بعض اوقات عام لوگ شعر کا کوئی لفظ آگے پیچھے کر دیتے ہیں، کبھی مصرع بھول جاتے ہیں۔ ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ لیکن جب ملک کا وزیر اعظم، صدر یا قومی رہنما شعر پڑھتا ہے تو معاملہ صرف شعر خوانی کا نہیں رہتا۔ اس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ایک فرد کا نہیں بلکہ قوم کی آواز سمجھا جاتا ہے۔
آج ایک لمحے کی ویڈیو چند سیکنڈ میں دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔ لوگ صرف یہ نہیں دیکھتے کہ شعر غلط پڑھا گیا، وہ یہ تاثر بھی لیتے ہیں کہ ہماری قیادت اپنے علمی ورثے سے کتنی واقف ہے۔ اس لیے لوگوں کی تنقید کو صرف مذاق سمجھنا درست نہیں۔ بہت سے لوگ اپنے اس دکھ کا اظہار کر رہے ہیں کہ جس قوم کو اقبال جیسے عظیم مفکر، شاعر اور رہنما ملے، اس کی قیادت کم از کم ان کے معروف اشعار درست طور پر پڑھنے کی اہلیت تو رکھتی ہو۔ اقبال محض ایک شاعر نہیں حکیم الامت ہیں۔ ان کے اشعار ہمارے نصاب، تقریروں،قومی یادداشت اور ہماری فکری شناخت میں شامل ہیں۔
محترم حافظ نعیم الرحمن جب کلام اقبال پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس فکر کو اپنے شعور میں بسایا ہوا ہے۔کبھی ان کے فارسی اشعار سناتے ہیں، کبھی اقبال کے فکری پیغام کو موجودہ حالات سے جوڑتے ہیں۔ سننے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ ہم فکری طور پر کتنی قابل فخر میراث رکھتے ہیں۔ قیادت صرف انتظامی صلاحیت کا نہیں اعتماد کا نام ہے۔ اور اعتماد صرف فیصلوں سے نہیں، علم، مطالعے، زبان اور تہذیبی شعور سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی رہنما قرآن کی آیات درست پڑھتا ہے، شعر صحیح الفاظ کےساتھ پڑھتا ہے، یا کسی تاریخی واقعے کا ذکر کرتا ہے تو عوام کے دل میں اس کے لیے احترام بڑھتا ہے۔
انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی نمائندگی ایسے ہاتھوں میں ہے جو اپنے فکری اور تہذیبی ورثے سے واقف ہیں۔
قومیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں، اپنے علم، اپنے ادب اور اپنی یادداشت سے بھی بنتی ہیں۔ اور قیادت جب ان چیزوں کا احترام کرتی ہے تو قومی اعتماد بڑھتا ہے۔ ورنہ اسی طرح کی خفت حصے میں آتی ہے۔



تبصرہ لکھیے