ہوم << چراغِ راہ پھر روشن ہوگیا – محمد شفیق اعوان
600x314

چراغِ راہ پھر روشن ہوگیا – محمد شفیق اعوان

(’’پروفیسر خورشید احمد نمبر‘‘ — ایک علمی، فکری، تحقیقی اور ادبی دستاویز)

کبھی کسی رسالے کا دوبارہ منظرِ عام پر آنا محض ایک مطبوعے کی اشاعتِ نو نہیں ہوتا؛ وہ اپنے اندر ایک پورے عہد کی بازگشت، ایک بھولی ہوئی علمی روایت کی بازیافت اور ایک زندہ فکری تسلسل کی تجدید کا پیغام لیے ہوتا ہے۔ ’’چراغِ راہ‘‘ کا نئے دور میں دوبارہ روشن ہونا بھی ایسا ہی ایک اہم علمی و ادبی واقعہ ہے۔ خصوصاً نئے سلسلے کا پہلا شمارہ، ’’پروفیسر خورشید احمد نمبر‘‘، ایک ایسی شخصیت کے نام سے منسوب ہے جس کی زندگی علم، تحقیق، تصنیف، تالیف، تدریس، صحافت، معیشت، اسلامی فکر اور قومی و ملّی خدمت کے مختلف میدانوں میں پھیلی ہوئی تھی۔

’’چراغِ راہ، مئی تا اگست ۲۰۲۶ء، سلسلہ نمبر ۱، پروفیسر خورشید احمد نمبر‘‘، دائرۂ علم و اَدب پاکستان، اسلام آباد کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ اس کے سرپرست پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد، مدیرِاعلیٰ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر اور مدیر ڈاکٹر فخرالاسلام ہیں۔ یہ شمارہ ۴۰۴ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں بیالیس تحریریں شامل ہیں۔ مدیرِاعلیٰ کی دو ابتدائی تحریریں، ’’اظہارِ تشکر‘‘ اور ’’تقدیم‘‘، تقریباً سات صفحات پر محیط ہیں۔ پورا شمارہ نو ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جس سے اس کی اداریاتی منصوبہ بندی، موضوعاتی ترتیب اور تحقیقی مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔

’’چراغِ راہ‘‘: ایک علمی روایت کی واپسی
’’چراغِ راہ‘‘ کی نسبت پاکستان کی ابتدائی فکری و ادبی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ زمانہ جب نئی مملکت اپنے نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور معاشی خدوخال متعین کر رہی تھی، ایسے علمی جرائد کی شدید ضرورت محسوس ہوتی تھی جو محض ادبی تفریح کا سامان نہ ہوں بلکہ قوم کے بنیادی فکری مسائل پر سنجیدہ گفتگو بھی کریں۔’’چراغِ راہ‘‘ نے اپنے عہد میں یہی کردار ادا کیا۔ اسلامی فکر، عصری مسائل، نظریۂ پاکستان، اسلامی قانون، معیشت، سیاست، تہذیب اور معاشرت جیسے موضوعات کو علمی انداز میں زیرِ بحث لانا اس کے مزاج کا حصہ تھا۔ اس کے خصوصی شماروں نے اسے ایک عام ادبی رسالے سے بلند کرکے ایک ایسی علمی دستاویز کی حیثیت عطا کی جس کی طرف محققین اور اہلِ فکر رجوع کر سکتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ چراغ مدھم پڑ گیا، لیکن چراغ بجھا نہیں تھا۔ اس کی لو صفحات، یادوں، تحریروں اور اہلِ علم کے ذہنوں میں محفوظ رہی۔ آج جب ’’چراغِ راہ‘‘ نئے سلسلے کے ساتھ دوبارہ سامنے آیا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک قدیم علمی چراغ کو نئی نسل کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہو۔اور اس نئے سفر کا پہلا پڑاؤ پروفیسر خورشید احمد ہیں۔

’’پروفیسر خورشید احمد نمبر‘‘: ایک جامع دستاویز
۴۰۴ صفحات پر مشتمل یہ خصوصی شمارہ صرف کسی مرحوم شخصیت کی یاد میں شائع ہونے والا تعزیتی نمبر نہیں۔ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اس میں پروفیسر خورشید احمد کی شخصیت اور خدمات کو متعدد زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔شمارے کے نو ابواب میں مختلف نوعیت کا مواد شامل ہے۔ ابتدا ’’اظہارِ تشکر‘‘ اور ’’تقدیم‘‘ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد ’’چراغِ راہ‘‘ کے عنوان سے چراغِ راہ کی یادیں، اس کا منزل بہ منزل سفر اور اس کی علمی و ادبی خدمات سامنے آتی ہیں۔’’درونِ خانہ‘‘ میں ’’میری کہانی، میری زبانی‘‘، پروفیسر خورشید احمد کے نانا راجا غلام حسین اور والدِ گرامی کی یاد جیسے مضامین کے ذریعے ان کی خاندانی اور شخصی زندگی کے گوشے سامنے آتے ہیں۔’’فکر و فن‘‘ کے باب میں اسلامی فکر کی تشکیلِ جدید اور خورشید احمد، ان کی وفات، چراغِ راہ کا نیا سنگِ میل، چراغِ راہ کا احیاء، مسلمان رہنما اور ماہرِ معاشیات، اسلامی معاشیات کے معمار، فکرِ مودودی کے امین اور ایک عہد ساز شخصیت جیسے موضوعات شامل ہیں۔

اس کے بعد ’’جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے‘‘ کے عنوان سے یادداشتوں کا ایک وسیع سلسلہ ہے، جس میں پروفیسر خورشید احمد کی شخصیت کے مختلف پہلو رفقا، احباب اور اہلِ علم کی نگاہ سے سامنے آتے ہیں۔ ’’سنجیدگی و فضیلت کی ایک منفرد مثال‘‘، ’’یہ چند روز کا مہمان ہے زمانہ‘‘، ’’پروفیسر خورشید احمد کی یاد میں‘‘، ’’علمی روایت کا قصہ تمام شد‘‘، ’’گزارش یہ ہے کہ۔۔۔‘‘، ’’دیکھا جنہیں پلٹ کے‘‘، ’’میں ذرا، وہ مہتاب‘‘، ’’چند یادیں، چند باتیں‘‘، ’’وہ نجمِ بصیرت تھا‘‘، ’’اہلِ کشمیر کے پشتیبان‘‘، ’’وسطی ایشیا میں احیائے دین‘‘، ’’فکری رہنما‘‘، ’’ادارہ ساز شخصیت‘‘، ’’خورشیدِ تاباں‘‘ اور ’’دریچۂ یاد سے‘‘ جیسے عنوانات اسی یادگاری باب کی معنوی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔’’مکتوبات‘‘ میں ’’خطوط بنام خورشید احمد‘‘، ’’اسلام اور اقبال کی نشاۃِ ثانیہ‘‘ اور ’’نظریۂ پاکستان اور ہمارے دانش ور‘‘ جیسے مضامین شامل ہیں، جب کہ ’’مصاحبت‘‘ کے باب میں ’’دو سوال‘‘، ’’اسلامی نشاۃِ ثانیہ‘‘ اور ’’اسلامی معیشت، تحقیق اور قومی پالیسی‘‘ جیسے موضوعات شامل ہیں۔

آخر میں ’’منظوم خراجِ عقیدت‘‘ کے تحت ’’بیادِ خورشید احمد مرحوم‘‘، ’’استادوں کا استاد‘‘، ’’حرف زندہ رہتے ہیں‘‘، ’’اِس پیکرِ خورشید کے نام‘‘ اور ’’ان کی طرح کوئی نہیں‘‘ جیسے منظومات کے ذریعے عقیدت و محبت کے جذبات کو شعری پیکر عطا کیا گیا ہے۔یوں یہ شمارہ سوانح، یادداشت، تحقیق، تنقید، مکاتیب، انٹرویوز اور شاعری کو ایک ہی دستاویزی وحدت میں جمع کرتا ہے۔

پروفیسر خورشید احمد: ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر خورشید احمد کی پیدائش ۲۳ مارچ ۱۹۳۲ء، دہلی، ہندوستان میں ہوئی اور ۱۳ اپریل ۲۰۲۴ء، لندن میں ان کا انتقال ہوا۔ تقریباً نوّے برس پر محیط ان کی زندگی محض ذاتی کامیابیوں کی داستان نہیں بلکہ علم اور فکر کی مسلسل جستجو کا سفر تھی۔ان کی شخصیت میں بیک وقت استاد، ماہرِ معاشیات، اسلامی مفکر، محقق، مصنف، مترجم، مدیر، منتظم، سیاسی دانش ور اور ادارہ ساز کے اوصاف جمع تھے۔ان کی تعلیمی زندگی بھی غیر معمولی تھی۔ انہوں نے ۱۹۵۵ء میں ایم اے معاشیات، ۱۹۵۹ء میں ایل ایل بی اور ۱۹۶۴ء میں ایم اے اسلامیات کیا۔ بعد ازاں تین مختلف جامعات نے انہیں تین اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگریاں عطا کیں۔یہ تعلیمی سفر اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ ان کی فکر ایک ہی علمی شعبے تک محدود نہ تھی۔ معاشیات کے ساتھ اسلامیات کا گہرا مطالعہ ہی آگے چل کر اسلامی معاشیات کے میدان میں ان کی غیر معمولی دلچسپی اور علمی خدمات کی بنیاد بنا۔

تصنیف و تالیف: قلم کا وسیع میدان
پروفیسر خورشید احمد کا علمی سرمایہ خاصا وسیع ہے۔ ان کی اردو میں مطبوعہ کتابوں کی تعداد ۲۴ بتائی گئی ہے، جب کہ انگریزی اور اردو میں ترجمہ شدہ یا مرتبہ کتابوں کی تعداد ۱۱ ہے۔ اس کے علاوہ تصنیف و ترتیب کی مطبوعات ۲۹ ہیں۔یہ اعداد محض کتابوں کی تعداد نہیں بلکہ ایک مسلسل علمی زندگی کا اشاریہ ہیں۔ ان کے قلم نے اسلامی فکر، معیشت، معاشرت، سیاست، تہذیب اور قومی زندگی کے مختلف مسائل کو موضوع بنایا۔ان کی تحریروں میں ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ محض نظری مباحث تک محدود نہیں رہتے۔ وہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے، اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے، جدید حالات کا جائزہ لینے اور پھر اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کا علمی کام محض مذہبی لٹریچر کے دائرے میں محدود نہیں رہتا بلکہ جدید معاشی اور سماجی مباحث سے بھی مکالمہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

تحقیقی خدمات: علم کو دلیل میں ڈھالنے کا ہنر
پروفیسر خورشید احمد کی تحقیقی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو ان کی بنیادی خصوصیت موضوع کی وسعت، مطالعے کی گہرائی اور معاصر مسائل سے ربط ہے۔وہ تحقیق کو محض حوالہ جات جمع کرنے یا معلومات کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا نام نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک تحقیق ایک فکری عمل تھی جس میں سوال کی تعیین، تاریخی پس منظر، موجودہ صورتِ حال، اسلامی اصولوں اور عملی تقاضوں کو باہم مربوط کرنا ضروری تھا۔اسلامی معاشیات کے میدان میں ان کا کام اسی تحقیقی منہج کا نمایاں مظہر ہے۔ جدید اقتصادی نظام کے مسائل کو سمجھتے ہوئے اسلامی معاشی اصولوں کی توضیح اور ان کی عملی معنویت اجاگر کرنا ان کی علمی زندگی کا ایک اہم باب ہے۔ان کے ہاں اسلامی معیشت کوئی مجرد نظری تصور نہیں بلکہ عدل، انسانی فلاح، معاشی ذمہ داری، اخلاقی اقدار اور اجتماعی بہبود سے مربوط ایک وسیع نظام کے طور پر سامنے آتی ہے۔اسی طرح اسلامی فکر کی تشکیلِ جدید کے سلسلے میں ان کی کوشش یہ تھی کہ اسلامی فکر کو عصرِ حاضر کے سوالات سے کاٹا نہ جائے۔ وہ ماضی کی علمی میراث سے استفادہ کرتے ہوئے جدید دنیا کے مسائل کو سمجھنے اور اسلامی فکر کو ان مسائل کے جواب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

تنقیدی خدمات: شخصیت پرستی سے فکری احتساب تک
کسی صاحبِ علم کی تنقیدی خدمات کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ افکار کو کس میزان پر پرکھتا ہے۔ پروفیسر خورشید احمد کے علمی مزاج میں تنقید کا مقصد محض اعتراض یا مخالفت نہیں بلکہ فکر کی اصلاح، استدلال کی مضبوطی اور حقیقت تک رسائی تھا۔ان کے فکری کام میں جدید معاشی نظریات، مغربی تہذیب، سرمایہ دارانہ نظام، اشتراکی فکر، اسلامی معاشی اصولوں اور جدید سیاسی و سماجی مسائل کے باہمی تقابل کے آثار نمایاں ہیں۔ان کی تنقید کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ مغربی علمی تصورات کو محض اس لیے قبول کرنے کے قائل نہیں تھے کہ وہ مغرب سے آئے ہیں، اور نہ ہی ہر جدید تصور کو صرف جدید ہونے کی بنا پر رد کرتے تھے۔ وہ اصولی اور علمی میزان پر اس کا جائزہ لینے کے قائل تھے۔یہی رویہ ایک حقیقی محقق اور نقاد کا امتیاز ہے: نہ اندھی تقلید، نہ بے دلیل انکار؛ بلکہ مطالعہ، تجزیہ، استدلال اور اصولی نتیجہ۔

اسلامی فکر اور فکری روایت
پروفیسر خورشید احمد کی فکری تشکیل پر فکرِ مودودی کے اثرات نمایاں تھے۔ انہیں ’’فکرِ مودودی کا امین‘‘ بھی کہا گیا ہے، مگر ان کی علمی زندگی کو محض کسی ایک شخصیت یا ایک عنوان تک محدود کر دینا ان کے وسیع علمی کام کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔انہوں نے اسلامی فکر کو جدید دنیا کے سیاسی، معاشی اور تہذیبی مسائل کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک اسلام محض ماضی کا محفوظ سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظامِ حیات تھا، جس کے اصول ہر دور میں انسانی زندگی کے بنیادی مسائل کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔اسی لیے ان کے علمی سفر میں اسلامی نشاۃِ ثانیہ، نظریۂ پاکستان، اسلامی معیشت، جدید معاشیات، عالمی اسلامی تحریکات اور قومی پالیسی جیسے موضوعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔

چراغِ راہ سے ترجمان القرآن تک
پروفیسر خورشید احمد متعدد اردو و انگریزی رسائل و جرائد سے وابستہ رہے اور کئی رسائل کی ادارت کی۔ خصوصاً ’’چراغِ راہ‘‘ کراچی اور ’’ترجمان القرآن‘‘ لاہور میں ان کی علمی و اداری خدمات نمایاں رہیں۔ادارت محض مضامین چھاپ دینے کا نام نہیں۔ مدیر کو اپنے عہد کے فکری تقاضوں، قارئین کے ذہنی رجحانات، علمی معیار اور قومی ضرورتوں کو بیک وقت پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔اس اعتبار سے پروفیسر خورشید احمد کی ادارت بھی ان کے فکری مزاج کی توسیع تھی۔ وہ رسالے کو محض معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری تربیت اور علمی مکالمے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔آج ’’چراغِ راہ‘‘ کا دوبارہ زندہ ہونا اور اس کے پہلے شمارے کا پروفیسر خورشید احمد کے نام ہونا اسی نسبت کو مزید معنی خیز بنا دیتا ہے۔

تدریس اور ادارہ سازی
پروفیسر خورشید احمد کی زندگی میں تدریس اور ادارہ سازی کو بھی اہم مقام حاصل رہا۔ وہ صرف کتاب لکھنے والے عالم نہیں بلکہ نئی نسل کے ذہنوں کی تربیت کرنے والے استاد بھی تھے۔انہیں چھ اداروں میں عہدے دار رہنے کا اعزاز حاصل ہوا اور پانچ ممالک میں اعلیٰ عہدوں کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کا کام کسی ایک ملک یا ایک ادارے کی حدود تک محدود نہیں تھا؛ ان کی علمی سرگرمیوں کا دائرہ بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا تھا۔ادارہ سازی ان کی شخصیت کا ایک اہم وصف تھا۔ وہ جانتے تھے کہ فرد کی علمی صلاحیت اپنی جگہ اہم ہے، مگر دیرپا اثر کے لیے ادارے، علمی مراکز، رسائل، تحقیق اور تربیت کے مستقل نظام ضروری ہیں۔

تقریری اور بین الاقوامی خدمات
پروفیسر خورشید احمد ایک فعال مقرر بھی تھے۔ بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت، خطابات اور صدارت کی تعداد ۱۶۹ بتائی گئی ہے۔یہ تعداد ان کی بین الاقوامی علمی سرگرمیوں کا اندازہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے مختلف علمی فورمز پر اسلامی فکر، معیشت، قومی مسائل، اسلامی نشاۃِ ثانیہ اور عصرِ حاضر کے فکری سوالات پر گفتگو کی۔ایک اچھا مقرر صرف الفاظ کا جادوگر نہیں ہوتا؛ اسے اپنے موضوع کا علم، سامعین کی نفسیات کا شعور اور گفتگو کو دلیل کے ساتھ آگے بڑھانے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ پروفیسر خورشید احمد کی تقریری سرگرمیاں ان کی اسی علمی استعداد کی غماز تھیں۔

قومی اور ملّی زندگی میں کردار
پروفیسر خورشید احمد کا تعلق محض علمی دنیا سے نہیں تھا۔ وہ عملی قومی زندگی میں بھی سرگرم رہے۔ وہ کئی برس سینیٹ کے رکن رہے، اسلامی جمعیتِ طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ کی ذمہ داری ادا کی اور جماعتِ اسلامی کے نائب امیر بھی رہے۔یہ تمام ذمہ داریاں اس بات کی علامت ہیں کہ ان کے نزدیک علم زندگی سے الگ کوئی جزیرہ نہیں تھا۔ وہ فکر کو عمل سے اور نظریے کو اجتماعی زندگی سے مربوط کرنے کے قائل تھے۔ان کی شخصیت میں عالم اور کارکن، استاد اور منتظم، محقق اور مقرر، مصنف اور ادارہ ساز ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک ہی فکری شخصیت کے مختلف پہلو تھے۔

کشمیر، عالمِ اسلام اور عالمی فکر
شمارے میں شامل تحریروں سے پروفیسر خورشید احمد کی عالمی اسلامی فکر اور ملّی وابستگی کے مختلف پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ ’’اہلِ کشمیر کے پشتیبان‘‘ اور ’’وسطی ایشیا میں احیائے دین‘‘ جیسے عنوانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان کی توجہ محض مقامی یا قومی مسائل تک محدود نہ تھی۔اسلامی دنیا کے سیاسی، فکری اور تہذیبی مسائل ان کے مطالعے اور گفتگو کا حصہ رہے۔ وہ عالمِ اسلام کو ایک وسیع فکری اور تہذیبی وحدت کے تناظر میں دیکھتے تھے اور اسلامی احیاء کو جدید دنیا کے چیلنجز کے جواب کے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔

’’میری کہانی، میری زبانی‘‘: شخصیت کا اندرونی منظرنامہ
شمارے کا ایک قیمتی حصہ ’’میری کہانی، میری زبانی‘‘ ہے۔ کسی شخصیت کے بارے میں دوسروں کی لکھی ہوئی سوانح اہم ہوتی ہے، لیکن جب انسان خود اپنی زندگی کے نشیب و فراز بیان کرے تو شخصیت کا ایک اندرونی منظرنامہ بھی سامنے آتا ہے۔اسی طرح نانا راجا غلام حسین اور والدِ گرامی کے حوالے سے شامل لوازمہ پروفیسر خورشید احمد کی شخصیت کو صرف ایک عالمی دانش ور کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک گھر اور ایک انسانی رشتوں کے نظام سے وابستہ فرد کے طور پر بھی دکھاتا ہے۔یہی چیز کسی سوانح کو خشک تاریخ بننے سے بچاتی ہے اور اسے انسانی زندگی کی ایک زندہ داستان میں بدل دیتی ہے۔

مکاتیب: شخصیت کے آئینے
’’مکتوبات‘‘ کسی بھی شخصیت کے بارے میں تحقیق کا نہایت قیمتی ماخذ ہوتے ہیں۔ رسمی مضامین میں آدمی اپنے آپ کو جس طرح پیش کرتا ہے، خطوط میں اس کی شخصیت زیادہ بے ساختہ انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔خطوط میں تعلقات کی حرارت، فکر کی بے ساختگی، ذاتی ترجیحات، روزمرہ کے معاملات اور ذہنی کیفیتوں کے ایسے نقوش ملتے ہیں جو رسمی تحریروں میں عموماً محفوظ نہیں رہتے۔اس اعتبار سے ’’خطوط بنام خورشید احمد‘‘ اس خصوصی شمارے کی دستاویزی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں اور مستقبل کے محققین کے لیے بھی مفید مواد فراہم کرتے ہیں۔

یادداشتیں: ایک شخص کے کئی عکس
’’جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے‘‘ کے عنوان سے شامل یادداشتیں اس شمارے کی جذباتی اور انسانی روح ہیں۔کسی شخصیت کا سب سے معتبر تعارف ہمیشہ اس کے عہدوں اور کتابوں سے نہیں ہوتا؛ کبھی اس کے شاگردوں، ساتھیوں، دوستوں اور رفقا کی یادوں میں اس کی اصل شخصیت زیادہ واضح ہوتی ہے۔ان یادداشتوں میں کہیں استاد کا عکس ہے، کہیں رہنما کا، کہیں دوست کا، کہیں محقق کا اور کہیں ایک ایسے انسان کا جس کی رفاقت نے دوسروں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔یہی وجہ ہے کہ یہ حصہ محض جذباتی یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک شخصیت کے سماجی اور انسانی اثرات کا غیر رسمی مگر مؤثر ریکارڈ بھی ہے۔

منظوم خراجِ عقیدت: حرف سے احساس تک
شاعری میں کسی عالم کی علمی خدمات کا مکمل تحقیقی جائزہ ممکن نہیں، لیکن شاعری اس محبت کو محفوظ ضرور کر لیتی ہے جو کسی شخصیت کے انتقال کے بعد دلوں میں باقی رہ جاتی ہے۔’’بیادِ خورشید احمد مرحوم‘‘، ’’استادوں کا استاد‘‘، ’’حرف زندہ رہتے ہیں‘‘، ’’اِس پیکرِ خورشید کے نام‘‘ اور ’’ان کی طرح کوئی نہیں‘‘ جیسے منظومات پروفیسر خورشید احمد سے وابستہ عقیدت کو شعری اظہار عطا کرتے ہیں۔یوں اس شمارے میں نثر فکر، تاریخ اور تحقیق کو محفوظ کرتی ہے، جب کہ نظم احساس، محبت اور عقیدت کو۔

اعداد کے آئینے میں ایک علمی زندگی
اگر پروفیسر خورشید احمد کی علمی زندگی کو اعداد کی زبان میں دیکھا جائے تو اس کی وسعت اور بھی نمایاں ہوتی ہے:

پیدائش: ۲۳ مارچ ۱۹۳۲ء، دہلی
وفات: ۱۳ اپریل ۲۰۲۴ء، لندن
ایم اے معاشیات: ۱۹۵۵ء
ایل ایل بی: ۱۹۵۹ء
ایم اے اسلامیات: ۱۹۶۴ء
اعزازی پی ایچ ڈی: ۳
اداروں میں عہدے: ۶
پانچ ممالک میں اعلیٰ ذمہ داریاں
اردو میں مطبوعہ کتابیں: ۲۴
اردو و انگریزی میں ترجمہ شدہ/مرتبہ کتابیں: ۱۱
تصنیف و ترتیب کی مطبوعات: ۲۹
بین الاقوامی کانفرنسوں و سیمیناروں میں شرکت، خطابات و صدارت: ۱۶۹
مختلف اردو و انگریزی رسائل و جرائد سے ادارت کا تعلق
سینیٹ کی رکنیت
اسلامی جمعیتِ طلبہ کی نظامتِ اعلیٰ
جماعتِ اسلامی کی نائب امارت

