ہوم << زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب – فخرالزمان سرحدی
600x314

زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب – فخرالزمان سرحدی

زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب کے کلام میں زندگی کے ہر پہلو کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری انسان کو علم، عمل، محبت اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہے۔ ان کی مشہور نظم “بچے کی دعا” ایک ایسی لازوال تخلیق ہے جو معصوم خواہشات، بلند عزائم اور نیک تمناؤں کی عکاس ہے۔

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے، ضعیفوں سے محبت کرنا
میرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

یہ نظم ایک جامع دعا ہے جو بچے کی زبان سے ادا کی گئی ہے، مگر اس کا پیغام ہر عمر کے انسان کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں علم کی محبت، خدمتِ انسانیت، ہمدردی، ایثار اور نیکی کی راہ پر چلنے کی آرزو نمایاں ہے۔ “زندگی شمع کی صورت ہو” کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی ذات سے دوسروں کے لیے روشنی اور آسانی کا سبب بنے۔ شمع خود جل کر دوسروں کو اجالا دیتی ہے، اسی طرح ایک باکردار انسان معاشرے میں خیر، محبت اور امید پھیلاتا ہے۔ “زندگی ہو میری پروانے کی صورت” میں قربانی، لگن اور مقصد سے وابستگی کا درس پوشیدہ ہے۔

اس نظم کا ایک اہم پیغام غریبوں، کمزوروں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی معراج دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ان کی مدد کرنے میں ہے۔ نیکی انسان کے دل کو سکون بخشتی ہے جبکہ برائی، خود غرضی اور لالچ معاشرے میں بے چینی اور نفرت کو جنم دیتے ہیں۔ آج کے دور کا ایک بڑا المیہ احساس اور ہمدردی کی کمی ہے۔ اگر ہم اقبالؒ کے اس پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو محبت، اخوت اور خیرخواہی کے چراغ دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں۔

سچے جذبات، خلوصِ نیت اور خدمتِ خلق ہی زندگی کی اصل خوبصورتی اور کامیابی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں علم کی شمع سے محبت، انسانیت کی خدمت اور نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment