ہوم << سیرتِ نبوی ﷺ: محبت، اتباع اور عملی زندگی میں اسوۂ رسول ﷺ – محمد عدنان
600x314

سیرتِ نبوی ﷺ: محبت، اتباع اور عملی زندگی میں اسوۂ رسول ﷺ – محمد عدنان

مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر

تمہید
فیصل مسجد اسلام آباد میں بعد نمازِ ظہر منعقد ہونے والے اس درس میں ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے سیرتِ طیبہ کے حوالے سے نہایت اہم، ایمان افروز اور عملی گفتگو فرمائی۔ آپ نے سب سے پہلے فیصل مسجد میں تشریف لانے والے معزز نمازی حضرات کو خوش آمدید کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اپنے گھر میں حاضر ہونے، باجماعت نماز ادا کرنے اور اپنے ذکر و عبادت کے لیے وقت نکالنے کی توفیق عطا فرمائی۔

آپ نے مسجد کے آداب کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے گھر میں حاضر ہونے کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کی پاکیزگی کا اہتمام کرے۔ باوضو اور پاک صاف ہو کر مسجد میں آئے، نماز کا وقت ہو تو باجماعت نماز میں شریک ہو اور اگر نماز کا وقت نہ ہو تو نوافل، تلاوت، تسبیحات اور ذکر و اذکار میں وقت گزارے۔ خواتین کے لیے پردے اور شرعی حجاب کی پابندی کی تاکید فرمائی اور واضح کیا کہ بے پردگی مسجد کے تقدس اور اسلامی آداب کے خلاف ہے۔ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر، عبادت، اصلاح اور روحانی تربیت کا مرکز ہے۔ اس لیے یہاں آنے والے ہر شخص کو اس کے تقدس اور آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔

سیرتِ رسول ﷺ کی اہمیت
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ہمارے ملک میں سیرتِ رسول اکرم ﷺ کے حوالے سے بڑے پیمانے پر پروگرام منعقد ہو رہے ہیں جو خوش آئند امر ہے۔ لیکن سیرتِ طیبہ کا مقصد صرف جلسے، پروگرام، تقاریر یا چند مخصوص دنوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سیرتِ رسول ﷺ ہماری پوری زندگی کا عملی دستور بننی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں ایسی عظمت، رحمت، عدل، اخلاق اور انسانیت کی خیر خواہی موجود ہے۔ کہ اگر ان تعلیمات کو اخلاص کے ساتھ کسی غیر مسلم کے سامنے بھی پیش کیا جائے تو اس کے دل پر اثر پڑتا ہے اور اس کا دل نرم ہو سکتا ہے۔ پھر جو شخص مسلمان ہے اس کے لیے تو نبی کریم ﷺ کی سیرت سے وابستگی ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنا، سمجھنا، اس پر غور کرنا اور اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ صرف نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعویٰ کافی نہیں محبت کا حقیقی ثبوت اتباع اور اطاعت ہے۔

نبی کریم ﷺ سے محبت، اللہ تعالیٰ سے محبت کا راستہ
ڈاکٹر صاحب نے اس اہم حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ نبی کریم ﷺ سے سچی محبت دراصل اللہ تعالیٰ سے محبت کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت بھی نبی کریم ﷺ سے محبت کا ایک اہم تقاضا اور اس کا عملی ثبوت ہے۔صحابہ کرام وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ کی صحبت اختیار کی۔ آپ ﷺ کے اقوال و افعال کو محفوظ کیا اور پھر انہیں پوری امانت داری کے ساتھ امت تک پہنچایا۔ انہوں نے دین میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کی بلکہ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے دین سکھایا، اسی طرح اسے آگے منتقل کیا۔قرآن کریم نے ان عظیم نفوس کے مقام کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظیم قربانیوں، اخلاص اور محبت کا مقام ہے۔

محبتِ رسول ﷺ صرف دعویٰ نہیں، اتباع کا نام ہے
ڈاکٹر صاحب نے نہایت فکر انگیز انداز میں فرمایا کہ آج ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت اور محبت کا نام تو لیتے ہیں، لیکن اگر ہماری زندگی کے طریقے، معاملات، اخلاق اور ترجیحات رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے بجائے ان لوگوں کے طریقوں کے مطابق ہوں جو آپ ﷺ کی مخالفت کرتے تھے تو یہ ہمارے دعوائے محبت کے لیے انتہائی تشویش ناک بات ہے۔محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کے طریقے کو اختیار کرے۔ اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کے اخلاق، معاملات، عبادات، معاشرت، صداقت، امانت، عدل، رحم، عفو و درگزر اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کے بغیر محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ بھی ناقص رہتا ہے۔ کیونکہ یہی وہ مقدس جماعت ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی محبت کا سب سے عظیم عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبتِ رسول ﷺ
ڈاکٹر صاحب نے صحیح بخاری میں مذکور حضرت عروہ بن مسعود ثقفی کے واقعے کی طرف توجہ دلائی۔ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر وہ قریش کی طرف سے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا۔ واپس جا کر انہوں نے قریش کے سامنے صحابہ کرام کی رسول اللہ ﷺ سے محبت اور عقیدت کا ایسا نقشہ پیش کیا جس سے ان کے دلوں پر بھی اثر ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کے ساتھ کس قدر محبت اور ادب سے پیش آتے ہیں۔ آپ ﷺ وضو فرماتے تو صحابہ کرام آپ ﷺ کے وضو کے پانی کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے آپ ﷺ کا لعابِ دہن اگر کسی صحابی تک پہنچتا تو وہ اسے زمین پر گرنے نہ دیتے بلکہ اپنے جسم پر مل لیتے۔

یہ محض ظاہری عقیدت نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایمان، محبت، ادب، اطاعت اور قربانی کا وہ جذبہ تھا جس نے انہیں دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے وابستہ کر دیا تھا۔ حضرت عروہ نے اس کیفیت کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا کہ ایسے لوگوں کو کسی دنیاوی لالچ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے جدا کرنا ممکن نہیں۔ وہ لوگ اپنے نبی ﷺکے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار تھے، لیکن آپ ﷺ پر کسی قسم کی آنچ برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی محبت انسان کو قربانی، وفاداری اور اتباع کے لیے تیار کرتی ہے۔

صحابہ کرام کی قربانیاں اور اسلام کا ہم تک پہنچنا
ڈاکٹر صاحب نے اس حقیقت کو بھی واضح فرمایا کہ آج ہمارے پاس جو اسلام محفوظ حالت میں موجود ہے اس کے پیچھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے مثال قربانیاں ہیں۔ انہوں نے اپنے گھروں، مال، تجارت، آرام، وطن اور بعض اوقات اپنی جانوں تک کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے قربان کر دیا۔ انہوں نے دین کو صرف اپنے لیے محفوظ نہیں رکھا بلکہ پوری دنیا تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ اسی لیے ہمیں دین اور سیرت کو معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ دین ہم تک بڑی قربانیوں کے بعد پہنچا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ اسے صحیح طور پر سمجھیں، اس پر عمل کریں اور آنے والی نسلوں تک امانت کے ساتھ پہنچائیں۔

نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور ہماری عملی زندگی
درس کے ایک نہایت اہم حصے میں ایک روایت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ کردار کی اصلاح کا نام ہے۔ آپ ﷺ نے امت کے لیے ایسی بنیادی ہدایات بیان فرمائیں جو ہر دور کے مسلمان کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان میں خصوصاً تین باتوں پر عمل کی تاکید کی گئی:

1۔ زبان کو جھوٹ سے محفوظ رکھنا
پہلی تعلیم یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کو جھوٹ سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ حق و سچ کا ساتھ دے۔ آج معاشرے میں بہت سے مسائل جھوٹ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی کسی کی خوشنودی کے لیے جھوٹ بولا جاتا ہے، کبھی کاروبار میں، کبھی ملازمت میں، کبھی گھریلو معاملات میں اور کبھی اپنے فائدے کے لیے حقیقت چھپائی جاتی ہے۔سیرتِ رسول ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مسلمان کا کردار صداقت پر قائم ہونا چاہیے۔ اسے حالات جیسے بھی ہوں، سچ کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

2۔ امانت میں خیانت نہ کرنا
دوسری بنیادی تعلیم امانت کی حفاظت ہے۔ امانت صرف کسی کے پاس رکھی ہوئی رقم یا چیز کا نام نہیں۔ ملازمت بھی امانت ہے، عہدہ بھی امانت ہے، کاروبار بھی امانت ہے، ذمہ داری بھی امانت ہے اور کسی انسان کے سپرد کیا گیا کام بھی امانت ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے عہدے کا غلط استعمال کرے، ملازمت کے اوقات میں خیانت کرے، کاروبار میں دھوکا دے۔ لوگوں کے حقوق دبائے یا کسی ذمہ داری کو صحیح طریقے سے ادا نہ کرے تو وہ امانت کے تقاضے پورے نہیں کر رہا . لہٰذا سیرتِ نبوی ﷺ کا تقاضا ہے کہ مسلمان ہر حال میں امانت دار بنے۔

3۔ پڑوسی کے حقوق ادا کرنا
تیسری اہم تعلیم پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔ اسلام نے پڑوسی کے حقوق کو بہت اہمیت دی ہے۔ صرف یہ کافی نہیں کہ انسان اپنے پڑوسی کو نقصان نہ پہنچائے۔ بلکہ اس کے دکھ درد میں شریک ہونا، اس کے حالات معلوم کرنا، ضرورت کے وقت اس کا سہارا بننا اور اسے تکلیف سے بچانا بھی اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔ آج ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے قریبی پڑوسی کے حالات سے بھی واقف نہیں ہوتے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہمیں باہمی تعلق، خیر خواہی اور ہمدردی کا درس دیتی ہیں۔ اگر ہم سچائی، امانت اور پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنے لگیں تو ہمارے گھروں، محلوں اور پورے معاشرے میں ایک عظیم اخلاقی انقلاب آ سکتا ہے۔

سیرتِ رسول ﷺ سیکھنا اور نئی نسل تک پہنچانا
ڈاکٹر صاحب نے حاضرین کو یہ احساس دلایا کہ سیرتِ رسول ﷺ کو سیکھنا صرف علماء، ائمہ یا خطباء کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں خود سیرت پڑھنی چاہیے، اپنے بچوں کو سیرت سکھانی چاہیے، اپنے گھروں میں رسول اللہ ﷺ کے اخلاق اور سنتوں کا ذکر کرنا چاہیے اور اپنی خواتین کی بھی اس جانب توجہ مبذول کرانی چاہیے۔صرف یہ کافی نہیں کہ ہم بچوں کو نبی کریم ﷺ کا نام، چند واقعات یا چند دعائیں یاد کرا دیں اصل مقصد یہ ہے کہ بچے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق، سچائی، رحم، امانت، عبادت، عدل اور حسنِ معاشرت کو اپنی زندگی میں اختیار کریں۔ اسی طرح خواتین بھی گھر کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر ماں سیرتِ رسول ﷺ سے واقف ہو اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارے تو پوری نسل کی تربیت پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آج سے نئی زندگی کا عہد
ڈاکٹر صاحب نے نہایت مؤثر انداز میں فرمایا کہ جو وقت گزر گیا وہ واپس نہیں آسکتا۔ اگر ہماری زندگی کا ایک حصہ غفلت میں گزر گیا تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گزشتہ کوتاہیوں کی معافی مانگ کر آج سے نئی ابتدا کرنی چاہیے۔

ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ:
– ہم سیرتِ *رسول ﷺ* کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے۔
– اپنی زندگی کو *سنتِ نبوی ﷺ* کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔
– اپنے معاملات میں سچائی اور امانت کو اختیار کریں گے۔
– اپنے پڑوسیوں اور معاشرے کے حقوق ادا کریں گے۔
– اپنے بچوں کو سیرتِ *رسول ﷺ* سے روشناس کرائیں گے۔
– اپنے گھروں کو اسلامی تعلیمات کا مرکز بنائیں گے۔
– *صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین* کی زندگیوں کو پڑھیں گے۔
– محبتِ *رسول ﷺ* کو محض زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ یہی سیرتِ نبوی ﷺ کا حقیقی پیغام اور محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا ہے۔

پاکستان اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعا
درس کے اختتام پر ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے نہایت توجہ اور خشوع کے ساتھ دعا کرائی۔اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت کو صحیح معنوں میں سمجھنے، سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سچی اور خالص محبت نصیب فرمائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔دعا کی گئی کہ جس طرح صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ سے بے مثال محبت کی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس محبت کا کچھ حصہ نصیب فرمائے اور ہماری زندگیوں کو سنت و سیرت کے مطابق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے، اسے امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے، جس مقصد کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا اس مقصد کو پورا فرمائے۔ اسلام کا بول بالا فرمائے اور پاکستان کو سیرتِ رسول ﷺ کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک مؤثر اور نمایاں مقام عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں، ہماری خواتین اور ہماری آنے والی نسلوں کو دین کا محافظ بنائے انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنائے۔ ہماری عبادات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور فیصل مسجد میں آنے والے تمام نمازیوں کی جائز ضروریات پوری فرمائے۔

فیصل مسجد میں موجودگی کے آداب اور اختتامی پیغام
آخر میں نمازی حضرات کو اس طرف بھی متوجہ کیا گیا کہ جب تک وہ فیصل مسجد میں موجود رہیں۔ اپنے وقت کو غفلت اور غیر ضروری گفتگو میں ضائع کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ذکر، تسبیحات، کلمۂ طیبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ اور درود شریف کی کثرت میں گزاریں۔ فیصل مسجد میں حاضری ایک بڑی سعادت ہے اس لیے اس موقع کو صرف نماز ادا کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے ذکر، فکر، تلاوت، دعا اور اصلاحِ نفس کا ذریعہ بنایا جائے۔

خلاصۂ درس
اس پورے درس کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ سیرتِ رسول اللہ ﷺ صرف پڑھنے یا سننے کا موضوع نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔

محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی ثبوت
آپ ﷺ کی اتباع، آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنانا، آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنا اور دین کو اپنی ذات، گھر، معاشرے اور آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں۔
لیکن کیا ہماری زبان سچ بولتی ہے؟ کیا ہم امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں؟
کیا ہم اپنے پڑوسیوں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہمارے گھر سنتِ رسول ﷺ کے مطابق چل رہے ہیں؟
کیا ہم اپنے بچوں کو سیرت سکھا رہے ہیں؟ اور کیا ہمارے اخلاق و معاملات میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات نظر آتی ہیں؟

اگر ان سوالات کا جواب عملی طور پر ہاں میں آ جائے تو یہی ہماری محبتِ رسول ﷺ کی سب سے خوبصورت علامت ہوگی۔ اللہ رب العزت ہمیں سیرتِ طیبہ کو صحیح معنوں میں سیکھنے، سمجھنے، اپنانے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت اور سنت پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔ ہمارے گھروں، معاشرے اور ملک پاکستان کو سیرتِ رسول ﷺ کے نور سے منور فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