عالمی سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں گزشتہ تین دہائیوں سے قائم عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا یہ بیان کہ درمیانے درجے کی طاقت رکھنے والے ممالک کو امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے ایک مشترکہ تیسرا راستہ اختیار کرنا چاہیے، دراصل اسی بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کا اظہار ہے۔
یہ محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی رجحان کی نشاندہی ہے جو مستقبل میں بین الاقوامی تعلقات، معیشت اور سلامتی کے ڈھانچے کو نئی شکل دے سکتا ہے۔کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے جی سیون سربراہی اجلاس سے قبل یورپ کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں کارنی نے کہا کہ کینیڈا اور یورپی یونین کی مجموعی آبادی امریکہ سے دو گنی سے بھی زیادہ ہے، ان کی معیشت بھی تقریباً امریکی معیشت کے برابر ہے جبکہ مشترکہ دفاعی بجٹ چین سے دو گنا زیادہ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا عظیم طاقتوں کی رقابت کے اس دور میں درمیانے درجے کے ممالک کے پاس دو راستے ہیں یا تو وہ بڑی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کریں یا پھر مل کر ایک ایسا تیسرا راستہ بنائیں جو حقیقی اثر و رسوخ رکھتا ہو۔کارنی نے آئرلینڈ کے وزیر اعظم میشل مارٹن اور فرانسیسی صدر امانویل ماکرون سے بھی ملاقات کی۔کارنی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا نیا عالمی نظام یورپ سے شروع ہوگا۔ کینیڈا غیر یورپی ممالک میں سب سے زیادہ یورپی ملک ہے اور ہم یورپ کے ساتھ اپنے تعاون کو نئی شکل دے رہے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہوگئی تھی۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی تھے جبکہ دوسری جانب سوویت یونین اور اس کے اشتراکی حلیف تھے۔ تقریباً نصف صدی تک جاری رہنے والی سرد جنگ نے دنیا کو نظریاتی، سیاسی اور عسکری بنیادوں پر تقسیم رکھا۔ 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ واحد عالمی سپر پاور بن کر ابھرا اور بین الاقوامی سیاست پر اس کی اجارہ داری قائم ہوگئی۔ عراق، افغانستان، لیبیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں امریکی اثر و رسوخ اس دور کی نمایاں علامت تھا۔
تاہم تاریخ کا پہیہ کبھی ایک جگہ نہیں رکتا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں چین کی معاشی ترقی، روس کی دوبارہ عسکری واپسی، یورپی یونین کی اقتصادی طاقت اور بھارت کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار نے عالمی سیاست کو یک قطبی نظام سے نکال کر کثیر القطبی نظام کی طرف دھکیلنا شروع کردیا۔ آج دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں کوئی ایک طاقت تمام فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی۔اس تبدیلی میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کو عالمی سیاست کے حاشیے پر دھکیل دیا گیا تھا، مگر پوٹن نے روس کو دوبارہ عالمی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔
2022ء میں یوکرین جنگ نے نہ صرف یورپ کی سلامتی کے تصور کو بدل دیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندی بھی پیدا کردی۔ امریکہ اور یورپی ممالک نے یوکرین کی بھرپور حمایت کی جبکہ روس نے چین، ایران اور بعض دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بنائے۔یوکرین جنگ میں امریکہ کا کردار بھی فیصلہ کن رہا۔واشنگٹن نے عسکری، مالی اور سفارتی سطح پر کیف کی حمایت کرتے ہوئے روس کو کمزور کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ ناقدین کے مطابق یہ جنگ صرف یوکرین کی بقا کی جنگ نہیں بلکہ روس اور مغرب کے درمیان اثر و رسوخ کی ایک بڑی کشمکش بھی ہے۔ اس جنگ نے یورپ کو یہ احساس دلایا کہ سلامتی کے معاملات میں مکمل امریکی انحصار ہمیشہ قابلِ اعتماد حکمت عملی نہیں ہوسکتا۔
اسی پس منظر میں مارک کارنی کا تیسرا راستہ سامنے آتا ہے۔ ان کا اشارہ ایسے ممالک کی طرف ہے جو نہ امریکہ اور چین کی کشمکش کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی نئی سرد جنگ میں فریق بننے کے خواہاں ہیں۔ یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور کئی دیگر جمہوری ممالک مستقبل میں ایک ایسے اتحاد کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو آزاد تجارت، سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین اور مشترکہ اقتصادی مفادات پر قائم ہو۔مشرق وسطیٰ میں بھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیل اور ایران کے تنازعات، غزہ کی صورتحال اور خلیجی ممالک کی نئی سفارتی ترجیحات خطے کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی ممالک کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہوسکتے ہیں؟
بدقسمتی سے اسلامی دنیا آج بھی سیاسی اختلافات، مسلکی تقسیم، علاقائی رقابتوں اور بیرونی طاقتوں کے اثرات کا شکار ہے۔ سعودی عرب، ترکی، ایران، مصر، پاکستان اور انڈونیشیا جیسے بڑے اسلامی ممالک کے مفادات اور ترجیحات مختلف ہیں۔ اگرچہ اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط میں اضافہ ممکن ہے، تاہم مستقبل قریب میں یورپی یونین جیسا کوئی مضبوط اسلامی بلاک بنتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے باوجود اگر مشرق وسطیٰ میں بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اسلامی ممالک کو مشترکہ سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے۔اس تمام منظرنامے میں پاکستان کی حیثیت نہایت دلچسپ اور اہم ہے۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ اور تہران کے ساتھ رابطے اور تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دفاعی، تجارتی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں، دوسری طرف چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک تعلقات کی بنیاد ہے، جبکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک اور توانائی کے حوالے سے اہم شراکت دار ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کا مستقل حصہ بننے کے بجائے متوازن سفارت کاری جاری رکھے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات پاکستان کو ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کرسکتے ہیں۔
اگر اسلام آباد دانشمندی سے کام لے تو وہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرسکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا نئے اتحادوں اور نئے توازن کی تلاش میں ہے۔آنے والے برسوں میں عالمی سیاست شاید سرد جنگ کے دور کی طرح صرف دو بلاکس میں تقسیم نہ ہو بلکہ مختلف طاقتوں کے متعدد مراکز سامنے آئیں۔ امریکہ، چین، روس، یورپی یونین، بھارت اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے دائرہ اثر قائم کرنے کی کوشش کریں گی۔ ایسے ماحول میں مارک کارنی کا تیسرا راستہ ایک نئے عالمی رجحان کی ابتدائی جھلک ثابت ہوسکتا ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ نیا عالمی نظام کیسا ہوگا بلکہ یہ بھی ہے کہ اس نظام میں پاکستان سمیت درمیانی طاقت رکھنے والے ممالک اپنا مقام کس طرح متعین کرتے ہیں۔ اگر عالمی سیاست واقعی کثیر القطبی دور میں داخل ہو رہی ہے تو پاکستان کے لیے یہ خطرات کے ساتھ ساتھ بے شمار مواقع بھی لے کر آرہی ہے۔ دانشمندانہ سفارت کاری، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون ہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو اس نئے عالمی منظرنامے میں ایک مؤثر اور باوقار کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ممکن ہے کہ مارک کارنی کا تیسرا راستہ ابھی ایک تصور ہو، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عالمی نظام پہلے خیالات میں جنم لیتے ہیں اور بعد ازاں حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔
دنیا ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے اور شاید آنے والی دہائیوں کی سیاست کا تعین بھی اسی سوال سے ہوگا کہ آیا ممالک بڑی طاقتوں کے سائے میں رہنا چاہتے ہیں یا اپنے لیے کوئی نیا راستہ تراشنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔



تبصرہ لکھیے