ہوم << شہادت عثمان غنی، اسباب و وجوہات (3) – عرفان علی عزیز
600x314

شہادت عثمان غنی، اسباب و وجوہات (3) – عرفان علی عزیز

قسط نمبر 3

معزز اصحاب کو معزول کرنے کا سبب
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق حضرت عثمان نے ایک سال تک ان کے مقرر کردہ گورنروں میں سے کسی کو معزول نہیں کیا۔ حضرت عمر کی اس وصیت میں یہ مصلحت مضمر تھی کہ ان کے مقرر کردہ عمال نے جن کاموں کا آغاز کیا ہوا ہے ان میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور جو اصلاحی یا ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہوئے ہیں وہ انہی کے ہاتھوں سے تکمیل کو پہنچیں جنہوں نے ان کا آغاز کیا ہے۔

حضرت عثمان نے صرف یہی نہیں کیا کہ عمال کے عزل و نصب کی کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ اپنے تمام عمال کو بڑی سختی کے ساتھ یہ ہدایات جاری کیں کہ وہ اسی پالیسی پر عمل پیرار ہیں جو پالیسی نظم حکومت کیلئے حضرت عمر ، نے مرتب فرمائی تھی اسی طرح فوجی سپہ سالاروں کو بھی حضرت عمر کی فوجی حکمت عملی کے مطابق اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں تاکہ ان تمام مقاصد کو جو حضرت عمر نے کے پیش نظر تھے کامیابی کے ساتھ حاصل کیا جاسکے، جن لوگوں نے حضرت عثمان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ حضرت عمر کی مرتب کردہ پالیسیوں سے بتدریج ہٹتے چلے گئے یا یہ کہ انہوں نے حضرت عمر کے مقرر کردہ گورنروں کو تبدیل کر کے ان کی جگہ اپنے خاندان کے نا تجربہ کار نوجوانوں کو حکومت کے بڑے بڑے مناصب پر مقرر کر دیا ، اول تو اس الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ہم نے اس کا جواب قسط نمبر 2 میں تفصیل سے دیا ہے۔کیونکہ انہوں نے حضرت عمر کی وصیت کی پوری طرح پابندی کی بلکہ ان کی مقرر کردہ ایک سال کی مدت کے بعد بھی اگر کسی گورنر کوتبدیل کیا ہے تو اس تبدیلی کیلئے معقول سیاسی اور انتظامی وجوہات موجود تھیں کیونکہ جس قسم کی انتظامی تبدیلیاں حضرت عثمان کے عہد خلافت میں ہوئی ہیں ایسی بہت سی تبدیلیاں حضرت عمر کے زمانے میں بھی ہوتی رہی ہیں چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص کے متعلق انہوں نے اپنے بعد منتخب ہونے والے خلیفہ کو بطور خاص وصیت فرمائی تھی کہ میں نے انہیں کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا اسلئے نئے خلیفہ کو ان سے ہر ممکن تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

ان اعتراضات میں اس لئے بھی کوئی وزن نہیں کیا ہے کیونکہ جن معترضین نے عہد عثمانی کے گورنروں کے تقرر پر اعتراضات کیے ہیں انہوں نے خود اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا ہے کہ حضرت عثمان کے مقرر کردہ گورنروں اور سپہ سالاروں نے اعلئ درجے کی انتظامی اور جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔اگر کسی ایک فرد واحد سے بشری تقاضوں کے تحت کمزوری پائی گئی تو اس براہ راست الزام حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر نہیں جاتا۔

سعد بن ابی وقاص کی معزولی کے اسباب
24 ہجری کے آخر میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت مکمل ہو چکی تھی ۔ یہاں تک حضرت عثمان غنی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت کی گئی وصیت کے مطابق کوفہ کے گورنر مغیرہ بن شعبہ کو معزول کر کے سعد بن ابی وقاص کو گورنر بنا کر بھیجا۔¹ سعد نے کوفہ کے انواع میں جہاد کیا۔امن و امان قائم کردیا۔ اسی دوران سعد کا عبداللہ بن مسعود سے نزاع ہوگیا۔ نزاع کی بنیادی وجہ سعد چونکہ کوفہ کے والی اور عبداللہ بن مسعود خزانچی تھے۔ سعد نے کچھ مدت کے لیے عبداللہ ابن مسعود سے رقم بطور قرض کی تھی۔ جس کو لوٹانے میں تاخیر ہوئی تو عبد اللہ بن مسعود نے تقاضا کیا ۔ حضرت شعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوفہ پہلا شہر ہے۔جہاں پر شیطان نے مسلمانوں کے آپس میں جھگڑا پیدا کیا۔ ہوا یہ تھا کہ ایک دفعہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیت المال سے کچھ قرض مانگا تو انہوں نے کچھ مال انہیں بطور قرض دے دیا۔

مگر بعد میں مقررہ ادائیگی کے وقت ان سے تقاضا کیا تو وہ ادا نہ کر سکے اور اس پر ان دونوں کی تکرار ہوگئی ، یہاں تک کہ کچھ لوگ مال وصول کرنے کے لئے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرفدار ہو گئے۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مدد مانگی تاکہ انہیں کچھ مہلت مل جائے ، آخر کار لوگ منتشر ہو گئے مگر کچھ لوگ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور کچھ لوگ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ملامت کر رہے تھے۔ قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس اس وقت ہاشم بن عتبہ بھی موجود تھے۔اتنے میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس عبد اللہ بن مسعود تشریف لائے اور کہنے لگے کہ آپ بیت المال کی وہ رقم ادا کریں جو آپ کے ذمہ بطور قرض ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے خیال میں تم کسی برائی کا نشانہ بنو گے؟
تمہاری ہستی کیا ہے؟
تم تو ابن مسعود ہو اور ہزیل کے غلام ہو، اس پر وہ بولے۔!
”ہاں میں تو ابن مسعود ہوں لیکن تم تو ابن حمینہ ہو،“
ہاشم بن عتبہ نے دوران گفتگوفرمایا خداکی قسم تم لوگ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم پر نظر شفقت رکھتے تھے اور آج اس کے برخلاف آپس میں تکرار و مباحثہ کر رہے ہو۔

طبری کے مطابق حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے مزاج میں سختی تھی اور غصہ میں تیزی تھی اس وقت ان کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی وہ انہوں نے پھینک ماری اور پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر بددعا کر رہے تھے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم پر افسوس ہے۔ تم کلمہ خیر کہو اور مجھ پر لعنت نہ بھیجو۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا۔خدا کی قسم ! اگر مجھے خوف خدانہ ہوتا تو میں تمہارے لئے ایسی بددعا کرتا جو کبھی خطا نہ ہوتی۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فورا باہر نکل آئے۔
اس جھگڑے کی خبر اور قرض ادا نہ کرنے کی اطلاع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ہوگئی ، آپ دونوں پر بہت ناراض ہوئے اور پھر قرض کی رقم حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے وصول کر کے انہیں معزول کر دیا۔ اور ان کی جگہ ولید بن عقبہ کو گورنر بنا دیا۔ پھر اس سے اگلے سال یعنی 26 ہجری میں اہل بصرہ حضرت ابوموسی اشعری سے ناراضی کی خبریں گونجی۔

اسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مصر کا گورنر اپنے رضاعی بھائی عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو نامزد کیا ۔ عبداللہ بن سعد عمرو بن العاص کی جگہ نامزد ہوئے ۔ مصر کی فتح سے لے کر اس وقت تک عمر بن عاص ہی گورنر رہے تھے۔ حضرت عثمان غنی نے گورنر عبداللہ بن سعد اور فوج کا انتظام و انصرام عمرو بن عاص کے سپرد کیا عمرو بن عاص نے یہ طریقہ پسند نہیں کیا۔ عمرو بن عاص نے حضرت عثمان سے ناراضی کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔ ”گائے کے سینگ میں پکڑوں اور دودھ دوسرا شخص دوہے۔“² حضرت عثمان نے عبداللہ بن سعد کو افریقہ کی مہم پر بھیجا اور کہا کہ اگر افریقہ میں فتحیاب ہوا تو مال غنیمت کا پانچواں حصہ انعام ملے گا۔جو کہ عبداللہ بن سعد نے وعدہ پورا۔اور افریقہ کی مہم کو کامیابی سے سر کیا۔ عبداللہ بن سعد، عمرو بن عاص کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق نہ رکھ سکے ۔ دونوں میں اختلاف ہونےلگا۔اور اختلاف یہاں تک پہنچا کہ عبداللہ نے حضرت عثمان غنی کو خط لکھا کہ عمرو ایسے حالات پیدا کر رہا ہے مصر کا اخراج وصول کرنا دشوار ہوگیا ہے۔

عمرو بن عاص نے بھی خط لکھ کر حضرت عثمان کو کہا کہ عبداللہ بن سعد نے فوج کا نظام بگاڑ رکھا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو جوابی تحریر کیا کہ تم واپس آجاؤ، اور ان کے بجائے ان کی جگہ پر حضرت عبداللہ بن سعد کو فوج اور خراج دونوں کا حاکم مقرر کر دیا، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اس پر بہت ناراض ہوئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اس وقت عمرو یمنی جبہ پہنے ہوئے تھے جس کا استر روئی سے بھرا ہوا تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا تمہارے جبہ کے اندر کیا ہے؟ وہ بولے عمرو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم ہے اس کے اندر عمرو ہے مگر میری مراد یہ نہیں ہے بلکہ میرے پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ آیا اس کے اندر روئی ہے یا اور کوئی چیز ہے؟

واقدی روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد نے مصر سے جمع شدہ مال بھیجا اسی اثناء میں عمر و بن العاص رضی بھی آگئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمرو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے جانے کے بعد دودھ دینے والی اونٹنی زیادہ دودھ دینے لگی ہے وہ بولے ہاں اس کے دودھ پینے والے بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس کا انجام یہ ہوا کہ حضرت عثمان نے عمرو بن عاص کو معزول کردیا ۔عمرو بن عاص مدینہ واپس آگئے۔

ابوموسیٰ اشعری کا وقعہ
29 ہجری میں بصرہ میں اہل ایزج اور کرد باغی ہوگئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے لوگوں کو جہاد کی ترغیب دلائی ۔ اور اثنائے تقریر میں پیدل جہاد کرنے کے فضائل بیان کئے۔ جن کا اثر لوگوں پر خوب ہوا چند لوگوں کے باقی سب لوگ پیدل جہاد پر نکلنے لگے ۔ ان میں ایک گروہ نے کہا کہ ہمیں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ منتظر رہیں اور دیکھیں کہ خود ابوموسی اشعری کیا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ قول سے زیادہ فعل قابل اتباع ہوگا۔ ابوموسی اشعری نے کوچ کا ارادہ کیا تو ان کا مال و اسباب قصر امارت سے چالیس خچروں پر لادا گیا۔ اور خود گھوڑے پر سوار ہوئے ۔ لوگوں نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور کہنے لگے۔
”یہ زائد خچر جن پر آپ کا سامان لادا گیا ہے ان میں ہمیں سوار کرا دیجیئے۔یا جس طرح ہم پیدل ہیں آپ بھی پیدل سفر کریں کیونکہ آپ نے پیدل جہاد کی فضیلت بیان کی ہے۔“

حضرت ابوموسی اشعری غصے میں آ گئے اور لوگوں پر کوڑے مارنا شروع کردیے۔ نوبت بڑھی تو لوگ لگام چھوڑ کر ایک طرف ہوگئے اور بجائے جہاد پر جانے کے سیدھے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ آ گئے ۔اور ابوموسیٰ اشعری کی معزولی کی درخواست کی۔
حضرت عثمان نے اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے کہا:
”جانچ پڑتال سے بہتر ہے آپ معزول کردیں۔“
بعد ازاں اور بھی وجوہات( ان کچھ الزامات لوگوں کو سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کرنا۔ یہ دولت جمع کرتا ہے۔ سرکاری زمین کی پیداوار کھاتا ہے۔ قریش سے نرمی کرتا ہے اور دوسرے لوگوں پر سختی کرتا ہے)کی بنا پر ابوموسیٰ اشعری معزول ہوئے اور ان کی جگہ عبد اللہ بن عامر کریز گورنر بصرہ منتخب ہوئے۔

