انسان مرتا ہے تو صرف اس کا جسم دنیا سے رخصت ہوتا ہے؛ اس کی بہت سی چیزیں جانے سے انکار کر دیتی ہیں۔ کسی کے چلنے کا انداز، کسی کے بولنے کی نرمی، کسی مشکل گھڑی میں خود کو سنبھالنے کا ہنر، کسی بھوکے کو دیکھ کر بے چین ہو جانے والی آنکھ، کسی کے دکھ پر خاموشی سے ہاتھ رکھ دینے کی عادت، یہ سب موت کے ساتھ دفن نہیں ہوتے۔ یہ کسی نہ کسی دل میں اپنا گھر بنا لیتے ہیں اور پھر نسلوں تک سفر کرتے رہتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہمارے والدین نے جنم دیا، مگر حقیقت شاید اس سے کہیں وسیع ہے۔ ہمیں صرف دو انسان جنم نہیں دیتے؛ ہمارے وجود کی تعمیر میں ان گنت خاموش ہاتھ شامل ہوتے ہیں۔ وہ بزرگ جن کی انگلی پکڑ کر ہم نے چلنا سیکھا، وہ عورتیں جنہیں دیکھ کر ہمیں معلوم ہوا کہ گھر صرف اینٹوں سے نہیں، مزاج سے بنتا ہے، وہ مرد جن کے کردار نے ہمیں بتایا کہ وقار شور نہیں کرتا۔۔۔ سب ہمارے اندر کہیں نہ کہیں آباد ہو جاتے ہیں۔ کبھی ہم کسی مصیبت میں اچانک اپنے آپ کو غیر معمولی مضبوط پاتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ یہ حوصلہ کہاں سے آیا؟
شاید کسی بزرگ کی زندگی سے آیا تھا۔کبھی کسی اجنبی کے دکھ پر دل بے اختیار نرم پڑ جاتا ہے۔شاید کسی دادی کی خدمت گزاری ابھی ہمارے اندر سانس لے رہی ہوتی ہے۔کبھی ہم تنہائی میں بھی اپنے رب سے تعلق نہیں توڑ پاتے۔شاید کسی ماں یا نانی کی وہ عبادت، جسے ہم بچپن میں محض ایک معمول سمجھتے تھے، ہماری روح میں اپنا چراغ رکھ گئی ہوتی ہے۔بزرگ ہمیں ہمیشہ نصیحتوں سے نہیں بناتے۔بعض اوقات وہ ہمیں صرف اپنی زندگی دکھا کر بنا جاتے ہیں۔یہی تربیت کی سب سے گہری صورت ہے۔الفاظ کانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کردار خون کی طرح گردش کرتا ہے۔اسی لیے گھر میں بچوں سے کہی ہوئی ہزار باتیں بھلا دی جاتی ہیں، مگر وہ ایک منظر نہیں بھولتا جس میں انہوں نے اپنی ماں کو کسی مجبور کی مدد کرتے دیکھا تھا؛ وہ ایک صبح نہیں بھولتی جب دادا بیماری کے باوجود نماز کے لیے اٹھے تھے؛ وہ ایک جملہ نہیں بھولتا جو کسی بزرگ نے غصے کے عالم میں بھی زبان سے نہیں نکلنے دیا تھا۔
بچے ہماری تقریریں کم اور ہماری زندگی زیادہ یاد رکھتے ہیں۔اور شاید یہی انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ہم ہر لمحہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کچھ لکھ رہے ہیں۔۔۔ اپنے رویوں سے، اپنے فیصلوں سے، اپنی ترجیحات سے، حتیٰ کہ اپنی خاموشیوں سے بھی۔ہم انہیں صرف جائیداد، نام، تعلیم یا دولت نہیں دے رہے ہوتے؛ ہم انہیں یہ بھی سکھا رہے ہوتے ہیں کہ طاقت ملے تو کیا کرنا ہے، کمزوری آئے تو کیسے جینا ہے، کسی کا دل ٹوٹ جائے تو کیا رویہ رکھنا ہے، اور تنہائی میں انسان اپنے رب کے ساتھ کیسا ہوتا ہے۔اس لیے کبھی کبھی اپنے بچوں کو دیکھنے سے پہلے اپنے آپ کو دیکھ لینا چاہیے۔کیونکہ ممکن ہے وہ ہماری باتیں نہ دہرائیں، مگر ہماری زندگی ضرور دہرا دیں۔ہم اپنی اولاد کو دنیا میں بھیجتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں مستقبل دے رہے ہیں؛ حقیقت میں وہ ہمارے ماضی کو بھی اپنے ساتھ مستقبل میں لے جا رہے ہوتے ہیں۔
ہم میں ہمارے بزرگوں کے گزرے ہوئے دن زندہ رہتے ہیں۔اور ہم میں ہمارے بعد آنے والوں کے آنے والے دن۔شاید یہی نسلوں کا سب سے عجیب اور مقدس رشتہ ہے: جو گزر گئے، وہ مکمل طور پر گزرے نہیں؛ جو ابھی آئے بھی نہیں، وہ کسی نہ کسی صورت ہم میں موجود ہیں۔اس لیے انسان کو اپنی زندگی صرف اپنے لیے نہیں گزارنی چاہیے۔کیا خبر ہماری ایک نیکی کسی ایسے شخص کی زندگی میں پہنچ جائے جسے ہم کبھی دیکھ بھی نہ پائیں۔کیا خبر ہماری ایک دعا کسی آنے والی نسل کی روح کا سہارا بن جائے۔کیا خبر ہمارے ضبط سے کسی بیٹے کو صبر ملے، ہماری دیانت سے کسی پوتے کو راستہ ملے، ہماری عبادت سے کسی نواسی کے دل میں خدا کا چراغ روشن ہو جائے۔
تب سمجھ آتا ہے کہ انسان کی اصل عمر اس کے سانسوں کی تعداد نہیں۔اصل عمر وہ ہے جتنی دیر تک اس کا کردار کسی اور انسان کے اندر زندہ رہتا ہے۔شاید اسی لیے کچھ لوگ مر کر بھی نہیں مرتے۔
وہ اپنے بچوں کی آنکھوں میں نہیں،ان کے فیصلوں میں زندہ رہتے ہیں۔اپنی اولاد کی آواز میں نہیں،ان کے لہجے کی نرمی میں زندہ رہتے ہیں۔اپنے گھروں میں نہیں،ان گھروں میں زندہ رہتے ہیں جو ان کے بعد آباد ہوتے ہیں۔اور شاید ہماری زندگی کا سب سے خوب صورت سوال یہی ہے:جب ہم دنیا سے چلے جائیں گے تو ہمارے اندر کا کون سا حصہ کسی اور انسان کے اندر زندہ رہے گا؟



تبصرہ لکھیے