یہ اعداد ایک ایسے انسان کی علمی و عملی سرگرمیوں کا خاکہ پیش کرتے ہیں جس نے زندگی کے مختلف میدانوں میں بیک وقت کام کیا۔

طباعت، تدوین اور اداریاتی حسن
۴۰۴ صفحات کا ضخیم شمارہ ترتیب دینا بذاتِ خود ایک بڑا کام ہے۔ کسی خصوصی شمارے کی کامیابی صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوتی کہ اس میں کتنی تحریریں شامل ہیں؛ اصل امتحان انتخاب، ترتیب، تدوین، پروف خوانی، ابواب کی تنظیم اور لوازمہ کو ایک مربوط وحدت میں پیش کرنے کا ہے۔’’پروفیسر خورشید احمد نمبر‘‘ میں لوازمہ کو مختلف ابواب میں تقسیم کرکے ایک ایسا تسلسل پیدا کیا گیا ہے جس سے قاری پہلے ’’چراغِ راہ‘‘ کی روایت سے آشنا ہوتا ہے، پھر شخصیت کے خاندانی و ذاتی پس منظر میں داخل ہوتا ہے، اس کے بعد فکری و علمی خدمات کا مطالعہ کرتا ہے، یادداشتوں اور مکاتیب سے گزرتا ہے اور آخر میں منظوم خراجِ عقیدت تک پہنچتا ہے۔یہ ترتیب شمارے کو محض مضامین کے مجموعے کے بجائے ایک باقاعدہ علمی دستاویز بناتی ہے۔

ایک تنقیدی سوال: کیا یہ صرف خراجِ عقیدت ہے؟
یادگاری شماروں کا ایک عمومی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ شخصیت کے بارے میں عقیدت غالب آ جاتی ہے اور تنقیدی فاصلہ کم ہو جاتا ہے۔ کسی بڑے آدمی کے انتقال کے بعد اس کے اوصاف بیان کرنا آسان ہے، مگر اس کے علمی کام کا غیر جانب دار تجزیہ زیادہ مشکل۔’’پروفیسر خورشید احمد نمبر‘‘ کی قدر و قیمت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں محض شخصی عقیدت نہیں بلکہ ان کے علمی اور فکری کام کے مختلف پہلوؤں کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔تاہم کسی بھی بڑے مفکر کی علمی میراث کا حتمی جائزہ ایک ہی یادگاری شمارے میں مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ شمارہ دراصل آئندہ تحقیق کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مستقبل کے محققین ان کی کتابوں، مقالات، اداریوں، خطوط، خطابات اور فکری مباحث کو الگ الگ موضوعات کے تحت پرکھ سکتے ہیں، ان کے استدلال، مصادر، فکری اثرات، معاصرین سے اختلافات اور بعد کے علمی مباحث پر ان کے اثرات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔اسی تناظر میں یہ شمارہ اختتام نہیں بلکہ تحقیق کے ایک نئے آغاز کی حیثیت رکھتا ہے۔

ماضی سے مستقبل تک
آج کا عہد تیز رفتار اطلاعات کا عہد ہے۔ چند سطروں کی پوسٹ، چند منٹ کی ویڈیو اور فوری تبصرہ ہمارے مطالعے اور فکری رویوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ۴۰۴ صفحات کا ایک سنجیدہ علمی شمارہ شائع کرنا محض ادبی سرگرمی نہیں بلکہ فکری مزاحمت بھی ہے۔’’چراغِ راہ‘‘ کی واپسی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ گہرے خیالات کو چند جملوں میں ہمیشہ سمیٹا نہیں جا سکتا۔ بعض سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے کتاب چاہیے، بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے تحقیق درکار ہوتی ہے اور بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے پورا عہد پڑھنا پڑتا ہے۔پروفیسر خورشید احمد بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ان کی زندگی کو صرف ایک ماہرِ معاشیات، صرف ایک اسلامی مفکر، صرف ایک سیاسی کارکن یا صرف ایک مدیر کے عنوان سے بیان کرنا ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ ان سب حوالوں کے مجموعے کا نام تھے۔

چراغ سے چراغ تک
پروفیسر خورشید احمد کی زندگی کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ علم اگر زندگی سے نہ جڑے تو وہ محض ذخیرۂ معلومات بن کر رہ جاتا ہے۔ انہوں نے علم کو تحریک سے، تحقیق کو عمل سے، فکر کو معاشرے سے اور اسلامی اصولوں کو عصرِ حاضر کے مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی۔اور ’’چراغِ راہ‘‘ کی دوبارہ اشاعت بھی اسی پیغام کی علامت ہے۔ایک چراغ کبھی صرف اپنی روشنی کے لیے نہیں جلتا؛ وہ دوسرے چراغوں کو روشن کرنے کا امکان پیدا کرتا ہے۔ پروفیسر خورشید احمد نے اپنے قلم، تدریس، تصنیف، تحقیق، ادارت، تقریر اور ادارہ سازی کے ذریعے علم کے کئی چراغ روشن کیے۔ اب ’’چراغِ راہ‘‘ کی نئی اشاعت ان چراغوں کی روشنی کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

’’پروفیسر خورشید احمد نمبر‘‘ اس اعتبار سے ایک یادگاری شمارے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ایک علمی شخصیت کی زندگی، فکر اور خدمات کا تعارفی و دستاویزی آئینہ ہے؛ ’’چراغِ راہ‘‘ کی علمی روایت کا احیاء ہے؛ ماضی اور حال کے درمیان ایک فکری پل ہے اور مستقبل کے محققین کے لیے ایک قابلِ قدر نقطۂ آغاز بھی۔ ۴۰۴ صفحات میں سمٹی ہوئی یہ داستان دراصل ایک طویل علمی سفر کی داستان ہے۔ ۲۴ اردو کتابیں، ۱۱ ترجمہ شدہ یا مرتبہ کتابیں، ۲۹ تصنیفی و ترتیبی مطبوعات، ۱۶۹ بین الاقوامی علمی سرگرمیاں اور زندگی کے بے شمار تدریسی، اداریاتی، تحقیقی، تنظیمی اور قومی تجربات—یہ سب مل کر ایک ایسی شخصیت کا نقش بناتے ہیں جسے ایک لفظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

پروفیسر خورشید احمد کا جسمانی سفر اختتام پذیر ہوا، مگر فکر کا سفر اختتام پذیر نہیں ہوتا۔ کتابیں باقی رہتی ہیں، تحریریں باقی رہتی ہیں، شاگرد باقی رہتے ہیں، ادارے باقی رہتے ہیں، یادیں باقی رہتی ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ سوال باقی رہتے ہیں جن کے جواب تلاش کرنے کے لیے ایک عالم اپنی پوری زندگی صرف کر دیتا ہے۔اسی لیےچراغِ راہ پھر روشن ہوگیا ہے۔اب اصل ذمہ داری یہ ہے کہ اس چراغ کی لو صرف ماضی کی یاد کو روشن نہ کرے بلکہ آنے والے زمانے کے فکری راستوں کو بھی منور کرے؛ تحقیق کا ذوق زندہ کرے، مطالعے کی عادت کو فروغ دے، علمی مکالمے کے دروازے کھولے اور نئی نسل کو یہ احساس دلائے کہ قوموں کی فکری زندگی مختصر نعروں سے نہیں، بلکہ کتاب، تحقیق، دلیل، مکالمے اور مسلسل علمی جدوجہد سے تعمیر ہوتی ہے۔

’’پروفیسر خورشید احمد نمبر‘‘ اسی روشن سفر کا پہلا سنگِ میل ہے۔ چراغ جل چکا ہے؛ اب ضرورت ہے کہ اس کی روشنی کو چراغ سے چراغ، دل سے دل، نسل سے نسل اور علم سے عمل تک پہنچایا جاتا رہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment