ہوم << ترقی یا حقوق؟ – سلمان احمد قریشی
600x314

ترقی یا حقوق؟ – سلمان احمد قریشی

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اس بار انتخابی معرکہ محض حکومت کی تبدیلی کا نہیں بلکہ اس سوال کا بھی ہے کہ کشمیری عوام اپنی ترجیحات کس بنیاد پر طے کرتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے، شناخت و خودمختاری، مہنگائی، روزگار، اختیارات اور عوامی حقوق،یہ سب اس انتخابی ماحول کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ انتخابی فضا ماضی سے خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اسلام آباد اور مظفرآباد کے تعلقات، کشمیری عوام کی ترجیحات اور پاکستان کی مجموعی سیاسی سمت کا بھی ایک اہم اشارہ ہوتے ہیں۔ اس بار بھی صورتحال مختلف نہیں بلکہ کئی حوالوں سے پہلے سے زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ انتخابی عمل مرحلہ وار کرانے کا فیصلہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ تحریک، بڑی جماعتوں کی مرکزی قیادت کی بھرپور انتخابی مہم اور تحریک انصاف کی نسبتاً کمزور سیاسی موجودگی اس انتخاب کو منفرد بنا رہی ہے۔آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں اقتدار کا سفر ہمیشہ ہموار نہیں رہا۔ مختلف ادوار میں مسلم کانفرنس، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں حکومت میں رہیں مگر کئی وزرائے اعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہ کر سکے۔ کسی کو گھر بھیجاگیا، کوئی عدالتی فیصلوں کی نذر ہوا اور کسی کو اپنی ہی جماعت کے اندر سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تاریخ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں عوامی مینڈیٹ کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام بھی ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

قیامِ آزاد کشمیر کے بعد متعدد قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہو چکے ہیں۔ اس تاریخ نے آزاد کشمیر کی سیاست کو یہ سبق ضرور دیا کہ یہاں حکومت بنانا جتنا اہم ہے، اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ اس انتخاب کا سب سے نمایاں پہلو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی وہ تحریک ہے جس نے بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمت، ٹیکسوں اور بنیادی حقوق کے سوال کو مرکزی سیاسی بحث بنا دیا۔ اس تحریک نے یہ ثابت کیا کہ کشمیری عوام اب صرف انتخابی وعدوں سے مطمئن نہیں ہوتے بلکہ وہ عملی اقدامات اور اپنے آئینی و معاشی حقوق کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر سیاسی جماعت اپنی تقریروں میں عوامی حقوق کا ذکر کرنے پر مجبور ہے۔موجودہ انتخابات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہیں مرحلہ وار کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے حق میں انتظامی اور سکیورٹی وجوہات پیش کی جا رہی ہیں، جبکہ ناقدین اسے سیاسی زاویے سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ بہرحال، اس تبدیلی نے انتخابی مہم کا رخ ضرور بدل دیا ہے۔

انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی مرکزی قیادت کو میدان میں اتار دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے روایتی انداز میں عوامی رابطہ مہم چلا رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ دوسری طرف استحکام پاکستان پارٹی بھی اپنی سیاسی موجودگی درج کرانے کی کوشش کر رہی ہے اگرچہ اصل مقابلہ بڑی جماعتوں کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔ نواز شریف نے مظفرآباد کے جلسے میں یہ جملہ کہا کہ ”میرا دل کرتا ہے کہ کامیابی کے بعد شہباز شریف سے کہوں مجھے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں۔” بظاہر یہ ایک ہلکے پھلکے انداز میں کہا گیا جملہ تھا مگر سیاست میں ہر لفظ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ مخالفین نے اسے اقتدار اور پروٹوکول سے مسلسل وابستگی قرار دیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے حامی اسے محض ایک جذباتی اظہار اور کشمیری عوام سے محبت کا انداز بتا رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک ایسے بیانات انتخابی ماحول میں مختلف تعبیرات اختیار کر لیتے ہیں۔

نواز شریف کاجملہ انتخابی مہم کا سب سے زیادہ زیرِ بحث بیان بن گیا۔کچھ سیاسی مخالفین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر کشمیر سے اتنی ہی محبت ہے تو ذاتی رہائش گاہ کا نام ”جاتی امرا” کے بجائے ”کشمیر ہاؤس” کیوں نہ رکھا گیا؟ یہ زیادہ تر ایک سیاسی نکتہ ہے جس کا تعلق کسی عملی پالیسی سے نہیں،جذباتی اور علامتی سیاست سے ہے۔ اسی طرح قرض لے کر ترقیاتی منصوبے بنانے، موٹرویز، اورنج لائن اور دیگر منصوبوں پر بھی مختلف آرا موجود ہیں۔ ایک طبقہ انہیں جدید پاکستان کی علامت قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا انہیں مہنگے منصوبے کہتا ہے جن سے معیشت پر بوجھ بڑھا۔ ان معاملات پر رائے سیاسی وابستگی کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ یہ جملہ مذاق تھا یا سنجیدہ خواہش، بلکہ یہ ہے کہ کیا آزاد کشمیر کے عوام کی ترجیح واقعی صرف ترقیاتی منصوبے ہیں؟

گزشتہ برسوں میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر دونوں جگہ عوامی تحریکوں نے یہ پیغام دیا کہ شناخت، اختیارات، وسائل پر حق، سستی بجلی، روزگار اور بااختیار حکومت جیسے مطالبات ترقیاتی نعروں سے زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی تو آزاد کشمیر کا بجٹ کئی گنا بڑھایا جائے گا اور پنجاب جیسے منصوبے یہاں بھی لائے جائیں گے۔ لیکن ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ترقی ہی عوامی مسائل کا واحد حل ہوتی تو پھر عوامی احتجاج کیوں جنم لیتے۔؟ ان کے مطابق اصل مسئلہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، خودمختاری اور گورننس کا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے مخالفین یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ موٹرویز، اورنج لائن اور دیگر بڑے منصوبے ضرور بنے مگر ان کے ساتھ قومی قرضوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے حامی مؤقف رکھتے ہیں کہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کسی بھی معیشت کی ترقی کے لیے ضروری ہوتی ہے اور اس کے ثمرات طویل مدت میں سامنے آتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس بحث کے دونوں پہلو موجود ہیں اور فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ کس دلیل کو زیادہ وزن دیتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کے جارحانہ بیانات پرمریم نواز کا یہ کہنا کہ ”کشمیر میں حکومت کسی اور کی ہے” بھی سیاسی بحث کا موضوع بنا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوام یہ حقیقت بخوبی جانتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے سیاسی فیصلوں پر اسلام آباد کا اثر ہمیشہ سے موجود رہا ہے، اس لیے ذمہ داری سے لاتعلقی کا تاثر آسانی سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنی سابقہ حکومتی کارکردگی کے دفاع کے ساتھ میدان میں ہے اور بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف استحکام پاکستان پارٹی اپنی سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ تحریک انصاف داخلی مسائل اور محدود انتخابی سرگرمیوں کے باعث پہلے جیسی مؤثر قوت دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ انتخاب شاید پہلی بار اس شدت سے یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ کشمیری عوام کو اصل میں کیا چاہیے؟

کیا وہ سڑکیں، بسیں اور عمارتیں چاہتے ہیں یا اپنے وسائل پر زیادہ اختیار، بہتر طرزِ حکمرانی اور پائیدار معاشی انصاف کے لیے سنجیدہ ہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ عوام دونوں چیزیں چاہتے ہیں مگر ان کی ترجیح حقوق کے ساتھ ترقی ہے، صرف ترقی کے وعدے نہیں۔آزاد کشمیر کے ووٹر اب پہلے سے زیادہ باشعور، باخبر اور سیاسی طور پر متحرک ہیں۔ وہ وعدوں سے زیادہ کارکردگی اور نعروں سے زیادہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب میں کامیابی صرف بڑے جلسوں، بلند نعروں یا ترقیاتی اعلانات سے ممکن نہیں ہوگی بلکہ وہی جماعت عوام کا اعتماد حاصل کرے گی جو حقوق، گورننس، معیشت اور ترقی کے درمیان ایک قابلِ عمل توازن پیش کر سکے۔یہ انتخابات دراصل اس سوال کا جواب دیں گے کہ آزاد کشمیر کی سیاست کا محور آئندہ برسوں میں ”ترقی” ہوگی یا ”حقوق”یا پھر عوام دونوں کو ایک دوسرے کا لازمی جزو سمجھتے ہوئے نئی سیاسی سمت متعین کریں گے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment