓ نے شانِ مصطفیٰ کا اپنے اشعار میں یوں دفاع کرتے ہوئے فرمایا:

”تم نے محمدؐ کی ہجو کی،
پس میں نے آپ کی طرف سے جواب دیا،
اور اس کی حقیقی جزاء اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

تم نے محمدؐ کی ہجو کی،
جو نیک اور ادیانِ باطلہ سے دور رہنے والے ہیں،
وہؐ اللہ کے سچے رسولؐ ہیں،
اور ان کی خصلت وفا ہے۔“

”بلاشبہ، میرا باپ، میرا دادا
اور میری عزت آپؐ کی عزت و ناموس
کی حفاظت کے لیے تمہارے سامنے ڈھال ہے۔“

آپؐ کی تمام انبیاء میں بزرگی اور شانِ ختمِ نبوت کے حوالے سے حسان بن ثابتؓ یوں اپنے اشعار میں اظہار فرماتے ہیں:

”میں اللہ تعالیٰ کے اذن سے گواہی دیتا ہوں،
کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے ایسے برگزیدہ رسولؐ ہیں
کہ جن کا مقام و مرتبہ آسمانوں سے بھی بلند ہے،
اور بلاشبہ ابویحییٰ یعنی حضرت زکریا علیہ السلام
اور حضرت یحییٰ علیہ السلام دونوں اپنے دہن
میں قبول کیے گئے ہیں، اور جب ہود علیہ السلام
اپنی قوم میں کھڑے ہوئے تو فرماتے،
اللہ کی قسم! وہ نبی آخرالزمان ہی ہیں۔“

ایک اور شاعر صحابی رسولؐ ”عبداللہ بن رواحہ“ انصاری تھے۔ آپؐ نے رسولؐ کے ساتھ کئی غزوات میں شرکت کی اور فتح مکہ سے قبل شہید ہو گئے۔ اُن کے بھی آپؐ کی شان میں بہت سے اشعار ہیں۔ ایک کا ترجمہ یوں ہے:

”میں نے سمجھ لیا اور معلوم کر لیا
کہ آپ کی ذاتِ گرامی میں
بھلائی ہی بھلائی ہے، خدا جانتا ہے
کہ میری آنکھ نے دھوکہ نہیں کھایا۔
آپ یقیناً سچے نبیؐ ہیں،
جو شخص قیامت کے دن آپؐ کی
شفاعت سے محروم رہے گا،
وہ بہت ہی کم نصیب ہو گا۔“

”حق تعالیٰ نے جو آپ کو خوبیاں عطا فرمائی ہیں،
آپؐ کو اِن پر اِس طرح ثابت قدم فرمایا ہے،
جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرما دیا تھا،
اور آپ کو اس طرح فتح و نصرت سے نوازا ہے،
جیسے آپ سے پہلوں کو نوازا تھا۔“

ایک اور شاعر ”کعب بن زہیر“ ایمان لانے کے بعد اُنھوں نے آپؐ کی شان میں ایک زبردست قصیدہ کہا، جو ”لامیہ“ کے نام سے مشہور ہوا۔ اُن کا ایک شعر ترجمہ ہے:

”بے شک، اللہ کا رسولؐ ایک ایسی تلوار ہے،
جس سے روشنی حاصل ہوتی ہے۔“

ایک اور صحابیؓ شاعر، کعب بن مالک۔ اِن کو جنگِ اُحد میں جسم پر گیارہ زخم آئے تھے۔ یہ اپنے اشعار سے مشرکین کو دہشت زدہ اور مرعوب کیا کرتے تھے۔ اِن کی شاعری میں وہ تاثیر تھی کہ تلوار سے زیادہ سخت اور تیروں سے زیادہ مضبوط تھی۔ اُن کے اشعار کا ترجمہ ہے:

”ہم نے تہامہ اور خیبر سے مخالفت کا
استعمال کر کے تلواروں کو میان میں کر لیا ہے،
پھر ہم نے تلواروں سے حقیقتِ حال معلوم کرنا چاہی،
اگر اِن کی زبان ہوتی تو وہ کہہ دیتیں
کہ آئندہ وہ دوس یا ثقیف کے قبائل کو کاٹ کر رکھ دیں گی۔“

آخر میں صحابہؓ اکرام نے تلوار، دامے، درہمے، قدمے اور سخنے، ہر طرح سے اسلام کا دفاع کیا۔ عہدِ رسالت مآبؐ کے صحابہؓ شعراء اِس لیے اہم ہیں کہ اِن کا عمل مسلمانوں کے لیے حجت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ رسالت سے لے کر آج تک مسلمانوں میں نعت گوئی کا فن زندہ ہے، اور یہ فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

میر افسر امان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment