واقعۂ کربلا کو بیان کرتے وقت اکثر حضرت حسینؓ کی عظیم قربانی پر تو گفتگو ہوتی ہے، لیکن حضرت زینب بنت علی کے کردار کو اس کے شایانِ شان جگہ نہیں دی جاتی۔ واقعۂ کربلا صرف تلواروں کی جنگ نہیں تھی، بیانیے کی جنگ بھی تھی۔
جب نیزے خاموش ہو گئے، جب تلواریں ٹوٹ گئیں، جب میدانِ کربلا رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت کے لہو سے رنگین ہو گیا، تب ایک نئی جنگ شروع ہوتی ہے حق کے بیانیے کی جنگ۔ اس جنگ کی سپہ سالار حضرت زینب تھیں۔ اگر وہ خاموش رہتیں تو شاید کربلا کو صرف ایک سیاسی بغاوت بنا کر پیش کر دیا جاتا، مگر انہوں نے اپنے خطبات سے دنیا کو بتایا کہ یہ اقتدار کی نہیں، اصولوں کی جنگ تھی۔ انہوں نے بھائی، اپنے دو بیٹوں اور خاندان کی عظیم قربانیاں دیکھیں، مگر حوصلہ نہیں ہارا۔ قید و اسیری بھی ان کی زبان بند نہ کر سکی۔ کوفہ اور شام میں ان کے خطبات نے ضمیرِ امت کو جھنجھوڑ دیا اور ظلم کے چہرے سے نقاب اتار دیا۔
اسی لیے کہا جاتا ہے، حسینؓ نے کربلا میں حق کو جان دے کر زندہ کیا، اور سیدہ زینبؓ نے اپنے بیانیہ سے اس پیغام کو زندہ رکھا۔ ہم ہر سال غم مناتے ہیں، کیا ہم حضرت زینبؓ کی جرأت، بصیرت، استقامت اور حق گوئی کو بھی اپنی بیٹیوں کے لیے نمونہ بناتے ہیں؟ یاد رہےکربلا کی داستان میں سیدہ زینبؓ حاشیہ نہیں، متن ہیں.
( نوٹ: حضرت زینبؓ کے خطبات اور ان کی سیرت سے متعلق روایات قدیم تاریخی مصادر، خصوصاً الطبقات الکبریٰ سمیت دیگر کتبِ تاریخ میں مختلف اسانید کے ساتھ مذکور ہیں۔)



تبصرہ لکھیے