ہوم << مومن مر نہیں سکتا فنا کے ہاتھوں – بنت اسماعیل
600x314

مومن مر نہیں سکتا فنا کے ہاتھوں – بنت اسماعیل

نصر اللہ خان شجیع شہید ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار تھے اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی لیتے تھے۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا۔ جہاں انہوں نے ہزاروں طلبہ کی اخلاقی، فکری اور دینی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

وہ زندگی بھر جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت سرانجام دیتے رہے۔ وہ جماعتِ اسلامی کراچی کے نائب امیر تھے اور فریضۂ اقامتِ دین کی ادائیگی کے لئے شب و روز مصروف رہتے تھے۔ وہ اپنے کارکنان سے بے پناہ محبت، خلوص اور اپنائیت کے ساتھ ملتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ کارکنان میں بے حد مقبول تھے۔ انہوں نے ہمیشہ کراچی کے عوام کو درپیش مسائل اور شہر کی تشویش ناک صورتِ حال کے حوالے سے اسمبلی میں مؤثر آواز اٹھائی۔
نصر اللہ خان شجیع شہید دیانت داری، امانت داری اور اخلاص کا پیکر تھے۔ انہوں نے اپنے منصب اور عہدے سے کبھی کوئی ناجائز فائدہ حاصل نہیں کیا۔

اپنی معاش کے لیے انہوں نے جماعت کے تعلیمی ادارے، عثمان پبلک اسکول، میں ملازمت اختیار کی اور بطور پرنسپل اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ عثمان پبلک اسکول کے مایہ ناز پرنسپل تھے۔ وہ صرف ایک استاد ہی نہیں بلکہ اپنے طلبہ کے لیے ایک شفیق باپ اور مخلص دوست کی حیثیت رکھتے تھے۔ اسی لئے بچے بھی ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ان کی زندگی کا آخری باب بھی ایثار، محبت اور قربانی سے عبارت ہے۔ وہ طلبہ کے ایک تعلیمی و تفریحی دورے کے ساتھ خیبر پختونخوا روانہ ہوئے۔ بالاکوٹ کی سیاحت کے بعد وہ طلبہ کو دریائے کنہار کے کنارے لے گئے۔ وہاں اچانک ایک طالب علم کا پاؤں پھسلا اور وہ دریا میں جا گرا۔

نصر اللہ خان شجیع شہید نے ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر اپنے طالب علم کو بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ انہوں نے طالب علم کی جان بچانے کی کوشش میں اپنی جان قربان کر دی اور جام شہادت نوش کیا۔ اس خود غرضی اور نفسا نفسی کے دور میں ان جیسا بے لوث انسان کم ہی ملتا ہے، جس نے اپنے طالب علم کی جان کو اپنی جان پر ترجیح دی۔ اس المناک سانحے نے ان کے اہل خانہ، دوستوں، شاگردوں اور تمام چاہنے والوں کو غمزدہ کر دیا۔ ان کی بے مثال جرأت، ایثار اور قربانی کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں بعد ازاں شہادت تمغۂ شجاعت سے نوازا۔

اللہ تعالیٰ نصر اللہ خان شجیع شہید کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمارے نوجوانوں میں بھی ایسی بے لوث خدمت، ایثار اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

بلاگز

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment