ہوم << خوش رہنا سیکھئیے – رانامحمداقبال
600x314

خوش رہنا سیکھئیے – رانامحمداقبال

ایک دن لوکل اینستھیزیا کے زیر اثر میں ڈینٹل سرجن کے پاس بیٹھا تھا۔ بولنا مشکل تھا، مگر ماحول میں عجیب سی سنجیدگی اور خاموشی تھی۔ اسی دوران میری نظر پاس سے گزرتی ایک نرس کی گھڑی پر پڑی۔ میں نے اشارے سے اسے روکا، گھڑی کو غور سے دیکھا اور انگوٹھا اٹھا کر مسکراتے ہوئے کہا:
“ویلڈن! بہت خوبصورت چوائس ہے، سیوٹنگ آپ پر اچھی لگ رہی ہے۔”

ڈاکٹر صاحب نے یہ منظر دیکھا تو ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے:
“آپ یہاں دانت بنوانے آئے ہیں یا تعریفیں کرنے؟” میں نے بھی موقع غنیمت جانتے ہوئے مزاح میں کہا:
“ڈاکٹر صاحب، آپ بھی تو علاج کے لیے آئے ہیں۔ آپ کی اہلیہ، جو اسی ہسپتال میں ریسپشنسٹ ہیں اور مصر سے تعلق رکھتی ہیں، پچھلے پانچ سال سے یہیں کام کر رہی ہیں۔ آپ نے سوڈان سے آ کر یہاں اپنی میڈیکل سروس جاری رکھی۔ تو اگر میں ایک چھوٹی سی تعریف کر دوں تو کیا حرج ہے؟”
میری بات سن کر ڈاکٹر صاحب پہلے حیران ہوئے، پھر مسکرا دیے۔ اسی لمحے ماحول کی سنجیدگی خوشگوار ہلکی پھلکی مسکراہٹ میں بدل گئی۔

بعد میں انہوں نے بتایا کہ آج میری آخری اپائنٹمنٹ تھی اور ان شاء اللہ دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا:
“ڈاکٹر صاحب، ایک دانت ابھی باقی ہے!”
اس ایک جملے نے پورے کمرے کو ہنسی سے بھر دیا، اور اگلے دنوں میں میری اگلی اپائنٹمنٹ بھی طے ہو گئی۔ اس واقعے کا مقصد صرف ایک بات سمجھانا ہے کہ ہم نے زندگی میں چھوٹی چھوٹی تعریفیں کرنا اور معمولی خوشیوں کو محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔

ہم اکثر ایک کالے نقطے کو سفید کاغذ پر اتنا بڑا کر دیتے ہیں کہ پورا صفحہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اگر ہم نقطے کے بجائے سفید حصے کو دیکھنا سیکھ لیں تو زندگی زیادہ آسان اور خوبصورت ہو جائے۔ چھوٹی تعریف، ہلکی سی مسکراہٹ، اور کسی کی معمولی سی خوبی کو تسلیم کرنا دراصل وہ عناصر ہیں جو انسان کے مزاج کو نرم اور تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ حقیقی خوشی بڑی کامیابیوں میں نہیں بلکہ ان چھوٹے لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جہاں ہم کسی کو خوش کر دیتے ہیں یا کسی کی خوشی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ خوش رہنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو خوش کرنا سیکھنا ہوگا، اور یہی زندگی کا اصل حسن ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment