ہوم << ذاتی تجربہ – زیان مصطفیٰ
600x314

ذاتی تجربہ – زیان مصطفیٰ

چند دن پہلے کی بات ہے۔ میں کسی سے بات کر رہا تھا۔ گو کہ یہ پہلی باقاعدہ ملاقات تھی، لیکن شناسائی پہلے سے تھی۔ ان کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا، پھر خود بھی ان کے مزاج اور سوچ کی جھلک دیکھ چکا تھا۔ اسی لیے جب ملاقات کا موقع ملا تو موقع دیکھ کر اپنا ایک ایسا مسئلہ عرض کر دیا جو چند ماہ سے مجھے پریشان کر رہا تھا۔ مسلسل کوشش کے باوجود حل نہیں ہو رہا تھا، یہاں تک کہ میں اس معاملے میں تقریباً ناامید ہو چکا تھا۔

ان کو اپنا بڑا جانتے ہوئے اس امید کے ساتھ مسئلہ عرض کیا کہ شاید وہ کوئی ایسا حل بتا دیں جو میری نظروں سے اوجھل رہا ہو۔۔ انہوں نے پوری توجہ سے میری بات سنی۔ جب میں خاموش ہوا تو اپنائیت سے فرمایا۔ پتا ہے ہم زندگی میں بہت سی چیزوں کے لیے دعا کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ دعا کیوں نہیں کرتے؟
پھر انہوں نے دعا کے بارے میں چند اور باتیں کہیں، کچھ حوصلہ دیا، کچھ امید دلائی۔ وہ شخصیت فرما رہی تھیں اور میں اپنی سوچوں میں مگن ہو گیا تھا۔۔
کتنی حیرت کی بات تھی کہ یہ سب جانتے بوجھتے بھی میں اسی عمل سے بالکل دور رہا۔ جس مسئلے کو اپنے فہم سے حل کرنا چاہ رہا تھا، اس کا حل تو میرے اختیار میں تھا ہی نہیں۔

میں تو ایک انسان ہوں، محدود، عاجز اور محتاج!
میں یہ کیسے بھول گیا کہ اصل اختیار میرے رب کے ہاتھ میں ہے؟
اسباب اختیار کرنا میرا کام ہے، مگر نتائج دینا صرف اللہ پاک کا کام ہے۔ ہم بھی کس قدر عجیب ہیں۔ ہر چیز خود حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی عقل کو عقل کل سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر اس دروازے پر دستک دینا بھول جاتے ہیں جو حقیقتا سب کا مالک ہے۔ ایک آن میں سب کچھ بدل سکتا ہے۔
آج جب اس واقعے کو یاد کر رہا تھا تو ایک اور خیال آیا کہ ان کی اس بات نے میرے اندر کتنی ہمت پیدا کر دی کہ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔ میرے پاس ایک ایسی ذات ہے جس پر میں مکمل بھروسا کر سکتا ہوں؛ جو میری ہر بات سنتی ہے، میرے دل کے حال کو مجھ سے بہتر جانتی ہے، جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے، اور جس کے لیے کوئی مسئلہ بڑا نہیں۔

وہیں میرے ذہن میں ایک اور سوال آیا کہ آخر وہ لوگ کیا کرتے ہوں گے جو خدا کے منکر ہیں؟
جب ہر دروازہ بند ہو جائےجب کوئی سہارا باقی نہ رہے۔ ہر طرف سے ٹھوکریں مل رہی ہوں۔ جب اپنی تمام کوشش کے باوجود ناکامی ہو جائے۔
تو وہ کس کے سامنے دل کھولتے ہوں گے؟
کس سے امید لگاتے ہوں گے؟
کس پر بھروسہ کرتے ہوں گے؟
شاید، ان میں سے بعض اپنے آپ پر بھروسا کرتے ہوں، بعض اپنے قریبی لوگوں سے سہارا لیتے ہوں، اور بعض وقت، قسمت یا کسی اور تصور سے امید وابستہ کرتے ہوں۔ لیکن جب یہ سب بھی ساتھ چھوڑ دیں تو منکرِ خدا کس سے آس لگاتے ہوں گے؟

ایتھیزم (الحاد) کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ وہ انسان سے امید بھی چھین لیتا ہے۔ اور اس کو صرف اپنی طاقت، اپنے وسائل اور اس دنیا کے سہاروں تک محدود کر دیتا ہے۔ جبکہ انسان کبھی اتنا مضبوط نہیں ہوسکتا کہ ہر آزمائش، مشکل،پریشانی کا بوجھ اکیلے اٹھا سکے۔
میں جب ٹوٹتا ہوں تو اپنے رب کے سامنے جھک سکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میری دعائیں ایک ایسی ہستی سن رہی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر دنیا کے تمام دروازے بند بھی ہو جائیں تو بھی اس رحیم کا دروازہ مجھ پر بند نہیں ہوگا۔ وہ کریم تو میری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔
اس واقعے سے ایک اور اہم سبق بھی سیکھا۔کئی مرتبہ جواب ہمیں معلوم ہوتا ہے، مگر وقتی طور پر ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ میں جانتا تھا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ دعا کی فضیلت پر بے شمار احادیث پڑھ چکا تھا، بیانات، واقعات بھی سن چکا تھا، لیکن اس دوران یہی بنیادی بات میرے ذہن سے نکل گئی تھی۔

خیال رہے کہ، مشورہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جو صاحبِ بصیرت ہو، آپ کی بات سمجھ سکے، راز رکھ سکے، قابلِ اعتماد ہو، اور آپ کے غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment