سندھ کے علاقے بدین میں لواری حج نامی بدعت (زندیقیت) ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے امتناع قادیانیت طرز کے آرڈیننس جیسے الگ سے قانون کی اشد ضرورت ہے ۔ سندھ کی لا علم اور کم پڑھیں لکھی عوام(جو شرح خواندگی کو نہ پہنچنے والی تقریباً 45 فیصد ہے)میں دہائیوں سے رائج اس شرکیہ عمل کا اجراء رہنا ، شعائر اسلام کی بد ترین توھین ہے۔
اور اس حج بیت اللہ کی مماثلت ہے ۔ جو اس زمین کا پہلا اللہ کا گھر ہے ، جس کے حج کو اللہ کریم نے ہر صاحب استطاعت پر ایک بار فرض کیا ہے ۔ جس کا طواف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ، جس کی تعمیر انبیاء کرام علیھم السلام نے کی۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس گھر کی آباد کاری اور برکت کے ساتھ امن کی دعا فرمائی ۔ لواری حج کے خاتمے میں سندھ کی وڈھیرا شاہی مکمل طور پر ناکام رہی ہے ۔ حکومت سندھ سمیت وفاقی حکومت کو فی الفور شعائر اسلام کی بے حرمتی پر اس مزار کو گرانے ، مکمل ختم کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہیئے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح قادیانی اپنی عبادت گاہوں کو مساجد نہیں لکھ سکتے۔
عبادت گاہ پر مسجد کی طرز کی تعمیر نہیں کر سکتے اور کلمہ طیبہ نہیں لکھ سکتے ۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں حفظہ اللہ نے دعوت توحید کا جو جہاد سندھ میں محدث العصر فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی سربراہی و سرپرستی میں جو شروع کیا ہوا ہے ۔ اہل حدیث سمیت ملک پاکستان کے ہر غیرت مند عالم دین اور عوام مسلمانوں کو ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیئے . اور اس شرک کے بد ترین اڈے کے خاتمے کے لئے ان کے شانہ بشانہ چلنا چاہیئے ۔ اور غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عقیدہ توحید کی خاطر بھرپور تجدید ایمان کرنا چاہیئے ۔



تبصرہ لکھیے