(جب محبت ملی تو دروازہ بند تھا)
شام کا سورج آہستہ آہستہ مغرب کی طرف جھک رہا تھا۔ آسمان پر سنہری اور لال رنگ کی دھاریاں پھیل رہی تھیں، جیسے کسی نے آگ اور سونے کا پانی ایک ساتھ بہا دیا ہو۔ ہوا میں چمبیلی اور رات کی رانی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ پرانے باغیچے کے درمیان، جہاں بلند چنار کے درختوں کی شاخیں ایک دوسرے میں گوندھی ہوئی تھیں، ایک پتھریلی سیڑھی پر بیٹھی نیرہ اپنے ہاتھوں میں ایک مرجھاتی ہوئی گلاب کی کلی کو گھما رہی تھی۔
اس کے بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے، اور شام کی مدھم روشنی میں اس کا چہرہ کسی پرانی تصویر کی طرح نرم اور شفاف لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاموش انتظار تھا۔
پشت سے قدموں کی آہستہ سی آواز آئی۔ نیرہ نے سر اٹھایا تو سکندر درختوں کے سائے سے نکلتا ہوا نظر آیا۔ سفید قمیض کے اوپر ہلکا سا خاکی جیکٹ، اور اس کی آنکھوں میں وہی پرانی مسکراہٹ جو ہمیشہ نیرہ کے دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ پیدا کر دیتی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ قریب آیا اور اس کے سامنے، سیڑھی کے نچلے حصے پر بیٹھ گیا۔ دونوں کے درمیان صرف چند اینٹوں کا فاصلہ تھا۔ باغ میں پرندوں کی چہچہاہٹ اب دم توڑ رہی تھی، اور دور کہیں ایک فوارے کا پانی بجتا ہوا سنائی دے رہا تھا۔
”تم نے مجھے بلایا تھا،“ سکندر نے آہستہ سے کہا، آواز میں ایک ہلکی سی تھکاوٹ تھی۔
نیرہ نے گلاب کی کلی کو اپنی انگلیوں میں دبایا۔ ”ہاں… آج بات کرنی تھی۔“
سکندر نے اس کی طرف دیکھا۔ ”بات؟ یا فیصلہ؟“
نیرہ خاموش رہی۔ ہوا نے اس کے بالوں کو ہلایا۔ کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھایا اور سیدھا سکندر کی آنکھوں میں دیکھا پھر آہستہ سے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ بوسہ پہلے نرم تھا، پھر گہرا ہوتا گیا۔ سکندر کے ہاتھ اس کی کمر پر آ گئے، اور نیرہ نے اپنے بازو اس کے گرد لپیٹ لیے۔
”سکندر… ہم کب تک ایسے ہی رہیں گے؟“ اس کی آواز میں ایک نرم لرزش تھی۔ ”جیسے دو سائے جو کبھی مل نہیں پاتے۔“ سکندر اور نیرہ نے فاضلہ بنایا۔
سکندر نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھا۔ ”تمہیں پتہ ہے حالات کیا ہیں۔ تمہارے گھر والے…“
میں جانتی ہوں،نیرہ نے بات کاٹی۔ ”لیکن میں نہیں جانتی کہ تم کیا سوچتے ہو۔ واقعی سوچتے ہو۔“
سکندر کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ بڑھا کر نیرہ کے ہاتھ کو چھو لیا۔ اس کا لمس گرم تھا، اور نیرہ کے جسم میں ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔ وہ ہاتھ نہیں ہٹائی۔
”میں سوچتا ہوں“، سکندر نے کہا، آواز بہت نرم تھی، ”کہ اگر مجھے دنیا بھر میں صرف ایک چیز رکھنے کی اجازت دی جائے، تو میں وہ چیز تمہارا ہاتھ رکھوں گا۔“
نیرہ کی پلکیں جھپکیں۔ اس نے اپنے ہاتھ کو سکندر کے ہاتھ میں تھوڑا سا دبایا۔
”اور اگر میں مر جاؤں؟“ اس نے پوچھا۔
سکندر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ”تو میں بھی مر جاؤں گا۔“
نیرہ نے سر ہلایا۔ ”نہیں۔ تم ایسے نہیں کہتے۔ تم ہمیشہ کہتے ہو کہ زندگی آگے بڑھتی رہنی چاہیے۔“
”آج نہیں کہہ رہا،“ سکندر نے جواب دیا۔”آج میں کہہ رہا ہوں کہ اگر تم نہیں رہیں، تو میری سانس بھی بے کار ہو جائے گی۔ نیرہ… میں تمہارے بغیر نہیں جی سکتا۔“
نیرہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، لیکن وہ گرے نہیں۔ اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے سکندر کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
”تو وعدہ کرو،“ اس نے آہستہ سے کہا۔ ”وعدہ کرو کہ تم مجھے کبھی نہیں چھوڑوگے۔ چاہے دنیا الٹ جائے، چاہے میرے گھر والے تمہیں ڈرائیں دھمکائیں ، چاہے وقت خود ہمارے خلاف کھڑا ہو جائے۔ تم نہیں چھوڑوگے۔“
سکندر نے اس کے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ اس کی انگلیاں نیرہ کی انگلیوں کے گرد لپٹ گئیں۔ باغ میں ہوا رک سی گئی تھی۔
”میں وعدہ کرتا ہوں،“اس نے کہا، آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی۔ ”میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ نہ آج، نہ کل، نہ اس کے بعد۔“
نیرہ نے اس کے ہاتھوں کو اور مضبوطی سے دبایا۔ ”اور اگر میں چھوڑ دوں؟“
سکندر نے مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔ ”تم ہی چھوڑو گی۔ میں نہیں۔“
نیرہ کی سانس رک گئی۔”تم کیا کہہ رہے ہو؟“
”میں کہہ رہا ہوں،“ سکندر نے آہستہ سے کہا، اور اپنے انگوٹھے سے نیرہ کی ہتھیلی کو سہلایا، ”کہ تمہارے اندر ایک کمزوری ہے جو مجھے نہیں ہے۔ تم ڈرتی ہو۔ تم سوچتی ہو۔ تم اپنے گھر والوں کی آنکھوں میں دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتی ہو۔ لیکن میں… میں تمہیں چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ چاہے تم مجھے تھپڑ مارو، چاہے مجھے گالیاں دو، چاہے مجھے کہو کہ میں تمہارے راستے سے ہٹ جاؤں… میں نہیں ہٹوں گا۔ تم ہی چھوڑو گی۔ میں نہیں۔“
نیرہ نے اس کے ہاتھوں کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے اب آنسو بہہ رہے تھے۔
”تم مجھے پاگل کر دیتے ہو، سکندر۔“
”اور تم مجھے زندہ رکھتی ہو،“اس نے جواب دیا۔
وہ ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ ان کے سر اب صرف چند انچ دور تھے۔ نیرہ کی سانس سکندر کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ سکندر نے آہستہ سے اپنا پیشانی نیرہ کی پیشانی سے لگا دی۔ ان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
”میں تم سے محبت کرتا ہوں،“ سکندر نے سرگوشی کی۔ ”اتنی کہ الفاظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔“
نیرہ نے آنکھیں کھولیں اور اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکا سا بوسہ رکھ دیا۔ ایک نرم، لرزتا ہوا بوسہ۔ جیسے وہ کسی مقدس چیز کو چھویں۔
”اور میں تم سے،” اس نے کہا۔ “اتنی کہ میں مرنے سے بھی نہیں ڈرتی۔ بس اتنا ڈرتی ہوں کہ تم مجھے چھوڑ دو گے۔“
سکندر نے اس کے بالوں کو اپنے ہاتھوں میں بھرا اور اس کے سر کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
”تم ہی چھوڑو گی، نیرہ۔ میں نہیں۔ یہ میرا آخری وعدہ ہے۔“
باغ میں اب اندھیرا گہرا ہو رہا تھا۔ چنار کے پتوں پر ہلکی سی ہوا چل رہی تھی۔ دور فوارے کا پانی اب بھی بجتا جا رہا تھا، جیسے وقت رک گیا ہو۔ نیرہ نے آنکھیں بند کر کے سکندر کے دل کی دھڑکن سنی۔
باغ کا وہ وعدہ، وہ سانسوں کی گرمی اور دھڑکتے دلوں کی گونج بہت جلد گھر کی سنگ مرمر کی سرد دیواروں سے ٹکرا کر پشور ہو گئی۔ وہ شام تو بیت گئی، مگر اپنے پیچھے ایک طوفان چھوڑ گئی۔
گھر کا ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا، مگر اس رات نیرہ کی آنکھوں کی چمک اور اس کے چہرے کا بدلا ہوا رنگ اس کے گھر والوں سے چھپا نہ رہ سکا۔ اس کا بڑا بھائی، جو روایات اور خاندانی نام کا سب سے بڑا پہریدار تھا، پہلے ہی شک کی نگاہیں گاڑے بیٹھا تھا۔ اور پھر وہ دن آ ہی گیا جب ایک نامعلوم نے نیرہ اور سکندر کی باغ میں ہونے والی ملاقات کی تصویریں اور خبر گھر تک پہنچا دی۔
اس شام جب نیرہ گھر میں داخل ہوئی، تو پورا ڈرائنگ روم ایک عدالت کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس کے والد صوفے پر پتھر بنے بیٹھے تھے، اور بھائی کے چہرے پر غصے کی لکیریں گہری ہو چکی تھیں۔
”یہ کیا ہے؟“بھائی نے ایک لفٹ میز پر پٹختے ہوئے کڑکدار آواز میں پوچھا۔ تصاویر نیرہ کے قدموں میں بکھر گئیں۔ سکندر کے ساتھ اس کا ہنستا ہوا چہرہ، وہ قربتیں… سب کچھ بے نقاب ہو چکا تھا۔
نیرہ کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ ”یہ… یہ سب…“
“بکواس بند کرو!” والد نے پہلی بار اتنی بلند آواز میں بات کی تھی۔ ان کے چہرے کی رنگت غصے سے نیلگون ہو چکی تھی۔ ”ایک معمولی نوکری والے، آوارہ لڑکے کے ساتھ تمہاری یہ مجال؟ تم نے ہمارے خاندان کی عزت کو مٹی میں ملا دیا ہے!“
”ابا، خدارا میری بات سنیں…“نیرہ نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑے، وہ زمین پر بیٹھ گئی، ”ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں… میں سکندر کے بغیر نہیں رہ سکتی۔“
”محبت؟“ بھائی ہنسا، ایک طنزیہ، کرخت ہنسی۔ ”محبت پیٹ نہیں بھرتی، اور نہ عزت بچاتی ہے۔ آج کے بعد اس سکندر کا نام تمہاری زبان پر نہیں آئے گا۔ اور خبردار جو اس کے پاس جانے کی کوشش کی، اس کی لاش گرے گی یا پھر تمہاری!“
اس کے بعد کا وقت نیرہ کے لیے ایک اذیت ناک عذاب بن گیا۔ اس کا فون چھین لیا گیا، اسے کمرے میں نظر بند کر دیا گیا۔ گھر کے نوکروں پر بھی پہرہ بھا دیا گیا کہ وہ اس پر نظر رکھیں۔ نیرہ دن رات سسکتی، دیواروں سے سر ٹکراتی اور سکندر کا نام لے کر روتی۔ اس کا دل کہتا تھا کہ سکندر باہر اس کا انتظار کر رہا ہوگا، وہ اسے بچانے آئے گا، مگر وقت کا حصار اتنا تنگ تھا کہ کوئی خبر ادھر سے ادھر نہیں ہو سکتی تھی۔
ادھر سکندر بھی پاگلوں کی طرح نیرہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اس کے گھر کے چکر لگاتا، گلی کے نکڑ پر گھنٹوں کھڑا رہتا، مگر اسے ہر بار دھتکار دیا جاتا۔ ایک دن جب وہ زیادہ اصرار کر رہا تھا، نیرہ کے بھائی اور اس کے غنڈوں نے اسے پکڑ لیا اور بری طرح زدوکوب کیا۔
”آخری بار خبردار کر رہے ہیں،“ بھائی نے سکندر کے گریبان کو مٹھی میں دبوچ کر کہا، جس کے ہونٹ سے خون رس رہا تھا، ”اگر اس لڑکی کے آس پاس بھی نظر آئے، تو جان سے مار دیں گے۔ وہ ہمارے لیے مر چکی ہے، اور تم بھی اپنے راستے ناپ لو!“
سکندر زمین پر گرا، اس کے جسم کا ہر جوڑ درد سے چور تھا، مگر اس کے دل کا درد جسمانی درد سے کہیں زیادہ شدید تھا۔ اس نے اٹھ کر نیرہ کے گھر کے بند دروازے کو دیکھا۔ وہ دروازہ، جو ان کے درمیان حائط بنا تھا، اب اور اونچا ہو چکا تھا۔
مہینے بیت گئے۔ تنہائی اور قید کی اس چکی میں نیرہ اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ اس کی سنجیدہ شخصیت اب پژمردہ ہو چکی تھی۔ وہ سوچتی تھی کہ شاید سکندر تھک گیا ہوگا، شاید وہ اب اسے بھول چکا ہوگا۔ وہ اپنے گھر والوں کی سختی، طعنوں اور دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ اس کے اندر کی مزاحمت دم توڑ چکی تھی۔
وہ بھول گئی تھی کہ سکندر نے باغ میں کیا کہا تھا: تم ہی چھوڑو گی، نیرہ۔ میں نہیں۔
اور ادھر، زمانے کی سرد مہری، مسلسل رسوائی اور بے بسی نے سکندر کے اندر کے انسان کو بھی بدل ڈالا تھا۔ جب ایک انسان کو بار بار یہ باور کرایا جائے کہ وہ کسی کے لائق نہیں، تو اس کا غرور، اس کی محبت اور اس کے وعدے بھی ریت کی طرح بیٹھنے لگتے ہیں۔
موسم بدلے، مہینے گزرے، اور پھر سال کا پہیہ بھی اپنی گردش مکمل کرتا ہوا آگے نکل گیا۔ نیرہ کا کمرہ، جو کبھی اس کی ہنسی اور امیدوں سے روشن ہوتا تھا، اب ایک قید خانہ بن چکا تھا۔ اس قید خانے میں اب کوئی ہنگامہ نہیں تھا، کوئی چیخ و پکار نہیں تھی…..بس ایک خاموشی تھی، جو گہری اور گھٹن ناک تھی۔ نیرہ کے اندر کی وہ متحرک اور پرکشش لڑکی کہیں مر چکی تھی۔ اس کی جگہ اب ایک پتھر کی مورتی نے لے لی تھی، جس کی آنکھیں سوکھ چکی تھیں اور دل کسی بنجر زمین کی طرح ویران ہو چکا تھا۔
گھر والوں کی سختی نے رنگ دکھایا تھا، یا یوں کہہ لیجیے کہ انہوں نے نیرہ کی روح کو مار کر اسے اپنے اصولوں کے سانچے میں ڈھال لیا تھا۔ مسلسل دباؤ، تنہائی، اور اس خیال نے کہ سکندر اب اسے چھوڑ چکا ہوگا یا حالات کے آگے ہار چکا ہوگا۔
نیرہ کی کمر توڑ دی تھی۔ اس نے اپنے گھر والوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اس نے منہ سے ایک لفظ کہے بغیر ان کی مرضی پر سر جھکا دیا تھا۔ اب وہ ایک ایسی زندگی گزار رہی تھی جہاں سانسیں تو چل رہی تھیں، مگر زندگی کا نام و نشان نہیں تھا۔
اور پھر وہ شام آئی، جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دینا تھا۔
بارش کی ہلکی ہلکی پھوار باہر صحن کے پتھروں پر گر رہی تھی۔ نیرہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھی خالی نظروں سے باہر دیکھ رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا۔ اس کی ماں اندر آئیں۔ ماں کے چہرے پر ایک عجب سا بوجھ اور پشیمانی کا سایہ تھا۔ وہ کچھ دیر چپ چاپ کھڑی رہیں، پھر انہوں نے آہستہ سے نیرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ان کی آواز میں ایک تھکا ہوا لرزش تھا۔
”نیرہ… میری بچی… بہت ظلم ہو گیا تم پر۔ ہم نے تمہاری خوشی کا گلا گھونٹنے میں کوئی کسر نہیں چھڈی۔“
نیرہ نے بے تاثر نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھا، جیسے وہ کسی اجنبی کو دیکھ رہی ہو۔
ماں نے گہری سانس لی اور بولیں: ”آج… آج تمہارے پاپا نے بھی ہار مان لی ہے۔ ہم نے شہر کے اس معزز گھرانے کا رشتہ رد کر دیا ہے جو ہم زبردستی تم پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ اگر… اگر تم اب بھی اس لڑکے، سکندر سے ملنا چاہتی ہو، تو جاؤ… ہم نے اجازت دے دی۔ اب کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔شادی کے لیے اسے کہو..“
ماں کے یہ الفاظ کمرے کی فضا میں گونج کر رہ گئے۔ نیرہ کے جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔ وہ تمام جذبے، جو اندر کہیں دفن ہو چکے تھے، ایک دم سے بیدار ہونے لگے۔ کیا یہ سچ تھا؟ کیا واقعی اس کے گھر والے مان گئے تھے؟ کیا اب وہ آزاد تھی کہ سکندر کا ہاتھ تھام سکے؟
مگر اس خوشی اور حیرت کے طوفان کے ساتھ ہی نیرہ کے دل میں ایک انوکھا خوف اتر آیا۔ وقت بہت آگے نکل چکا تھا۔ وہ مہینوں سے کٹی ہوئی تھی، اسے خبر ہی نہیں تھی کہ اس دوران دنیا کتنی بدل چکی ہے۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا، اس کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے، بس آنکھوں سے آنسووں کا ایک ایسا سیلاب بہہ نکلا جو تمام بند توڑ چکا تھا۔
”جاؤ بیٹی…“ ماں نے اس کے گیلے بالوں کو سہلایا، ”جا کر اپنا حق لے آؤ۔ وہیں ہوگا وہ… تمہارے انتظار میں۔“
نیرہ نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس نے بدن پر ایک سادہ سا شال لپیٹ باہر کی طرف قدم بڑھایا۔ اس کے پیر زمین پر نہیں پڑ رہے تھے، وہ جیسے ہوا میں اڑ رہی تھی۔ دل میں ایک ہی تمنا تھی، ایک ہی پکار تھی—سکندر! وہ اسے بتائے گی کہ ان کی محبت جیت گئی ہے، ان کے تمام آنسو رائیگاں نہیں گئے، اب وہ ہمیشہ کے لیے ایک ہو سکتے ہیں۔
وہ بھاگتی ہوئی اس گلی میں پہنچی جہاں سکندر کا گھر تھا۔ بارش اب تیز ہو چکی تھی، اور گلی کے نکر پر لگا پیلا اسٹریٹ لیمپ مدہم روشنی بکھیر رہا تھا۔ سکندر کے گھر کے باہر ہلکی سی رونق تھی۔ دروازے پر کچھ پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں، جنہیں بارش کے پانی نے بھگو دیا تھا۔ نیرہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ایک خوش گوار بے قراری کے ساتھ۔ اس نے آگے بڑھ کر دروازے کی گھنٹی بجائی۔
کچھ دیر بعد دروازہ ایک ادھیڑ عمر ملازم نے کھولا۔ اندر مہمانوں کی ہلکی چہچہاہٹ اور مٹھائی کی خوشبو فضا میں معطر تھی۔
”مجھ… مجھے سکندر سے ملنا ہے،“ نیرہ کی سانس پھولی ہوئی تھی، چہرے پر خوشی کے مارے ایک مسکان کھیل رہی تھی، ”اسے کہو نیرہ آئی ہے…“
ملازم نے نیرہ کو دیکھا، اس کی حالت پر رحم کھایا، پھر ایک افسوس بھرے انداز میں سر جھکا دیا۔
”بیٹی… آپ بہت دیر کر بیٹھیں،“ ملازم کی آواز بھاری تھی۔ ”آج ہی بابو جی کی شادی ہوئی ہے۔ وہ اندر دلہن کے ساتھ ہیں۔“
وہ جملہ، وہ چند الفاظ نیرہ کے لیے کسی آسمانی بجلی سے کم نہیں تھے۔ اس کے پاؤں تلے زمین دھنس گئی، آسمان گھوم گیا، اور کانوں میں عجیب سی گھنٹی بجنے لگی۔ شادی؟ سکندر کی؟
”نہیں… یہ جھوٹ ہے!“ نیرہ کا گلا خشک ہو گیا، اس نے دروازے کے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔ ”ایسا نہیں ہو سکتا… وہ میرا انتظار کر رہا تھا… اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا!“
اسی لمحے، ہال کے دروازے پر قدموں کی چاپ گونجی۔ ایک لمبا، پروقار قد آگے بڑھا۔ سکندر تھا۔ اس نے شیروانی پہن رکھی تھی، اس کے بال سنے ہوئے تھے، اور اس کے چہرے پر ایک اجنبی سی سنجیدگی اور مطمئن مسکراہٹ تھی۔ جب اس کی نظر دروازے پر کھڑی نیرہ پر پڑی۔جو بھیگی ہوئی تھی، جس کے کپڑے کیچڑ سے لت پت تھے، اور جس کی آنکھوں میں پاگلوں والا جنون تھا—تو اس کے چہرے کا تاثر ذرا سا بھی نہیں بدلا۔ وہ بالکل پرسکون تھا۔
نیرہ آگے بڑھی، اس نے ہانپتے ہوئے سکندر کا ہاتھ پکڑنا چاہا، اس کی آواز بھرّا گئی:
”سکندر… تم… تم نے یہ کیا کیا؟ دیکھو، امی مان گئی ہیں… اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے! ہم آزاد ہیں! تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا… تم نے کہا تھا کہ تم مجھے کبھی نہیں چھوڑو گے!“
سکندر نے اپنا ہاتھ نیرہ کی گرفت سے بہت آرام سے، اور اتنی ہی بے نیازی سے کھینچ لیا۔ اس نے اپنے کوٹ کے بٹن کو درست کیا اور ایک سرد، بے حس نگاہ نیرہ پر ڈالی۔ اس کی آنکھوں میں وہ محبت کا شعلہ کہیں باقی نہیں تھا، جو کبھی باغ کے اندھیرے میں روشن ہوتا تھا۔
نیرہ کے دل کا خون جم چکا تھا۔ اس نے سسکتے ہوئے کہا۔
”سکندر… کچھ تو بولو… یہ کیا مذاق ہے؟“
سکندر نے ایک طویل سانس لی، اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی تلخ مسکراہٹ ابھری، اور اس نے وہ الفاظ کہے جو نیرہ کی روح کے آخری ریشے تک کو جلا کر راکھ کر گئے۔
”نیرہ… اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ میں اتنے مہینے تمہارے دروازے پر دھکے کھاتا رہا، ذلیل ہوتا رہا، اور تم خاموش تماشائی بنی رہیں۔ تم نے اپنے گھر والوں کے ڈر سے خود مجھے چھوڑا تھا۔ اب جب تمہارا خوف ختم ہوا ہے، تب تک بہت کچھ بدل چکا ہے۔“
سکندر نے اندر ہال کی طرف دیکھا جہاں سے کسی کی ہنسی کی آواز آئی تھی، اور پھر نیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے انتہائی سرد لہجے میں کہا۔
”نیرہ… مجھے تم سے بہتر مل چکی ہے جو میرا خیال رکھتی ہے، جو حالات کے سامنے جھکتی نہیں، اور جو مجھے وہ عزت دیتی ہے جس کا میں حقدار ہوں۔ اب تم جا سکتی ہو… یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔“
ان آخری الفاظ کے ساتھ ہی سکندر نے دروازہ اندر سے بند کرنا شروع کر دیا۔ وہ بھاری لکڑی کا دروازہ آہستہ آہستہ بند ہوا، اور نیرہ اور سکندر کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک ناقابلِ عبور دیوار حائل ہو گئی۔
دروازہ بند ہو چکا تھا۔ گلی میں اب کوئی نہیں تھا سوائے ایک ٹوٹے ہوئے دل کے، بارش کے شور کے، اور اس راکھ کے ڈھیر کے جو کبھی کسی زمانے میں ایک سچا وعدہ ہوا کرتا تھا۔ نیرہ وہیں بارش میں پتھر بنی کھڑی رہی، جہاں وقت نے اسے ہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
ختم شد



تبصرہ لکھیے