ہوم << حضرت داؤد کا شہر اور سلوان کا ابوبکر – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ
600x314

حضرت داؤد کا شہر اور سلوان کا ابوبکر – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

یروشلم کا سب سے پرانا قدیم اور اصل حصہ فصیل کے اندر نہیں ہے۔یہ بات پہلی بار سننے والے کو چونکا دیتی ہے۔ سولہویں صدی میں سلیمان عالیشان کے معماروں نے جب یہ فصیل اٹھائی تو اصل یروشلم، وہ پہاڑی جہاں اس شہر کا پہلا پتھر رکھا گیا تھا ، دیواروں سے باہر رہ گئی۔ نیچے ڈھلوان میں ایک فلسطینی گاؤں کے گھروں کے بیچ صدیوں کی مٹی اوڑھے۔کیوں ؟

اس کا جواب تاریخ یہ دیتی ہے کہ جب ایک سو چالیس عیسوی میں رومی شہنشاہ ہیڈرون نے یہودیوں کو مکمل طور پر یروشلم سے نکال دیا تو اس نے اس سرزمین سے ان کی تاریخ ان کا نام ونشان ۔ ان کی تمام علامتیں بھی مٹانے کا ارادہ کر لیا. اس نے اس سر زمین کا نام یہودہ سے بدل کر فلسطین رکھ دیا اس فلسطی قوم کی یاد میں جو تین ہزار سال پہلے مغرب سے بحیرہ روم کے رستے یہاں آئی تھی ۔ ہیکل ثانی کی جگہ اپنے دیوتا جیوپٹر کا مندر تعمیر کروایا اور حضرت داؤد کے بسائے یروشلم کو مکمل طور پر مسمار کر دیا اور اس کی جگہ اپنے دیوتا جیوپیٹر کی یاد میں ایک نیا شہر بسایا جسے اس نے ایلیاء کپٹیلینا کا نام دیا اور یوں حضرت داؤد کا یروشلم وقت کی گرد میں دفن ہو کر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔ تاریخ قصہ پارینہ ضرور بنتی ہے لیکن منوں مٹی کے نیچے بھی زندہ رہتی ہے ۔ مٹی میں دبے کھنڈرات کی صورت میں اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی کہانیوں کی شکل میں ۔

ہیڈرین کا بسایا ایلیاء آج موجودہ یروشلم کی صورت میں زندہ ہے تو حضرت داؤد کا شہر کھنڈرات کی صورت میں مٹی کے نیچے زندہ رہا ۔ الاکمہ سٹریٹ کے پار ، ڈنگ دروازے اور صہیون گیٹ کے درمیان نیچے پھیلی تیروپین وادی کے سلوان گاؤں میں اسی شہرِ داؤد کے کھنڈرات ہیں۔ جو حضرت داؤد علیہ السلام نے آج سے تین ہزار برس پہلے بسایا تھا۔ داؤد کا شہر ، جسے عربی میں قریۃ سلوان یعنی سلوان گاؤں اور عبرانی میں عیر داؤد کہا جاتا ہے ۔ قدیم یروشلم کا اصل تاریخی مقام اور اس کا اولین مرکز ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں تقریباً چار ہزار برس پہلے یروشلم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس کے کھنڈرات فصیل کے جنوب میں الاکمہ سٹریٹ کے بائیں جانب قیدرون اور تیروپین وادیوں کے درمیان وادی کے اندر ایک تنگ پہاڑی پر بکھرے پڑے ہیں۔ اس جگہ سب سے پہلے اٹھارہ سو برس قبل مسیح میں کنعانی قوم نے ایک قلعہ نما شہر بسایا تھا جس کا نام یبوس تھا۔

پھر تاریخ نے کروٹ لی۔ جب یہودی حضرت یشوع کی قیادت میں مصر سے واپس آئے تو وہ چھوٹے چھوٹے بارہ قبیلوں میں منقسم تھے جو حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کی اولاد میں سے تھے۔ قبیلے الگ ڈیرے الگ پرچم الگ پھر طالوت آیا۔ اس کے لشکر نے جالوت کے جرار لشکر کو شکست دے کر یہودیوں کو فلسطی قوم کے چنگل سے آزاد کروایا ۔ اور خود جالوت اسی لشکر کے ایک سپاہی کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام داؤد تھا۔ قرآن نے سورۂ بقرہ میں یہ فیصلہ صرف تین لفظوں میں لکھ دیا ہے ۔
وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ : اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا۔
طالوت نے پہلی مرتبہ قبائلی بنیادوں پر بٹے یہودی معاشرے کو ایک قوم میں بدل دیا اور انہیں ایک پرچم تلے جمع کیا۔ روایتوں میں اس کی مدتِ حکومت مختلف بیان ہوتی ہے کم و بیش دو عشرے۔ اس کی سلطنت کا دارالحکومت جِبعہ تھا۔ طالوت سے یہودیوں کے سنہری دور اور عروج کا آغاز ہوتا ہے۔

طالوت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام بادشاہ بنے۔ پہلے سات برس انہوں نے ہیبرون کو اپنا دارالحکومت بنائے رکھا ۔۔ پھر تقریباً ایک ہزار قبل مسیح میں اس کنعانی قلعے کو فتح کیا اور اسے متحدہ اسرائیلی بادشاہت کا دارالحکومت بنا دیا ۔ جسے سلطنتِ داؤد یا متحدہ سلطنتِ اسرائیل کہتے ہیں۔ یوں ان کی چالیس برس کی حکومت میں سے سات برس ہیبرون کے حصے میں آئے اور تینتیس برس یروشلم کے۔ ان کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے تقریباً چالیس برس حکومت کی۔ یہ متحدہ سلطنت کم و بیش ایک صدی قائم رہی ۔ ۹۳۱ قبل مسیح میں جب حضرت سلیمان کے بیٹے رحبعام کی تخت نشینی ہوئی تو اس تخت نشینی کے ساتھ یہ سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی ۔۔ سلطنتِ اسرائیل اور سلطنتِ یہودہ۔ دس قبیلے رحبعام کو چھوڑ کر سلطنت اسرائیل میں جا بسے ۔ جس کا درالسلطنت سامریہ تھا ، رحبعام کے ساتھ صرف یہودہ اور بنیامین کے لوگ رہ گئے اور چونکہ اس میں یہودہ قبائیل کے لوگ اکثریت میں تھے اور حکمران تھے کیونکہ حضرت داؤد کا تعلق یہودہ قبیلے سے تھا اس لئے رحبعام کا ملک سلطنت یہودہ کہلایا ۔

سات سو اکیس قبل مسیح میں آشوری بادشاہ سرگون دوئم نے سامریہ فتح کر کے سلطنت اسرائیل کا خاتمہ کر دیا اور وہاں رہینے والے دس قبیلے ہمیشہ کے لئے تاریخ کے دھندلکوں میں کہیں گم ہو گئے ۔ سلطنت یہودہ کا دار سلطنت یروشلم تھا جو پانچ سو چھیاسی قبل میسح میں بخت نصر کے ہاتھوں تباہ ہو گیا جو یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا ۔ اور یوں حضرت داؤد کی بنائی عظیم الشان سلطنت تو ہمیشہ کے لئے قصہ پارینہ بن گئی لیکن ان کا بسایا شہر یہودیوں نے واپس آکر دوبارہ بسا لیا ۔ یہ شہر تقربیاً ہزار سال تک قائم رہا اور پھر ستر عیسوی میں رومی جنرل ٹائٹس نے اسے جلا کر راکھ کا ایسا ڈھیر بنایا کہ پھر دوبارہ کبھی نہ بس سکا ۔ ایک سو چالیس عیسوی میں جب رومی شہنشاہ ہیڈرین نے شہر داؤد کی جگہ نیا شہر ایلیاء کیپولینا کے نام سے بسایا تو شہر داؤد اگلے دوہزار سال کے لئے مٹی کے ٹیلوں میں دفن ہو کر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔ جس پہاڑی پر تاریخ نے یہ کھیل کھیلا ۔ وہ موجود رہی جس پر اب سلوان کی بستی آباد ہے اور اس کے نیچے شہر داؤد دفن ہے ۔ اٹھارہ سو سڑسٹھ میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ چارلس وارن نے یہ شہر دریافت کیا اور اب رفتہ رفتہ کھدائی ذریعے اسے نکالا جا رہا ہے ۔

شہرِ داؤد کی زیارت کے بغیر یروشلم کی سیر مکمل نہیں ہوتی۔ اس کی سیر کے لیے کم از کم تین چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اس شہر کے قابلِ دید مقامات میں حضرت داؤد کا محل ، سلوان (حزقیاہ) کی سرنگ اور سلوان کا تالاب شامل ہیں۔ ایک پتھریلی سڑک بھی حال ہی میں دریافت ہوئی ہے جس پر چل کر زائرین سلوان تالاب سے ہیکل تک جایا کرتے تھے۔ اسے شاہی سڑک یا زائرین کی شاہراہ کہتے ہیں۔ اس سڑک کے دونوں طرف کبھی دکانیں ہوا کرتی تھیں جنہیں اب مصنوعی طور پر بحال کیا گیا ہے۔ کسی دکان میں اناج کی بوریاں رکھی نظر آتی ہیں تو کسی میں پھل اور سبزیاں۔ ایک دکان نما جگہ پر تو بکریوں کے مجسمے بھی رکھے نظر آئے ۔ جو شاید قربانی کے جانور بیچنے والی جگہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اکثر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان بھی اسی علاقے میں کہیں دفن ہیں ۔ جبکہ کچھ یہودیوں کا نظریہ ہے کہ ان کا مقبرہ جبلِ صہیون پر واقع ہے۔

اور یہ سب کچھ ، محل ، تالاب، سرنگ، شاہراہ مسلمانوں کے محلے سلوان میں ان کے مکانوں کے درمیان موجود ہے۔ سلوان کی غالب اکثریت مسلمان ہے جو صدیوں سے یہاں رہتے چلے آ رہے ہیں۔ اب چونکہ اسرائیلی حکومت مسلسل ان کھنڈرات کی دریافت کے لیے یہاں کھدائی میں مصروف ہے ۔ اور ہر کھنڈر کی کھدائی درجنوں فلسطینیوں کو ان کے گھر اور چھت سے محروم کر دیتی ہے ۔ اس لیے یہاں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔شہرِ داؤد یروشلم کی اصل بنیاد ہے۔ سلوان کی پہاڑی ہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت داؤد نے دارالحکومت بنایا ۔ حضرت سلیمان نے اپنا محل تعمیر کیا ۔ اور حزقیاہ نے چٹان کاٹ کر سرنگ نکالی۔ یہاں تین ہزار برس کی تاریخ کے کئی ادوار تہہ در تہہ موجود ہیں ۔ جیسے کسی بند کتاب کے اوراق ہوں ۔ ایک کے اوپر دوسرا۔ فصیل اگر ایک بند کتاب ہے تو یہ پہاڑی اس کا پہلا ورق ہے ۔

وہ ورق جو جلد سے باہر جا گرا اور جسے اٹھانے پر اسے کھوجنے پر اب ایک نیا جھگڑا کھڑاہو چکا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت داؤد کے شہر کے کھنڈرات ہی نہیں ہیں ۔ اس پرانے شہر پر اب ایک نئی بستی آباد ہو چکی ہے۔ یہ صرف آثارِ قدیمہ کا ایک مقام نہیں رہا ۔ صدیوں سے اس جگہ بسنے والے زندہ انسانوں کا مسکن بھی ہے ۔ کئی نسلوں کی جنم بھومی۔ جن کے آباؤاجداد بھی یہیں پیدا ہوئے اور اسی مٹی میں ان کھنڈرات کے اوپر دفن ہوئے ۔ اسی لیے یہ جگہ یروشلم کے اکثر مقامات کی طرح مذہبی ، سیاسی اور نسلی تنازعے کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں قدیم پتھر اور جدید سیاست، مرنے والوں کے کھنڈرات اور زندوں کے مکانات ، آپس میں اس بری طرح گڈمڈ ہیں کہ ماضی کو حال سے علیحدہ کر کے دیکھنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ کون صحیح ہے اور کون غلط نہ عقل فیصلہ کر پاتی ہے اور نہ دل ۔

ہمیں سلوان کی گلیوں میں پھرتے ہوئے قطعاً اس کا ادراک نہ ہوسکا کہ ہم تاریخ کے کس دوراہے پر کھڑے ہیں ۔ سلوان کی ٹنل ، حضرت داؤد کے محل اور جیحوں کے چشمے کی سحر انگیز تاریخ میں ایسے گم ہوئے کہ ان کھنڈرات کے اردگرد آباد مکانوں اور ان میں رہنے والے مکینوں پر نظر ہی نہ گئی ۔ ہمیں بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اسرائیل میں ان کے مقدس شہر کے کھنڈرات کے اوپر بستی بسانے کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے۔ اس کی ایک سزا بھی ہے ۔ اور وہ قیمت کس نے چکائی ۔یہ سزا کس نے کاٹی ۔ یہ ہمیں چند سو قدم اوپر مسمی مالٹوں کے ایک ٹھیلے پر جا کر معلوم ہو ا۔

سلوان کا ابو بکر :
جس کا گھر داؤد کے محل کے اوپر آباد تھا ۔ اس شام ہمیں ایک ایسا شخص ملا جس کا گھر ایک نبی کے محل کے اوپر کھڑا تھا۔ اور یہی اس کا سارا قصور تھا۔ حضرت داؤد کے شہر کی سیر کے بعد ہم دوبارہ الاکمہ سٹریٹ پر آ گئے۔ سورج اب ڈھلنے لگا تھا لیکن اس کی شعاعوں کی تندی و تیزی برقرار تھی۔ جسم پسینے سے شرابور تھے ۔ ٹانگیں اب جواب دینے لگی تھیں۔

میں نے گھڑی دیکھی ۔ سترہ ہزار قدم۔ جب سے یروشلم آئے تھے ۔ اتنا پیدل کبھی نہیں چلے تھے۔ لیکن ابھی تو آدھا سفر طے ہوا تھا۔ چار دروازوں کی سیر ہوئی تھی ۔ چار دروازے ابھی باقی تھے۔اوپر آ کر ہم ڈنگ گیٹ کے سامنے بنے خوبصورت پارک میں آ گئے۔ خوب گہما گہمی تھی۔ سڑک کے کنارے کئی ریڑھی والے مسمی مالٹوں کا جوس بیچ رہے تھے۔ ان سے کچھ فاصلے پر کھوکھے جیسی دکانیں بھی تھیں جہاں کھانے پینے کی چیزیں بک رہی تھیں ۔ غرض ایک میلہ سا لگا تھا۔ہم ایک ٹھیلے والے کے پاس جا کر رک گئے جس نے اپنے ٹھیلے کے گرد چھتریاں لگا رکھی تھیں۔ ان رنگ برنگی چھتریوں کے نیچے آرام دہ کرسیاں پڑی تھیں۔بھاری جسم ، ناٹا قد ، آدھا، گنجا سر، پکا رنگ، ایک میلی کچیلی سی سرخ شرٹ پہنے اس ادھیڑ عمر فلسطینی ٹھیلے والے کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی ۔

بچوں جیسی نرم، خوبصورت ،معصومیت بھری جیسے شبنم میں دھلی ہو۔ جسم اور چہرے کا ایسا تضاد میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ہمیں دیکھ کر اس نے اھلاً و سہلاً کہا اور بیٹھنے کی دعوت دی۔ ہم تین گلاس جوس کا آرڈر دیتے ہوئے چھتریوں کی چھاؤں میں بیٹھ گئے۔تازہ مسمی مالٹوں کا جوس نکالتے ہوئے اس نے ہم سے پوچھا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔بلال نے ترنت جواب دیا۔
“پاکستان سے۔”
پاکستان کا نام سن کر اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ۔ چہرے پر بہار کے رنگ چھا گئے ۔ آنکھیں جھلملانے لگیں۔ اس کی تندہی و تیزی میں اضافہ ہو گیا اور وہ اور پھرتی سے کام کرنے لگا۔

اس نے جوس نکالا اور برف ڈال کر گلاس ہمیں بڑی محبت سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ “وہ پاکستان سے اور پاکستانیوں سے بہت پیار کرتا ہے۔”
“تمہارا نام کیا ہے؟”میں نے اس سے پوچھا۔
“ابو بکر عبدالصمد۔”اس نے جواب دیا۔
“میں سلوان کا رہنے والا ہوں۔”اس نے سڑک کے پار جبلِ صہیون کی ڈھلوان پر پھیلے گاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔
“ہم ابھی وہیں سے آ رہے ہیں۔ ہم شہرِ داؤد دیکھنے گئے تھے۔ تمہارا گاؤں بڑا خوبصورت ہے ابو بکر۔”
میں نے اس کے گاؤں کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔

“جب تم اگلی بار آؤ گے تو اس پھولوں بھرے گاؤں کی جگہ تمہیں صرف شہرِ داؤد کے کھدے ہوئے کھنڈرات ملیں گے۔”
اس نے ایک آہ بھری۔
تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کوئی بڑا دکھ اپنے اندر چھپائے بیٹھا ہے۔
“وہ کیسے؟”میں نے استفسار کیا۔
“کیا بتاؤں صاحب۔” وہ بڑا دکھی سا نظر آنے لگا۔ اس کے چہرے کی وہ خوبصورت معصومیت بھری مسکراہٹ یکدم کہیں غائب ہو گئی تھی۔ اس کی جگہ خزاں کی زردی چھا گئی تھی ۔ جس پر دکھ کی لکیریں کھنچی تھیں۔

“زمین سے نکلنے والے ہر کھنڈر کی قیمت ہمیں اپنے گھر کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ ایک کھنڈر کئی گھرانوں کو بے گھر کر دیتا ہے۔”
پھر اس نے وہ کہانی سنائی جو دل چیر گئی ۔ جو کسی گائیڈ بک میں نہیں لکھی تھی ۔ شاید کبھی کسی اخبار کسی میگزین کی زینت نہیں بنی تھی ۔
“آج سے گیارہ سال پہلے میرا گھر ، میرے باپ دادا کا گھر ،جس میں میرا خاندان کئی صدیوں سے آباد تھا ، اس کھدائی کی زد میں آیا۔ مجھے راتوں رات گھر خالی کرنے کا نوٹس ملا۔ میں نے انکار کیا تو اگلے دن میرا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ میں ، میری بوڑھی ماں اور بال بچے سڑک پر آ گئے۔ اور میں اکیلا نہیں تھا۔ پوری گلی خالی کروائی گئی تھی جس میں کوئی پچاس سے زیادہ گھر تھے۔ چار سو سے زائد لوگ راتوں رات بے گھر اور در بدر ہو گئے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ گلی حضرت داؤد کے محل کے اوپر آباد تھی۔ اسے کھودا گیا تو نیچے سے ان کے محل کی وہ ایک دیوار نکلی ۔ جو تم لوگوں نے بھی دیکھی ہو گی۔ ہم یروشلم سٹی کونسل اور محکمہ آثارِ قدیمہ کے خلاف عدالت میں گئے۔ آج گیارہ سال ہو گئے ہیں ۔ میرا مقدمہ آج بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے لیکن نہ تو فیصلہ کرتے ہیں اور نہ ہی مجھے کوئی معاوضہ دیتے ہیں۔”

اس کی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔
“اب تم کہاں رہتے ہو؟”میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔
“اگلی گلی میں میرے سسرال کا گھر ہے۔ ان کے ساتھ رہتا ہوں۔ لیکن اب اس گلی کی باری ہے ۔ کھدائی وہاں تک بھی پہنچنے والی ہے۔ شاید اس کے نیچے بھی داؤد کے محل کی کوئی دیوار چھپی ہو ۔ پھر پتہ نہیں ہم کہاں جائیں گے۔ جوں جوں کھدائی آگے بڑھ رہی ہے ۔ سلوان اجڑتا جا رہا ہے ۔ وہاں رہنے والے مہاجر بنتے جا رہے ہیں۔”
اس کے لہجے میں بے بسی جھلکنے لگی۔

“ہمارا گھر محلے کا بہترین گھر تھا۔ بہت کشادہ ۔ بہت بڑا ۔ پھولوں پودوں سے بھرا۔ بڑا صحن تھا ۔ جس میں دالانوں پر پھولوں کی بیلیں چڑھی تھیں ۔۔ میرا باپ زیتون کا بڑا تاجر تھا۔ اس نے گھر کو بہت خوبصورت بڑی محبت اور محنت سے بنایا تھا۔ میرا بھائی جو اس گھر میں میرے ساتھ رہتا تھا ۔ نابلس چلا گیا۔ میری ماں نے محلہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ اٹھارہ سال کی تھی جب بیاہ کر اس گھر میں آئی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کے ساٹھ سال اس گھر کو دیے تھے۔ اس کے ایک ایک کونے سے ایک گوشے گوشے سے اس کی یادیں وابستہ تھیں۔دو سال ہوئے اس کا انتقال ہوا۔ وہ مرتے دم تک اپنے گھر کو یاد کرتی رہی۔ میں بھی اسی گھر میں پیدا ہوا تھا۔ میرا سارا بچپن ۔۔ میری جوانی اس گھر میں گزری تھی۔ میرے بچے اسی گھر میں پیدا ہوئے ۔ وہیں جوان ہوئے تھے ۔ مجھے آج بھی وہ گھر بڑا یاد آتا ہے۔ لیکن ظالموں نے مجھ سے وہ گھر چھین لیا۔”
اس کی آواز درد سے پھٹنے لگی تھی ۔

“آج میرے گھر کی جگہ داؤد کے محل کی دیوار ہے۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے نشانات پانے کے لیے ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کو گھروں سے نکال رہے ہیں۔ ہماری چھتیں ہم سے چھین رہے ہیں اور کوئی معاوضہ بھی دینے کو تیار نہیں۔”
اس کی آواز رندھنے لگی۔ لگتا تھا جیسے وہ ابھی بلک بلک کر رونے لگے گا۔
“شہرِ داؤد برآمد ہو جائے گا لیکن سلوان برباد ہو جائے گا۔ یہ گاؤں صلاح الدین کے ساتھ آنے والوں نے بسایا تھا۔ آٹھ سو سال سے ہمارے بزرگ یہاں رہتے تھے۔ ان کی قبریں بھی اس زمین پر موجود ہیں۔ وہ اپنے بزرگوں کی قبریں ڈھونڈنے کے لیے ہمارے باپ دادا کی قبریں ہم سے چھین رہے ہیں۔

مجھے اس پر اعتراض نہیں کہ وہ یہاں کیوں کھدائی کر رہے ہیں۔ لیکن سلوان کے باسیوں کا کیا قصور ہے؟ اگر میرا گھر حضرت داؤد کے محل پر آباد تھا تو اس میں میرا اور میرے بچوں کا کیا قصور ہے؟ میری ماں کو کس جرم کی سزا ملی؟ انہیں کم از کم ہمیں اس کا معاوضہ تو دینا چاہیے ۔ کسی اور جگہ گھر دینا چاہیے۔”
اس کی آواز میں اب دکھ بھری تلخی جھلکنے لگی تھی۔
وہ ٹھیک کہتا تھا۔ ساری دنیا کا یہ مروجہ قانون ہے کہ اگر محکمہ آثارِ قدیمہ والے کسی شہری آبادی میں کھدائی کرتے ہیں تو وہاں کے رہنے والوں کو اس کا معاوضہ دیا جاتا ہے ۔ انہیں کہیں دوسری جگہ بسایا جاتا ہے۔
لیکن اس دیس کی تو لیلا ہی نرالی تھی۔

وہ خود دو ہزار سال کے بعد لوٹے تھے اور اپنے آپ کو اس زمین کا حق دار سمجھتے تھے ۔ لیکن جو یہاں ڈیڑھ ہزار سال سے آباد ہیں ۔ انہیں ان کا حق دینے کو تیار نہیں۔ وہ ان کے نزدیک یہاں کے ناجائز قابض تھے۔ غاصب تھے ۔ یہ داستان سلوان پر ختم نہیں ہوتی ۔ سارا ارضِ مقدس اسی دکھ کی زد میں ہے۔
اور ابو بکر اکیلا نہیں تھا۔ ہزاروں لاکھوں اس کے ہم وطن بھی اسی ظلم ۔ اسی سوچ کا شکار تھے۔ کئی ملین تو یہاں کی سرحدوں سے بھی دور ۔۔ بہت دور ۔۔دوسرے ملکوں میں مہاجروں کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
یہ نوحہ ۔۔ یہ دکھ تو برکت والی اس سرزمین کے ہر بدنصیب کا مقدر بن چکا ہے۔
میں نے محل کی وہ دیوار ابھی کوئی ایک گھنٹہ پہلے ہی دیکھی تھی۔
پتھروں کی ایک اونچی قطار۔ اس کے نیچے چند کمروں کے کھنڈرات اور بس۔

مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ اس ایک دیوار کی دریافت کے لیے اتنے زیادہ لوگوں کے ارمانوں کے محلات کا خون ہوا ہے ۔ اتنے زیادہ گھر اجڑے ہیں ۔ اس قدر زیادہ لوگ در بدر ہوئے ہیں۔ میرا دماغ پھٹنے لگا ۔۔ زبان گنگ ہو گئی۔ میں خاموش رہا۔
میں کہتا بھی کیا۔ میرے پاس تو اسے دلاسا دینے ۔۔ اس کا غم بٹانے کے لیے بھی الفاظ نہیں تھے۔ مجھے لگا جیسے میں ہی اس کا مجرم ہوں۔ میں شرمندگی سے ۔ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ اب سر جھکائے ہمارے لیے دوسرا گلاس بنا رہا تھا۔ گیارہ برس پرانا مقدمہ عدالت کی الماریوں میں دھول کھا رہا تھا ۔ اور تازہ جوس ہمارے ہاتھوں میں تھا۔

میں نے ہمیشہ تاریخ سے محبت کی تھی۔ یہ سوچا تھا کہ تاریخ متنازع ہو سکتی ہے لیکن سانجھی ہوتی ہے ۔ساری انسانیت کا ورثہ ہوتی ہے۔ لیکن آج شہرِ داؤد کے کنارے بیٹھ کر ڈنگ گیٹ کے باہر جوس پیتے ہوئے ،اابو بکر کی بھری آنکھوں کی برسات اور چہرے پر چھائی خزاں دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ تاریخ بہت خوبصورت ہوتی ہے۔ اس سے بڑا سچ کوئی نہیں ہوتا لیکن اپنی تاریخ کو زندہ رکھنے کے لیے دوسروں کی تاریخ کو مٹانا ، انہیں در بدر کر دینا ، اس سے بڑا ظلم بھی کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
(جاری ہے )

“یہ تحریر میری دوسری کتاب “ اہل وفاکی بستی “ میں شامل ہے جو فلسطین اور اردن کے سفر کی یاد داشتوں پر مبنی ہے ۔ “

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment