بچوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات: ایک خاموش طوفان اور ہماری سماجی ذمہ داری
جموں و کشمیر سے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے اعداد و شمار دل دہلا دینے والے بھی ہیں اور لمحہ فکریہ بھی۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، سال 2020ء سے 2024ء کے دوران صرف ایک خطے میں بچوں کے اغوا اور جبراً اٹھائے جانے کے 2,182 مقدمات درج ہوئے، جن میں 2,254 معصوم جانیں متاثر ہوئیں۔
اگرچہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان میں سے 2,143 بچوں کو زندہ بازی یاب کر کے قابلِ تحسین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن محض بازی یابی اس ناسور کا مکمل علاج نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ واقعات رونما کیوں ہو رہے ہیں اور ان کے تدارک کے لیے معاشرے اور ریاست کو بحیثیت مجموعی کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
اعداد و شمار کا بین السطور جائزہ
سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو 2020ء میں 293 کیسز سے شروع ہونے والا یہ سفر 2022ء میں عروج پر پہنچا جہاں 513 کیسز درج ہوئے۔ اگرچہ 2023ء (486) اور 2024ء (412) کے دوران ان اعداد و شمار میں معمولی کمی ضرور واقع ہوئی ہے، لیکن گراف کا یہ نیچے آنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ ہر ایک عدد کے پیچھے ایک خاندان کی تباہی، والدین کی سسکیاں اور ایک معصوم بچے کا خوفناک ذہنی صدمہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب اعداد و شمار انسانی جانوں اور بچوں کے مستقبل سے جڑ جائیں تو وہ محض سرکاری فائل کے صفحات نہیں رہتے بلکہ پورے نظامِ معاشرت پر ایک سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔
اس المیے کے محرکات کیا ہیں؟
بچوں کے اغوا جیسے سنگین جرم کے پیچھے کئی تاریک محرکات کارفرما ہوتے ہیں:
پہلا انسانی اسمگلنگ (Human Trafficking) کیس ہے جو بدقسمتی سے بچوں کو جبری مشقت، غیر قانونی گود لینے کے چکر یا دیگر بھیانک مقاصد کے لیے استعمال کرنے والا ایک منظم مافیا سرگرم ہے۔
دوسرا خاندانی و گھریلو تنازعات کا سبب ہے۔ بعض اوقات گھریلو ناچاقی، طلاق یا جائیداد و دشمنی کی رنجشوں میں بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
تیسرا بڑا المیہ ڈیجیٹل دنیا اور عدم توجہی کا سبب ہے۔ جدید دور میں بچوں کا آن لائن دنیا سے بڑھتا ہوا ربط اور والدین کی طرف سے عدم توجہی بھی بعض اوقات مجرموں کے لیے آسان ہدف فراہم کرتی ہے۔
بازی یابی کافی نہیں، پیشگی بچاؤ ضروری ہے
یہ امر انتہائی اطمینان بخش ہے کہ پولیس اور متعلقہ اداروں نے بڑی تعداد میں بچوں کو بحفاظت ان کے والدین تک پہنچایا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بچے کے بازی یاب ہو جانے سے اس کے اور اس کے خاندان کے دل پر لگنے والے زخم بھر جاتے ہیں؟ نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ جرم وقوع پذیر ہی نہ ہو۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں:
چوتھا جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نا ہونے کے برابر ہے ۔اسکولوں، شاہراہوں اور حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کا جال بچھایا جائے اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی مانیٹرنگ سسٹمز سے مدد لی جائے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اجنبیوں سے احتیاط برتنے کے بنیادی اصول سکھائیں، اور خود بھی بچوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں۔ سخت سے سخت ترین سزائیں نافذ ہوں۔بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے لیے قانون میں موجود سقم کو دور کیا جائے اور مقدمات کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا تاکہ قانون کا خوف مجرموں کے دل میں بیٹھ جائے۔بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل اور اس کا سب سے خوبصورت سرمایہ ہوتے ہیں۔
اگر گلاب جیسے نازک بچے ہی محفوظ نہیں رہیں گے تو ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ یہ صرف پولیس یا حکومت اکیلے کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے پوری قوم کو، والدین سے لے کر قانون سازوں تک، ایک ہو کر بیدار ہونا ہوگا۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے بچے خوف کے سائے میں نہیں، بلکہ آزادی اور تحفظ کے ماحول میں پروان چڑھیں۔



تبصرہ لکھیے