مسلمان علوم و فنون میں کتنے بلند پایہ کے پہنچے ہوئے تھے۔ ہمارے اسلاف کیا تھے۔ کتنے عظیم تھے۔ کیسے کیسے کارنامے انجام دیے ،عالمی تاریخ کے ہر ورق پر ،ہر صفحے پر, کیا کیا نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ مہتمم بالشان اور ایمان افروز داستان دلنواز بھی ہے اور دلدوز بھی۔اس داستان سے ان لاتعداد داستانوں کا سراغ ملتا ہے۔ جو آج مغرب کی علمی ، ثقافتی اور فنی تفوق و برتری کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہیں اور اسی داستان میں وہ عظمت پارینہ دیکھتی اور چمکتی ہے جس کی آب و تاب سے کسب نور کر کے مغرب اس مرتبے اور منزل کو پہنچا ہے ۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ مغرب ہی کے اہل علم نے صدیوں حقیقت اور سچائی کو دبانے اور چھپائے رکھا کہ وہ آج سیادت عالم کے جس مقام ارفع و اعلیٰ پر فائز ہے وہ اس کو صرف اس لیے حاصل ہے کہ پہلے اس نے عالم اسلام کی تقریباً ایک ہزار سالہ علمی ترقیوں اور تحقیقی کاوشوں کا سہرا بڑی حکمت و دانائی سے یورپ اور عیسائیت کی نشاۃ ثانیہ کے سر باندھا اور پھر اس فریب کے بل بوتے پر مسلمانوں کو چار دانگ عالم میں اس قدر رسوا اور مطعون کیا کہ جہالت و تعصب ، تنگ نظری اور دون فطری اور مسلمان مترادف اور ہم معنی سمجھے جانے لگے۔ ایک وقت تھا دوسرے علوم و معارف کی طرح علم موسیقی میں بھی مسلمانوں کو ید طولی کی حیثیت حاصل تھی۔ علم موسیقی میں بڑے بڑے نام ہیں ان کا مختصر تعارف ذیل میں پیش کیا جائے گا۔ موسیقی پر سب سے پہلے مسلمانوں میں الکندی نے لکھا۔پھر الفارابی اور ابن سینا نے گرانقدر اضافے کیے۔
ابن باجہ ابوالصلت ناصر الدین طوسی اور قطب الدین شیرازی نے مزید اضافے کیے۔ پھر صفی الدین عبدالمومن اور عبد القادر ابن غیبی نے اس علم کا بام عروج تک پہنچایا۔ یہ دونوں آذربائجان کے باشندے تھے ۔ مسلمانوں میں یعقوب کندی پہلا شخص ہے جس نے موسیقی پر سائنسی نقطہ نظر سے بحث کی۔ موسیقی میں جن مختلف سروں کے امتزاج سے نغمے پیدا کیے جاتے ہیں ان میں سے ہر سُر کا ایک خاص درجہ (PITCH) ہوتا ہے۔ چنانچہ جس سر کا درجہ کم ہو وہ کانوں کو بھاری، اور جس سُر کا درجہ زیادہ ہو وہ کانوں کو تیز لگتی ہے۔ کسی سُر کا یہ درجہ در اصل اس کی تکرار (FREQUENCY) پر موقوف ہوتا ہے۔ جب کسی سُر کی آواز پیدا کی جائے تو ہوا میں لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ چنانچہ یہی لہریں جب کان کے پردے سے ٹکراتی ہیں تو آواز کا احساس ہوتا ہے۔ ہر سُر کے لیے ایک سیکنڈ میں پیدا ہونے والی لہروں کی تعداد مقرر ہوتی ہے جسے اُس سُر کی تکرار کھتے ہیں۔ اسی تکرار سے سُر کا درجہ متعین ہوتا ہے۔ چنانچہ جس سر کی تکرار یعنی فی سیکنڈ پیدا ہونے والی سروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اس کا درجہ اونچا ہوتا ہے اور وہ آواز تیز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جس سُر کی تکرار کم ہوتی ہے اس کا درجہ نیچا ہوتا ہے اور وہ آواز بھاری ہوتی ہے۔
یعقوب کندی کا کمال یہ ہے کہ اُس نہ صرف موسیقی کے سروں کی تکرار معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا، بلکہ اس طریقے کو عمل میں لا کر ہر سُر کی تکرار معلوم کی اور اس کا درجہ متعین کیا۔ الکندی بصرے میں 800ء میں پیدا ہوا۔ بصرہ ہی آبائی شہر تھا جہاں تعلیم حاصل کی بعد میں بغداد میں سکونت اختیار کی ۔ الکندی کو نیوٹن کے نظریہ کشش کا پیشرو کہا جاتا ہے۔ علم موسیقی میں دوسرا نام الفارابی کا ہے۔ ابو نصر محمد ابن محمد ابن طرحان ابن ازلغ الفارابی (Alpharabius) ترکی النسل تھا ۔ اس کی تاریخ ولادت معلوم نہیں ۔ وہ ترکستان میں فاراب کے قریب پیدا ہوا بغداد میں اس نے تعلیم پائی ، حلب میں سکونت اختیار کی اور 51-950ء میں دمشق میں اس کا انتقال ہوا ۔ انتقال کے وقت اس کی عمر اسی سال تھی ، وہ اپنے زمانے کی سائنس اور فلسفہ سے پوری طرح واقف تھا۔ ابتدا میں وہ ارسطو کے حلقہ بگوشوں میں تھا جس کی وجہ سے وہ بے دین مشہور ہو گیا ۔ بغداد میں اس نے عیسائی عالموں سے تعلیم حاصل کی تھی ۔
جب چاروں طرف سے اس پر بے دینی کا الزام لگایا جانے لگا تو اس کے مربی سیف الدولہ نے حلب میں اس کے رہنے کا انتظام کر دیا ۔ وہاں اس نے صوفیوں کا مسلک اور ان کا لباس اختیار کر لیا ۔ اپنی ضروریات زندگی سے بے نیاز ہو گیا ۔ جب سیف الدولہ نے اس سے پوچھا کہ اس کا کیا وظیفہ مقرر کیا جائے تو اس نے کہا کہ میرے لیے چار درہم یومیہ کافی ہوں گے ۔ چنانچہ یہ قلیل رقم اس کو زندگی بھر ملتی رہی ۔ آخر عمر میں وہ راسخ العقیدہ مسلمان بن گیاتھا ۔ الفارابی کے نزدیک فلسفہ کا اصل مقصد خدا کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ الفارابی نے ارسطو کی طبیعیات ، موسمیات اور منطق وغیرہ کی کتابوں پر شرحیں لکھیں ۔ اس نے فلسفہ ، عمرانیات اور سائنس پر بھی کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں سب سے اہم رسالہ فصوص الحکم رساله فی مبادی آراء اهل المدينة الفاضلہ کتاب الاحصاء العلوم ہیں اور کتاب الموسیقی نظریہ موسیقی پر بڑی اہم کتاب ہے۔جس میں اس نے موسیقی میں سر اور تال کے رموز بتائے ہیں اس نے موسیقی کا ایک خاص ساز میں ایجاد کیا تھا اس نام نام قانون رکھا تھا ۔ الفارابی کی کچھ کتابوں کالاطینی میں ترجمہ کیا گیا۔
ابن سینا نے علم موسیقی پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس نے الفارابی اور الکندی کے اصولوں کو اپنایا اور ان پر گراں قدر اضافے کرکے تہلکہ مچا دیا تھا ۔ ابو بکر محمد ابن یحیی ابن الصائغ ابن باجه (Avenpace) 1106 سے قبل سراقطہ (Saragosa) میں پیدا ہوا ۔ اس نے طب ، علم ہندسہ ،ہیئت ، تاریخ طبیعی ، کیمیا اور فلسفہ پر رسالے لکھے۔ اس پر ارسطو کا فلسفہ چھایا ہوا تھا جس کی بدولت وہ بے دین سمجھا جاتا تھا۔ وہ غرناطہ سراقطہ اور فاس میں رہا ۔ فلسفہ پر اس کی دو مشہور کتا ہیں ” کتاب تدبیر المتوجہ اور رسالہ الوداع ہیں ۔ ان دونوں کا عبرانی میں ترجمہ ہوا ۔ اس نے بطلیموس کے کچھ نظریوں کو غلط ٹھہرایا ۔ ابن رشد نے ابن باجہ کے فلسفہ کا اثر قبول کیا۔ ابن باجہ کو موسیقی سے عشق تھا ۔ وہ عود بجانے میں ماہرانہ استعداد رکھتا تھا ۔ اس نے موسیقی پر ایک کتاب لکھی جو اب ناپید ہے ۔ یہ کتاب مغرب میں ویسے ہی مقبول تھی جیسے الفارابی کی تصنیف ” كتاب الموسيقي ” مشرق میں مقبول تھی ۔ ابن باجہ شاعر بھی تھا ۔ ابن باجہ بھی تیس سال کا تھا کہ کسی نے اسے زہر دے کر مار ڈالا۔ ( صانع سنار کو کہتے ہیں ممکن ہے اس کا دادا سناری کرتا ہو)۔
ابو الفتح موسیٰ بن یونس زیادہ تر کمال الدین بن یونس کے نام سے مشہور ہیں ۔ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے۔ علم موسیقی کو باقاعدہ طور پر اہمیت دیتے تھے۔
ابو جعفر محمد ابن محمد ابن الحسن ناصر الدین طوسی 1201 ء میں پیدا ہوا اور 1274 ء میں اس نے وفات پائی ۔ وہ بہت بڑا سائنس داں تھا ۔ ہلا کو نے اسے اپنا وزیر مقرر کیا۔ اس نے مراغہ میں بہت بڑی رصد گاہ قائم کی ۔ اس نے موسیقی پر ” کتاب فی علم الموسیقی ” تھی ، علم المناظر پر اس کی کتاب کا نام ” تحریر کتاب المناظر ” ہے ۔ علم المثلث پر اس نے گرانقدر تحقیق کی ، اس علم پر اس کی تحقیق ” کتاب شکل القطاع ” قرون وسطی کی سب سے اہم تصنیف ہے ۔ اس کا ذکر ریاضی دانوں کے ساتھ کیا جا چکا ہے ۔
قطب الدین شیرازی 1236ء میں پیدا ہوا۔ وہ کئی علوم کا عالم تھا۔ علم موسیقی پر اس خدمات قابل قبول ہیں۔
صفی الدین علم موسیقی کا سب سے بڑا عالم ہوا ہے ۔ اس نے موسیقی پر دو کتابیں لکھیں (1) ” کتاب الادوار “اور (2) رسالۃ الاشرفیہ ” ۔ اس دوسری کتاب کا نام اس نے اپنے شاگرد اشرف الدین کے نام پر رکھا تھا ۔ موخر الذکر کتاب پر بہت سی شر حیں لکھی گئیں ۔ اس کا ماخذ الفارابی کی ” کتاب الموسیقی ” ہے جس پر صفی الدین نے بہت کچھ اضافہ کیا ہے ۔ اس نے دو تار والے آلات موسیقی ایجاد کیے جن کا نام “مغنی “اور ” نزہیہ ” رکھا ۔ اس نے نغمہ نگاری میں ترسیم اعداد “Notation” کا استعمال کیا۔ اس نے موسیقی کے نظامی دبستان (Systematist School) کی بنیاد رکھی ۔ جو اسکیل اس نے ایجاد کیا اس سے زیادہ مکمل اسکیل (Scale) کوئی اور ایجاد نہ کر سکا۔ صفی الدین نے ایک کتاب علم عروض قافیہ اور خطابت پر بھی تصنیف کی جس کا نام ” کتاب فی العروض القوافی و البدیع ” ہے ۔
محمد ابن على الخطیب الار بیلی کی ولادت اور وفات کی تاریخیں معلوم نہیں ۔ البتہ چودہویں صدی کے نصف اول میں اس کا پایا جانا ثابت ہے ۔ 1329 ء میں اس نے موسیقی پر ایک کتاب تھی جس کا نام ” جواہر انتظام فی معرفت الانعام ” ہے ۔ چونکہ یہ کتاب نظم میں ہے اس لیے اسے “القصیدہ فی الانعام ” بھی کہتے ہیں ۔ جب وہ 1337ء میں مار دینی سلطان شمس الدین الصالح کے دربار سے وابستہ تھا۔ اس نے ایک رسالہ “رسالہ تعریف العلوم ” لکھا ۔ اس میں مختلف علوم کی تعریفیں (Definitions) لکھ کر ان کی ماہیت پر روشنی ڈالی ۔ الار بیلی عراق کے شہر اربیل کا رہنے والا تھا جو دریائے دجلہ کے مشرق میں واقع ہے۔ صفی الدین عبد العزیز ابن سرایا الحلی 1278 ء میں پیدا ہوا ۔ حلہ عراق میں اسی جگہ واقع ہے جہاں قدیم زمانے میں بابل تھا ۔ وہ جزیرہ کے مار دینی دربار کا شاعر تھا ۔ 1329 ء میں قاہرہ جہاں مملوک سلطان حکمران تھا ، گیا مگر جلد واپس آگیا۔ بغداد میں اس کا انتقال مارچ 1349 ء میں ہوا ۔ اس نے موسیقی پر فائدہ فی الانعام بعضاعن بعض و ترتبیہا علی البروج ” لکھی ، اس میں جس بات پر زور دیا ہے وہ یہ ہے کہ نغمہ سازی کرتے وقت منطقه البروج کی مطابقت کی جائے ۔ یعنی نغمہ سازی علم نجوم کے تحت کی جانے تو فائدہ مند ہو گی ۔ یہ خیال عربوں میں زمانہ قدیم سے چلا آتا تھا ۔ الکندی بھی اس کا قائل تھا ۔ الحلی مشہور شاعر بھی تھا اور آج بھی نوجوان ادیبوں میں مقبول ہے۔
شمس الدین محمد ابن عیسیٰ ابن كرا الحنبلی 1282ء میں قاہرہ میں پیدا ہوا اور 1358 میں اس کا انتقال ہوا ۔ وہ بنو امیہ کے آخری خلیفہ مروان ثانی ابن محمد کی اولاد میں تھا۔ (مروان کو دریائے زاب کے کنار سے حضرت عبداللہ بن عباس کے پوتے عبداللہ بن علی نے 25 جنوری 750. کوشکست دی تھی ۔ وہ بھاگ کر مصر گیا اور بوصیر ایک شکستہ کنیسہ میں پناہ گزیں ہوا جو نیل کے مغربی کنارے پر واقع تھا ۔ عباسیوں نے اس کا تعاقب کیا اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کنیسہ تک پہونچ گئے ۔ مروان بہت تھکا ماندہ تھا پھر بھی تلوار ہاتھ میں لے کر باہر نکلا ۔ دشمن نے دور سے نیزہ پھینک کر مارا جس کی ضرب سے 15 اگست 750. کو مروان کا کسمپرسی کی حالت میں انتقال ہو گیا)۔ بن کرا نے موسیقی پر ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام “غايت المطلوب فی عن الانعام و الضروب ” ہے۔ عبد القادر ابن غیبی چودہویں صدی کے وسط میں مراغہ میں جو آذربائیجان کا صدر مقام تھا پیدا ہوا ، وہ جلائری سلطان حسین کا بغداد میں معنی تھا ۔ 1379 ء میں اس نے رمضان کے ہر دن کے لیے ایک نیا نغمہ بنایا ۔ سلطان حسین کے انتقال کے بعد اس کے جانشین سلطان احمد کے دربار سے وابستہ رہا۔
کچھ دنوں تک وہ عثمانی سلطان یلدرم بایزید کے دربار سے بھی منسلک رہا ۔ جب تیمور لنگ نے پہلی بار بغداد کو 1393 ء میں فتح کیا تو اس نے عبد القادر اور کچھ اور فنکاروں کو سمرقند بھیج دیا ۔ وہ شہزادہ میران شاہ کے پاس تبریز چلا گیا ۔ میران شاہ سے تیمور اس کی سرکشی کی وجہ سے خوش نہ تھا ۔ اس نے عبد القادر کو سرکش شہزادے سے ملنا پسند نہ کیا اور عبد القادر کو قتل کرانا چاہا ۔ عبد القادر فرار ہو کر بغداد واپس آگیا ۔ تیمور نے 1401 ء میں بغداد دوبارہ فتح کیا ۔ عبد القادر گرفتار ہو کر تیمور کے سامنے پیش ہوا۔ تیمور نے اس شرط پر جان بخشی کہ وہ تمام عمر اس کے ( تیمور کے ) دربار سے وابستہ رہے گا۔ چنانچہ عبد القادر کو پھر سمرقند میں جانا پڑا ۔ 1935ء کے طاعون میں اس کا ہرات میں انتقال ہو گیا۔ تیموری دربار سے وابستہ ہونے کے بعد عبد القادر نے علم موسیقی پر اپنی اہم کتابیں مرتبہ کیں ۔ یہ تصانیف اس کو قریب قریب وہی مقام عطا کرتی ہیں جو صفی الدین عبدالمومن کا ہے ۔ اس کی تصانیف کے نام یہ ہیں :
(1) ” جامع الالحان ”
(2) “مقاصد الحان ”
(3) ” کنتر الحان اور شرح الادوار “۔
ان تصانیف میں موسیقی کے نظریات کے علاوہ موسیقی کے آلات کی تشریح بھی کی گئی ہے ۔ ” کنتر الحان ” جس میں عبد القادر نے اپنے بنائے ہوئے نغمے جمع کیے تھے ۔ اب دستیاب نہیں ہے۔ وہ نغمہ ساز ہونے کے علاوہ عود بجانے میں کمال رکھتا تھا ۔ چودہویں صدی میں جو موسیقی بہت مقبول تھی وہ نوبہ کہلاتی تھی ۔ یہ چار حرکات یعنی قول ، ترانہ ، غزل اور فرو داشت ( یا فر دست) پر مشتمل تھی ۔ اس نے ایک اور “حرکت ” مستزاد کا اضافہ کیا۔ عبد القادر شاعری ، مصوری اور خطاطی میں بھی ید طولیٰ رکھتا تھا۔ عبد العزیز ابن عبد القادر نے جو متذکرہ بالا عبد القادر کا بیٹا تھا ، موسیقی پر خقاوت الادوار ” تصنیف کی اور اسے عثمانی سلطان محمد ثانی الفاتح کے نام ( جس نے 1451ء سے 1481ء تک حکومت کی معنون کیا۔ محمود بن عبد العزیز بن القادر نے موسیقی پر کتاب مقاصد الاحان لکھی۔ مسلمانوں نے مساعتی mensural موسیقی ایجاد کی تھی۔یہ موسیقی گیارہویں صدی تک اسپین میں اور اسپین کے توسط سے یورپ کے کچھ اور ممالک میں رائج ہوگئی۔ یورپ میں موسیقی پر عربی کی کئ کتابوں کا لاطینی اور عبرانی میں ترجمہ کیا گیا ۔ جن میں سے ایک ابو الصلت کی کتاب بھی شامل تھی۔
یہ حقیقت ہے کہ اہل یورپ تار والے آلات موسیقی سے بلکل ناواقف تھے۔ سب سے پہلے مسلمانوں نے انہیں ان آلات سے روشناس کرایا ۔جن میں اکثر یہ ہیں۔
Lute یہ عود سے بنایا گیا
Rubeb یہ وہی باجہ ہے جو اب وائلن کہلاتا ہے۔
Psaltery سرود اب یہ پیانو کہلاتا ہے
Zither چھ تار والا ستار یا بربط جسے میز پر رکھ کر بجایا جاتا ہے۔
Tabor طنبورہ Guitar 🎸ستار
یہ تھی مسلمانوں کی شاندار تاریخ ، ذرا سوچئے کیا ہم وہ دور واپس نہیں لا سکتے ، یقیناً لا سکتے ہیں ۔ مگر اس کے لیے اتحاد و یگانگت کی بہت ضرورت ہے۔ اللہ کریم ہمیں شاندار ماضی کی طرح شاندار مستقبل عطا فرمائے ۔ آمین



تبصرہ لکھیے