ہوم << منافق کی چار نشانیاں اور ایک سچے مسلمان کا کردار – محمد عدنان
600x314

منافق کی چار نشانیاں اور ایک سچے مسلمان کا کردار – محمد عدنان

درس بعد نمازِ ظہر
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد

حدیث مبارکہ
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ
(صحیح البخاری، حدیث: 34، صحیح مسلم، حدیث: 58)
ترجمہ: جس شخص میں یہ چار خصلتیں جمع ہو جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک علامت موجود ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔

جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ اور جب کسی سے جھگڑا کرے تو حد سے بڑھ جائے (گالم گلوچ اور ناشائستہ زبان استعمال کرے)۔

درس کی تشریح
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے اس حدیث کی روشنی میں نہایت اہم اور اصلاحی گفتگو فرمائی۔ آپ نے واضح کیا کہ یہ منافقتِ اعتقادی نہیں بلکہ منافقتِ عملی کی نشانیاں ہیں۔ اگر ایک مسلمان میں یہ برائیاں پیدا ہو جائیں تو اسے فوراً اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ صفات انسان کے ایمان کو کمزور اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں۔

1۔ امانت میں خیانت:
اسلام میں امانت صرف مال و دولت تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ چیز امانت ہے جو کسی نے اعتماد کے ساتھ آپ کے سپرد کی ہو۔ کسی کے پیسے یا سامان میں خیانت کرنا۔ دفتر، ادارے یا تنظیم کے راز دوسروں تک پہنچانا. میاں بیوی، والدین اور اولاد کے درمیان نجی باتوں کو افشا کرنا۔ سرکاری ملازم کا سرکاری معلومات یا راز ظاہر کرنا۔ یہ سب خیانت کی صورتیں ہیں اور ایک مومن کی شان کے خلاف ہیں۔

سبق:جس دل میں امانت داری ہوتی ہے وہی *اللہ تعالیٰ* کے نزدیک قابلِ اعتماد ہوتا ہے۔ امانت کی حفاظت دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔

2۔ جھوٹ بولنا
آپ نے فرمایا کہ جھوٹ مسلمان کی پہچان نہیں بلکہ منافق کی علامت ہے۔ایمان انسان کو سچائی کی طرف لے جاتا ہے۔ جبکہ جھوٹ انسان کو گناہ، بے اعتمادی اور رسوائی میں مبتلا کر دیتا ہے۔آج افسوس کے ساتھ جھوٹ کو کاروبار، سیاست، معاملات اور روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی۔
سبق:سچائی وقتی طور پر مشکل محسوس ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کا انجام ہمیشہ عزت، اعتماد اور اللہ کی رضا ہے۔

3۔ وعدہ خلافی
مومن اپنے وعدے کا پابند ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے توجہ دلائی کہ ہم نے کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں گے۔ اگر ہم جان بوجھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو چھوڑ دیتے ہیں تو یہ بھی وعدہ خلافی کی ایک شکل ہے۔اسی طرح لوگوں سے کیے ہوئے وعدے پورے کرنا بھی ایمان کا تقاضا ہے۔
سبق: وعدہ پورا کرنے والا شخص اللہ اور بندوں دونوں کے نزدیک محبوب ہوتا ہے جبکہ وعدہ توڑنے والا اعتماد کھو دیتا ہے۔

4۔ لڑائی میں حد سے بڑھ جانا
جب بعض لوگوں کا کسی سے اختلاف ہوتا ہے تو وہ گالی گلوچ، الزام تراشی، کردار کشی اور ناشائستہ زبان استعمال کرنے لگتے ہیں۔اسلام اختلاف کی اجازت دیتا ہے لیکن بدزبانی، گالی، بہتان اور ظلم کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔مومن غصے کے وقت بھی اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے۔
سبق: اصل بہادری غصے میں خود پر قابو رکھنا ہے نہ کہ دوسروں کو ذلیل کرنا۔

دین کی بات پوری توجہ سے سننے کی ضرورت
ڈاکٹر صاحب نے نہایت مؤثر انداز میں فرمایا کہ جب قرآن و حدیث کی بات ہو رہی ہو تو اسے پوری توجہ، ادب اور عمل کی نیت سے سننا چاہیے۔صرف سن لینا کافی نہیں بلکہ دل میں یہ عزم ہونا چاہیے کہ میں اس تعلیم پر عمل کروں گا اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کی کوشش کروں گا۔یہ مناسب نہیں کہ دینی مجلس شروع ہوتے ہی انسان بے توجہی اختیار کرے یا اٹھ کر چلا جائے۔

اولاد کی صحیح تربیت ہماری ذمہ داری
آپ نے والدین کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کریں۔صرف مہنگے تعلیمی اداروں میں داخلہ دلانا کامیابی نہیں بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ بچے قرآن سے محبت کریں۔سنتِ رسول ﷺ پر عمل کریں۔سچ بولیں۔امانت دار بنیں۔وعدہ پورا کریں. اچھے اخلاق کے مالک ہوں۔اگر تعلیم کردار نہ بنا سکے تو وہ تعلیم معاشرے کے لیے فائدہ مند نہیں رہتی۔

معاشرے کی ایک خطرناک سوچ
ڈاکٹر صاحب نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج اگر کوئی بچہ جھوٹ بول کر دوسروں کو دھوکہ دے یا چالاکی دکھائے تو اسے “ہوشیار” اور “سمارٹ” کہا جاتا ہے۔ جبکہ سچ بولنے والے بچے کو “سادہ” یا “کمزور” سمجھا جاتا ہے۔یہ سوچ ہماری تربیت کی خرابی کو ظاہر کرتی ہے۔اسلام میں اصل ذہانت اللہ کی اطاعت، سچائی، دیانت اور حسنِ اخلاق میں ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور مکاری میں۔

حاصلِ درس
امانت میں خیانت ایمان کے خلاف ہے۔جھوٹ منافق کی علامت ہے مومن ہمیشہ سچ بولتا ہے۔وعدہ پورا کرنا ایمان کی نشانی ہے۔اختلاف کے وقت بھی زبان اور اخلاق کی حفاظت ضروری ہے۔قرآن و حدیث کی بات عمل کی نیت سے سننی چاہیے۔اولاد کی دینی اور اخلاقی تربیت والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ معاشرے میں سچائی، دیانت اور حسنِ اخلاق کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دعا
اللہ تعالیٰ میں نفاق کی تمام عملی علامتوں سے محفوظ رکھے۔ امانت دار، سچا، وعدے کا پابند اور بہترین اخلاق والا مسلمان بنائے۔ ہماری اولاد کو قرآن و سنت سے محبت کرنے والا نیک اور صالح بنائے اور ہمیں اپنی زندگی کے ہر شعبے میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد عدنان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment