ہوم << چائلڈ ابیوز اور جنسی زیادتی کے واقعات – جویریہ سعید
600x314

چائلڈ ابیوز اور جنسی زیادتی کے واقعات – جویریہ سعید

چائلڈ ابیوز اور جنسی زیادتی کے واقعات شدید غصہ، نفرت اور بے بسی کے احساسات پیدا کرتے ہیں۔ کتنے دنوں تک ذہن پر مظلوم صورتیں حاوی رہتی ہیں ۔ یہ واقعات ہمیں احساس جرم کے ساتھ ہانٹ کرتے ہیں۔ یہ احساس کہ اس میں ہمارا بھی قصور ہے۔ ہم بھی کچھ کرسکتے تھے اسے روکنے کو جو ہم نے نہیں کیا۔

عموما لوگ مذہبیت اور روایات اور پردے کے خلاف چارج شیٹ لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں جیسے درندگی اور وحشت کی یہی یہ اصل وجہ ہو مگر اس پر تحقیقی کام ہونا چاہیے ۔ ایسی درندگی اور وحشت کے پھیلنے کے عوامل کیا ہیں؟
ایسے واقعات ہر معاشرے میں ہوتے ہیں مگر ان کی روک تھام کے لیے وہاں ایسا کیا کیا جاتا ہے جو ہمارے یہاں نہیں ہوتا۔صرف اخلاقی اور مذہبی وعظ، اور بے روح مذہبی پریکٹسز ایسی درندگی سے نہیں بچاسکتے۔ اور نہ ہی سو کالڈ اعلیٰ تعلیم کسی کو روک پارہی ہے۔

سب سے اہم فیکٹر لاقانونیت ہے۔ طاقت ور کے پاس بے انتہا طاقت ہے اور اکاؤنٹیبیلیٹی کوئی نہیں۔ پوری دنیا میں چائلڈ اور وومن ٹریفکنگ کے کالے بزنس کے پیچھے یہی وجوہات ہوتی ہیں۔ جہاں کچھ رکا ہوا ہے وہاں قانون کی عملداری سب سے اہم فیکٹر ہے۔ ظالم کو یقین ہے کہ “کچھ نہیں ہوگا”۔ مظلوم تو ہے ہی اس کے ہاتھوں میں کھلونا، ریاستی مشینری اور معاشرہ بھی کچھ نہیں کرے گا ۔ہم دیکھیں کہ مظلوم کے لئے داد رسی کے کون سے در کھلے ہوئے ہیں؟ کون بات سن کر مدد کو تیار ہے اور اس کا راستہ کیا ہے؟

زیادتی مدرسے میں ہو، اسکول میں ورک پلیس پر یا گھر پر۔ رپورٹنگ کا کیا انتظام ہے اور کتنا آسان ہے اور کتنا موثر ہے ؟
کیا وکٹم رپورٹ کرنے پر خود ڈرتا ہے کہ وہ ہی پھنس جائے گا۔ اگر کوئی اور دیکھتا ہے کہ کسی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو وہ کیسے رپورٹ کرے؟ کیا وہ پھنس جائے گا؟ کیا کمزور لوگوں کے لئے اسپیشل ہیلپ لائن ہے؟ جیسے بچے۔ میں اکثر مغرب کی چائلڈ پروٹیکٹوو ایجنسیز کے بارے میں بہت منفی باتیں سنتی ہوں کہ حکومت بچے چھین کر اس لیے لے گئے کیونکہ ہم مسلمان تھے۔ سچ یہ ہے کہ اگرچہ سسٹم میں کمزوریاں ہیں مگر سسٹم میں کام کرنے کی وجہ سے میرا تجربہ یہ ہے کہ کوئی خواہ مخواہ میں کسی کے بچے کو نہیں لے جاتا ۔

بچے حقیقتا متاثر ہورہے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ شدید جسمانی، جنسی یا سائکولجیکل ابیوز ہو رہا ہوتا ہے تبھی چائلڈ پروٹیکٹو سروسز انوالو ہوتی ہیں ۔ڈاکٹر ، نرس، پولیس، کسی کو بھی شک ہو کہ چائلڈ ابیوز ہورہا ہگ تو ان کا فرض ہے کہ رپورٹ کریں۔ مزید تحقیق اداروں کا کام ہے۔ کیا پاکستان میں ایسا کوئی انتظام ہے؟
چائلڈ سیکس اوفینڈرز کے خلاف سخت ترین کاروائی ہی نہ ہو بلکہ شک پر بھی ان کی کڑی نگرانی کی جائے چاہے وہ مدرسے کے مولوی ہوں، اسکول ٹیچرز ہوں یا باسز ہوں۔ اس معاملے مین سخت آگاہی کی مہم چلانی چاہیے کہ مدد کے لیے کیا کیا جائے۔

بچوں کو آپ سکھا تو دیں کہ یہ بیڈ ٹچ ہے مگر اس کے بعد وہ کیا کریں؟ وہ بے بس اور کمزور ہوتے ہیں۔ کس کو رپورٹ کریں جو ان کو ڈانٹ کر چپ نہ کروائے۔ اس کے بعد وحشت کو بھڑکانے والے عوامل ہیں ۔ ڈرگز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ نشہ کرنے والوں کو صحیح غلط کی تمیز جاتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ پورن اڈکشن ، اسیپیشلی چائلڈ پورن اڈکشن ۔ وحشت انگیز مواد بے دریغ دستیاب ہے۔ اس پر تربیتی نظام کا فقدان ہے۔ جنسی گھٹن اور شہوت کو بھڑکانے کو تو ہزار طریقے نہایت آسانی سے دستیاب ہیں، مگر صنفی احترام، ضبط نفس ، احساس جرم، احساس زیادتی و گناہ سمجھانے والے کہاں ہیں؟ یہ کون سکھائے گا کہ ضرورتوں کو پورا کرنے کے جائز ذرائع کیا ہیں اور اگر تم نے وحشتوں کو لگام نہیں دی تو کیا نتائج یہاں بھگتنے پڑیں گے؟

صرف مذہبی ہی نہیں اچھے خاصے ایجوکیٹڈ، انسانی مساوات کے دعوے کرنے والے گھناؤنی حرکتوں اور کمزوروں پر ظلم میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان کے لئے فلسفیانہ مباحث نہیں ڈنڈے کی ضرورت
ہوتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

جویریہ سعید

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment