تاریخ کے سینے میں چودہ اگست کا دن صرف ایک عدد کی صورت درج نہیں، بلکہ یہ ہماری قومی بصیرت، حافظے اور آنے والی نسلوں کی آنکھوں میں بسا ایک زندہ سوال ہے۔ ہم نے آکاش کی وسعتوں میں ایک نیا نام اور نقشے پر ایک نیا جغرافیہ تو تراش لیا، مگر جغرافیہ پا لینا ہی خواب کی تکمیل نہیں ہوتا۔ مکان بن جانا الگ بات ہے اور گھر کا وجود میں آنا بالکل مختلف؛ بالکل اسی طرح ریاست سرحدوں سے وجود میں آتی ہے، مگر قوم کی تشکیل انسان کے اندرونی وجود سے ہوا کرتی ہے۔
سرحدیں نقشے پر کھینچنا آسان ہے، مگر انسانی کردار کا کوئی نقشہ نہیں ہوتا؛ دستور کتابوں کے صفحوں پر محفوظ ہو سکتا ہے، مگر انصاف انسان کے باطن کی گہرائیوں میں جنم لیتا ہے۔قوموں کا اصل بحران معاشی یا سیاسی زوال نہیں ہوا کرتا، بلکہ زوال کی سیاہی اس وقت چہرے پر مل دی جاتی ہے جب ضمیر اور مفاد کے معرکے میں مفاد فتح یاب ہو جائے۔ جب سچ بولنا بے وقوفی اور جھوٹ ہنر بن جائے، جب قابلیت سفارش کی بھینٹ چڑھ جائے اور جب منصب کو خدمت کے بجائے مراعات کا ذریعہ سمجھ لیا جائے، تو مسئلہ نظام کی عمارت کا نہیں رہتا، انسان کے باطن کا بن جاتا ہے۔ ہم نے آزادی کو محض ایک سیاسی واقعے کے طور پر دیکھا ہے، حالانکہ آزادی کا ایک عمیق تر مفہوم اور بھی ہے۔ آزادی صرف یہ نہیں کہ ہم پر کسی غیر کی حکمرانی نہ ہو، بلکہ آزادی یہ ہے کہ ہمارا ذہن جہالت، تعصب، لالچ اور شخصیت پرستی کی زہرآلود زنجیروں سے آزاد ہو۔
جس ذہن کو سوال کرنے کی اجازت نہیں اور جس تعلیم میں تجسس کی رمق باقی نہ رہے، وہ ذہنوں میں معلومات تو انڈیل سکتی ہے، مگر شعور کی بیداری پیدا نہیں کر سکتی۔
آج کی تبدیل شدہ دنیا میں قوموں کا حقیقی دفاع صرف ہتھیاروں کی جھنکار نہیں بلکہ بیدار ذہنوں کی روشنی ہوا کرتی ہے۔ ہمیں ایسی درسگاہوں کی ضرورت ہے جہاں بچوں کو صرف جواب رٹائے نہ جائیں بلکہ ان میں سوال اٹھانے کی جسارت پیدا کی جائے۔ ہمیں ڈگریوں سے زیادہ دریافتیں اور ملازمتوں کے جویا نوجوانوں سے زیادہ مسئلہ حل کرنے والے بیدار مغز انسان چاہییں۔ پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے معدنی ذخائر یا دریا نہیں، بلکہ اس کے نوجوانوں کے وہ ذہن ہیں جو امکانات کے افق کو چھو سکتے ہیں۔ مگر امکان اگر علم اور اخلاقی تربیت سے نہ جڑے تو ہجوم بن کر بکھر جاتا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں لفظوں کو آواز تو مل گئی ہے، مگر وزن صرف سچائی، تحقیق اور ذمہ داری سے پیدا ہوتا ہے۔ آزاد زبان کے ساتھ کردار کو پابند ہونا چاہیے اور آزاد قلم کے ساتھ ضمیر کو بیدار رہنا چاہیے۔
قومی تعمیر کا یہ سفر کسی ایک لیڈر، ایک جماعت یا ایک قلم کار کا مرہونِ منت نہیں ہو سکتا۔ یہ سفر تب طے ہوتا ہے جب کروڑوں انسان اپنے اپنے مختصر دائرۂ اختیار میں خرابی کا حصہ بننے سے انکار کر دیں۔ ایک استاد اپنے طالب علم میں تجسس زندہ رکھے، ایک تاجر نفع کمائے مگر اعتماد کا سودا نہ کرے، ایک افسر اختیار کو امانت سمجھے اور ایک نوجوان اپنی انگلیوں سے تنقید کے بجائے مستقبل تخلیق کرنے لگے۔ جب تک ہمارے اندر سچ، انصاف اور احترامِ آدمیت زندہ ہے، تبھی تک پاکستان واقعی زندہ ہے۔ چودہ اگست کی حقیقی صبح اس وقت طلوع ہوگی جب ہمارے شہروں میں روشنیوں سے زیادہ ضمیر روشن ہوں گے، اور جب پرچم محض فضا میں لہرانے کے بجائے کروڑوں جیتے جاگتے، باکردار انسانوں کے اندر لہرائے گا۔ یہی وہ گھڑی ہوگی جب جغرافیے کا یہ خواب انسان کی اخلاقی رفعت میں ڈھل کر مکمل ہو جائے گا۔



تبصرہ لکھیے