آج کئی دن بعد ان بزرگ ساتھی کو فون کیا۔ عمر 80 برس سے تجاوز کر چکی ہے۔ خیریت پوچھی تو محبت بھری آواز میں بولیں:
“اب تو آنا جانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ گاڑی میں بیٹھا نہیں جاتا کہ کسی پروگرام میں چلی جاؤں۔
آج کل ایک کام کر رہی ہوں۔ ترجمے والا قرآن پڑھتی ہوں۔ ساتھ ہائی لائٹر رکھتی ہوں ۔ جہاں کسی آیت پر رک کر سوچتی ہوں، اسے نشان زد کر دیتی ہوں۔ یہ قرآن میں اپنی اولاد کے لیے ورثے میں چھوڑ کر جاؤں گی۔ جہاں جہاں ان کی ماں رک کر سوچتی تھی، وہ بھی رک کر سوچ لیا کریں۔ شاید کسی آیت پر ان کا دل بدل جائے،کوئی عمل سنور جائے، میرے جانے کے بعد بھی میرے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی لکھ دی جائے۔”
فون بند ہونے کے بعد میں سوچتی رہی۔ عمر کے اس حصے میں اکثر مائیں اور دادی نانیاں کن فکروں میں گھری رہتی ہیں۔ کسی کو بیٹی کی ازدواجی زندگی کی فکر، کسی کو بیٹے کے روزگار کی، کسی کو پوتے کی تعلیم کی، کسی کو بیماریوں اور تنہائیوں کی۔ یہ ساری فکریں اپنی جگہ۔ آخر ماں کا دل ہے۔ لیکن یہ بزرگ خاتون جائیداد نہیں چھوڑ رہیں۔ زیورات نہیں چھوڑ رہیں۔ بینک بیلنس نہیں چھوڑ رہیں۔ وہ اپنی اولاد کے لیے “سوچا ہوا قرآن” چھوڑ رہی ہیں۔
ایسا قرآن جس کے حاشیوں میں ایک ماں کے توقف ثبت ہیں۔ ایسا قرآن جس میں کچھ آیات کے گرد ایک عمر کی ریاضت، خشیت اور تدبر کے دائرے کھینچے ہوئے ہیں۔ اپنے بعد آنے والوں کے لیے تدبر کے نشانات لگائے ہوئے ہیں جیسے جنگل میں کوئی مسافر درختوں پر نشان لگا جائے تاکہ بعد میں آنے والے راستہ نہ بھولیں۔
کیسا حسین ورثہ ہے!
مجھے حضرت یعقوب علیہ السلام یاد آئے۔ جب دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آیا تو اپنے بیٹوں سے پوچھا:
“میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟”
انبیاء اپنے وارثوں کے لیے صرف مال نہیں چھوڑتے، ایمان کی فکر چھوڑتے ہیں۔ ان کی اصل میراث زمینیں اور مکانات نہیں، ہدایت اور معرفت ہوتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ایک نیک طینت ماں نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں اپنے لیے بھی وہی وراثت چن لی۔
ایک ایسا قرآن جو صرف پڑھا نہیں گیا، جس پر ٹھہر کر سوچا بھی گیا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ بعض اوقات ایک ماں کا ہائی لائٹر، اولاد کے لیے کروڑوں کی جائیداد سے زیادہ قیمتی ورثہ بن جاتا ہے.



تبصرہ لکھیے