جب ابوموسیٰ اشعری نے معزولی کا پیغام پڑھ کر اہل بصرہ کو سنایا پھر فرمایا۔ کہ اب اہل بصرہ کو وہ شخص مل گیا ہے جو اپنی مرضی سے ٹیکس وصول کرے گا جن کی پھوپھیاں، بھائی اور بھتیجے بہت زیادہ ہیں۔ ان کو تم پر مسلط کرے گا۔“ حضرت ابوموسی اشعری کی بات سچ ثابت ہوئی۔ اہل بصرہ کے دل میں خلیفہ کی قدر و منزلت نکلتی گئی۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اختلافات
منی میں مکمل نماز پر اعتراض اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر پہلا اعتراض 29 ہجری حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ حج کیا اس موقع پر انہوں نے منی کے مقام پر ایک خیمہ نصب کیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ تھے جنہوں نے یہاں خیمہ نصب کرایا اور منی اور عرفہ میں پوری نمازیں پڑھائیں۔ واقدی کی روایت ہے کہ توامہ کے غلام صالح کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلے لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف جو اعتراض کیا وہ یہی تھا۔ انہوں نے اپنے عہد خلافت میں منی کے مقام پر حج کے زمانے میں دو رکعتیں نماز پڑھائی مگر جب ان کی خلافت کا چھٹا سال آیا تو انہوں نے مکمل نماز پڑھائی۔ اس پر تو صحابہ کرام نے اعتراض کیا اور جوان کے مخالف تھے انہوں نے اس کو مزید شہرت دی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کے پاس آ کر فرمایا کہ ایسی بات پہلے کبھی نہیں ہوئی اور نہ زیادہ عرصہ گذرا ہے جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اس موقع پر دورکعتیں پڑھا کرتے تھے مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کسی طرف رجوع کیا ہے اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ میرا ذاتی اجتہاد ہے۔ واقدی کی دوسری روایت ہے کہ اس سال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منی کے قیام پر چار رکعت نماز پڑھائیں۔ اس پر ایک شخص نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہا کیا تمہیں اپنے بھائی عثمان کے بارے میں علم ہے کہ اس نے منی کے قیام کے موقع پر چار رکعت نماز پڑھائی ہیں؟ اس پر حضرت عبدالرحمن نے اپنے ساتھیوں کو دو رکعت نماز پڑھائیں پھر آپ حضرت عثمان کے پاس گئے اور کہا کیا آپ نے آپ ﷺ کے ساتھ دورکعت نماز نہیں پڑھیں؟ وہ بولے کیوں نہیں۔ حضرت عبدالرحمن نے دوبارہ پوچھا کیا تم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں یہاں دو رکعت نماز نہیں پڑھی تھیں؟

وہ بولے کیوں نہیں ۔ پھر انہوں نے پوچھا کیا تم نے اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں یہاں دو رکعت نماز پڑھائی تھیں؟ وہ بولے ہاں۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو محمد عبد الرحمن اب تم میرا جواب سنو۔ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ اہل یمن کے بعض گنوار لوگ جو حج کر کے واپس یمن گئے تھے وہ پچھلے سال حج سے فارغ ہو کر یہ کہنے لگے تھے کہ مقیم کی نماز بھی دور کعتیں ہیں، کیونکہ تمہارے خلیفہ عثمان بھی دور کعت نماز پڑھاتے ہیں اس کے علاوہ میں نے ملکہ معظمہ کو اپنا گھر اور وطن بنالیا ہے۔ اس لئے میری یہ رائے ہے کہ میں چار رکعت نماز پڑھاؤں دوسری بات یہ ہے کہ میں نے مکہ میں نکاح کر لیا ہے اور طائف میں میرا مال و جائداد ہے اور میں اس کی خبر گیری کے لئے جاتا ہوں اور وہاں قیام کرتا ہوں۔ یوں میں یہاں مقیم ہوا نہ کہ مسافر ۔ اس لئے میں نے پوری نماز چار رکعت پڑھیں ہیں۔ 3

حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا ان میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو تمہارے لئے معقول عذر بن سکے آپ کا یہ کہنا کہ آپ نے مکہ معظمہ کواپنا گھر بنالیا ہے، صحیح نہیں۔ کیونکہ دراصل آپ کی بیوی مدینہ میں رہتی ہے، اگرچہ آپ جب چاہیں اسے وہاں سے ( یہاں مکہ ) لے آتے ہیں اور جب چاہیں واپس لے آتے ہیں۔ یوں یہ آپ کا وطن اصلی نہیں ہوا بلکہ آپ کا مستقل قیام اپنے گھر مدینہ میں ہے۔ دوسری بات آپ یہ کہتے ہیں کہ میرا مال و جائیداد طائف میں ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اور طائف کے درمیان تین دن کی مسافت ہے، اگر وہاں آپ کی رہائش تسلیم بھی کر لی جائے تب بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ یہاں مکمل نماز پڑھیں اور اگر بالفرض اتنی مسافت نہ بھی ہو تب بھی محض مال و جائیدار ہونے سے بلا سکونت آپ طائف کے رہنے والے نہیں بن سکتے ۔

نیز آپ نے یہ فرمایا ہے اہل یمن حج سے واپس آکر یہ کہتے ہیں کہ تمہارا خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مقیم ہوتے ہوئے دو رکعت نماز پڑھتا ہے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبکہ وحی الہی نازل ہوئی تھی اور مسلمان تھوڑے تھے یہی عمل کیا اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طریقہ کو اپنایا نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی آخر وقت تک دورکعت نماز پڑھائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ میرا یہ ذاتی اجتہاد ہے یہ سن کر حضرت عبد الرحمن چلے آئے ۔ اور آکر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو اس کے علاوہ کوئی اور بات معلوم ہے؟
انہوں نے کہا نہیں۔ پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا پھر میں کیا کروں؟ وہ بولے تم اپنی معلومات کے مطابق عمل کرو۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا مخالفت میں شروفساد کا اندیشہ ہے جب مجھے اس بات کا علم ہوا کہ انہوں نے چار رکعت پڑھائی ہیں تو میں نے بھی اپنے ساتھیوں کو چار رکعت پڑھائیں۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب مجھے اطلاع ملی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعت نماز پڑھائی تو میں نے بجائے چار رکعت کے دورکعت ہی نماز پڑھائی لیکن اب میں ویسا ہی کروں گا جس طرح حضرت عثمان نے نماز پڑھائی ہے یعنی ہم ان کے ساتھ چار رکعت پڑھیں گے۔ بعض اہل روایت کے نزدیک یہی پہلا اعتراض تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل پر کیا گیا۔

ولید پر شرابی نوشی کا الزام
خلافت عثمانی کے دوسرے سال ولید کوفہ پر گورنر مقرر ہوا تھا۔ ولید بن عقبہ نے پانچ سال تک بہت اچھی حکومت کی۔رعایا میں ہردلعزیز تھے۔ ان کے گھر کے دروازے پر وقت کھلے رہتے تھے۔ لیکن کوفہ میں چند ایسے جھگڑے پیدا ہوئے کہ شرفاء عرب ایک گروہ ان کے خلاف ہوگیا۔انہوں پہلے پہل معزولی کی کوششیں کیں مگر ناکام ہوئے۔ حضرت عثمان غنی نے ان کو توجہ نہ دی۔ ان میں ابو زنیب بن عوف ازدی ، ابو مورع اسدی شامل تھے۔ ولید بن عقبہ ایک نومسلم شاعر ابو زبیدہ کے ساتھ اکثر شراب پینے لگے۔ابو زینب بن عوف ازدی ، ابو مورع اسدی اور جندب نے جو اکثر ان سے خفائف رہتے تھے۔ ایک دن ولید کی انگھوٹھی اتار لی۔اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انگوٹھی پیش کر کے کہا کہ ولید کی یہ انگوٹھی ہم نے حالت شراب نوشی میں اتار لی انہیں شراب پیتے اور قے کرتے دیکھا ہے داڑھی میں شراب کی بو آتی ہے۔

ان لوگوں نے کوفہ بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ پھر یہ لوگ عبداللہ بن مسعود کے پاس پہنچے تو عبد اللہ بن مسعود نے کہا جو ہم سے کوئی عیب پوشیدہ رکھے گا ہم ان کی جاسوسی نہیں کریں گے جو ہمارے عیبوں کی پردہ داری نہیں کرے گا ہم ان کی پردہ داری نہیں کریں گے۔ ان باتوں کا ولید کو علم ہوا تو عبداللہ بن مسعود کو بلایا اور بات کہ وضاحت طلب کی ۔ جس پر دونوں میں تکرار بڑھ گئی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک صبح کی نماز دو کی بجائے چار رکعت پڑھا دی پھر کہا کہ دو اور پڑھا دوں۔
بہرحال ان پر شراب نوشی کو الزام سچ ثابت ہوا حضرت علی نے حد جاری کی۔ ولید بن عقبہ کی معزولی کے بعد سعید بن عاص کوفہ کے گورنر مقرر ہوئے۔

سعید بن عاص اور کوفہ میں بدنظمی
سعید بن عاص کوفہ میں گورنر منتخب ہوئے تو اہل کوفہ میں بدنظمی پیدا ہو گئی۔سعید نے حضرت عثمان کو اطلاع دی کہ شرفا اور معزز خاندانوں کے عرب جو یہاں آکر آباد ہوئے تھے ان کا غلبہ تھا اور وہ کسی کے بس میں نہیں ہیں۔ اور جو بعد میں کوفہ میں آباد ہوئے ہیں وہ شرفا اور معزز خاندانوں کی پیروی نہیں کرتے۔ حضرت عثمان نے خط میں کہا اور سمجھایا کہ بعد والے پہلے والوں کی پیروی کریں لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ سعید بن عاص نے مجبورا جہاد کا اعلان کردیا اور بدنظمی وقتی طور پر ختم ہو گئی۔ ولید بن عقبہ کی معزولی کے بعد سعید بن عاص نے جامع مسجد کوفہ کو اچھی طرح دھلوایااور خطبہ دیا ۔ ان کا گفتار کا انداز اس طرح کا تھا لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ ایک قریشی جاتا ہے دوسرا آ جاتا ہے۔ ایک دن سعید بن عاص رفقاء کے ساتھ ایک محفل میں تھے کہ حبیش اسدی کی زبان سے نکلا۔
”طلحہ بن عبید اللہ بڑے فیاض ہیں۔“

اس پر سعید بن عاص نے کہا:
” جس شخص کے پاس نشاستج کی سی زمین ہو اسے بخدا ایسا ہی فیاض ہونا چاہیے ایسی زمین میرے پاس ہوتی تو تو تم لوگ بھی خوب چین کرتے۔“
یہ بات سن کر حبیش⁴ کا بیٹا عبدالرحمن بہت نوعمر تھا نے کہا میرا خدا کی قسم یہ جی چاہتا ہے کہ یہ زمین آپ کے قبضے میں ہوتی۔“
نشاستج اس وقت کوفہ کی بہترین زمین تھی جو دریائے فرات کے کنارے واقع تھی۔
کچھ لوگوں نے کہا۔ ماشاء اللہ تمہاری کیسی کیسی ہوسیں ہیں۔
حبیش اسدی نے کہا کہ یہ لڑکا کم سن ہے اس کی باتوں کا خیال نہ کریں
کہنے لگے خوب سارے سواد کی زمینیں سعید کے لیے
اس طرح حبیش نے کہا آپ نہیں دیکھتے کہ اس سے بڑی بڑی تمنائیں ہیں آپ کے لیے

مگر مالک اشتر جندب بن زہیر ابن ذی الحنکہ صعصعہ بن کواء کمیل بن زیاد عمیر بن ضابی کی تسکین نہ ہوئی اور بگڑ کر عبدالرحمن کو ذود و کوب کرنے لگے۔اور اتنا مارا کہ بےہوس ہوگئے۔سعید بن عاص بجائے حکم دینے کے قسمیں دلا دل کر روکتے رہے مگر ان لوگوں نے ایک نہ سنی۔اسی اثنا بنو اسد کو خبر ہوئی وہ اکٹھے ہو کے قصر امارت کو گھیر لیا سعید بن عاص نے معاملہ وقتی طور پر سدھارا۔ جب حبیش اور اس کا بیٹے کو ہوش آیا تو سعید بن عاص نے انہیں بھی سمجھا بجھا کر بھیج دیا۔ اس واقعہ سے ایک بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہوئی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو نہایت سختی سے حکم دیا تھا کہ کوئی عرب اپنے وظائف مقرر وقت تک قناعت کریں اور دیگر ممالک میں میں کوئی زمین نہ خریدے نہ کاشتکاری کرے۔ ان کی تاکید تھی کہ عرب جہاں رہیں مجاہد بن کر رہیں لیکن جب حضرت عثمان جب خلیفہ مقرر ہوئے انہوں نے پابندی اٹھا دی۔ اہل عرب کے بہت امراء نے شام عراق کوفہ مصر میں زمینیں خریدیں۔ اسی کا انجام تھا کہ باہمی حسد و کینہ کے جذبات بھی ان میں پیدا ہوتے گئے۔

ایک واقعہ اور بھی مرکوز ہےکہ ایک دن سعید بن عاص کے گھر شعر خوانی ہو رہی تھی۔ مالک بن کعب اسود بن یزید نخعی اور مالک بن حارث بن اشتر بھی موجود تھے۔ سعید نے کہا سواد کا علاقہ قریش کا باغ ہے. اس سے اندازہ ہوتا ہے قریش نے کتنی جلد ہی زمینداریاں پیدا کر لی تھیں ۔سعید کے اس جملے نے مالک اشتر کو گرما دیا اس نے کہا۔ تو آپ کے خیال میں یہ سرزمین عراق ہماری تلواروں نے فتح کیا ہے آپ کی اور آپ کی قوم کے لیے ہے ۔ اس گفتگو کے دوران لوگ سعید بن عاص سے الجھتے رہے۔عبدالرحمان اسدی جو کوتوال تھا اس نے تمام افراد کو ڈانٹا اور کہا کہ تم لوگ امیر سے زبان درازی کرتے ہو۔سختی اور درشتی کے لہجے میں بات کرتے ہو۔ یہ کہتے ہی مالک بن اشتر نخعی نے لوگوں اس کو پکڑ لو ۔ ساتھ ہی سب لوگ عبدالرحمن کو پیٹنے لگے اس قدر مارا کہ بےہوس ہو گئے ۔جب اس کے منہ پر پانی چھڑکا گیا تو ہوش آیا۔کہنےلگے افسوس ہے مجھے اس شخص نے مارا جس آپ کی صحبت کے لیے منتخب میں نے ہی کیا تھا۔سعید نے کہا جو ہونا تھا سو ہو اب وہ لوگ میرے یہاں جمع نہیں ہوں گے۔

اس کے بعد لوگ گھروں میں بیٹھ کر سعید بن عاص کے خلاف بولنے لگے۔ چند روز میں ہی ان کی تعداد بڑھ گئی۔ دیگر شرفا کوفہ نے حضرت عثمان کو اطلاع دی اور لکھا کہ ان لوگوں کا یہاں رہنا ممکن نہیں یہاں سے نکال دینا چاہیے جواب میں عثمان نے کہا۔ ان لوگوں کا شام میں معاویہ کے پاس پہنچا دو۔ تو سعید بن عاص دس سرکردہ رہنماؤں کو شام بھیجنے کی تیاری کرنے لگے۔⁵ ان لوگوں کا شام جانا اور وہاں کے حالاتِ مفصل ہم ان شاءاللہ تعالیٰ اگلی قسط میں تفصیل سے لکھیں گے.

حوالہ جات
1. حضرت عمر فاروق نے وصیت کے ساتھ فرمایا تھا سعد بن ابی وقاص کو پہلے کسی برائی یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔
2. تاریخ اسلام از مولوی شرر
3. تاریخ طبری جلد سوم ، حصہ اول
4. تاریخ طبری میں میں حبیش کا نام خنیس درج ہے واللہ اعلم
5. سعید بن عاص کے بہت سے واقعات طبری اور تاریخ اسلام شرر سے ماخوذ ہیں۔

اہل علم سے اپیل ہے کہ جہاں کہیں مجھے غلطی پر پائیں تو ضرور مطلع فرمائیں۔ خاک پا ضرور ممنونِ کرم ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment