ہوم << ترقی کے نعروں پر حقوق کی سیاست کی فتح – سلمان احمد قریشی
600x314

ترقی کے نعروں پر حقوق کی سیاست کی فتح – سلمان احمد قریشی

گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس خطے کے عوام کی سیاسی ترجیحات پاکستان کے دیگر علاقوں سے مختلف ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں پی پی پی نے کامیابی حاصل کی، خواتین کی 6 مخصوص نشستوں میں سے 3 اور ٹیکنوکریٹس کی 3 نشستوں میں سے 2 نشستیں حاصل کرنے کی صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی 33 رکنی اسمبلی میں 17 ارکان کی حمایت کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہوگی اور حکومت سازی کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ اس کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو مبارکباد دی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان مکالمہ ہوا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا نوجوان بلا و ل نے ہم سے بہترانتخابی مہم چلائی۔ جواباً مسکراتے ہوئے صدرآصف زرداری نے کہا آخر بیٹا کس کا ہے۔

یہ انتخابی نتائج محض ایک سیاسی جماعت کی کامیابی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے سیاسی شعور، تاریخی حافظے اور آئینی حقوق کے مطالبے کا اظہار ہیں۔ حالیہ انتخابی مہم کے دوران بعض سیاسی رہنماؤں اور اینکرز نے گلگت بلتستان کے مستقبل کو لاہور ماڈل یا کراچی ماڈل کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی لیکن عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح کر دیا کہ ان کے لیے سڑکیں انڈر پاس، میٹرو بسیں اور نمائشی ترقی سے زیادہ اہم آئینی شناخت، حقِ ملکیت اور بااختیار نمائندگی ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام علاج معالجہ کے لیے سندھ کا رخ کرتے ہیں روزگار کراچی سے منسلک ہے ایسے میں لاہور کی ترقی کے دعوے بے وزن رہے۔

نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی کامیابی تو ایک طرف دوسرے نمبر پر بھی نہیں آئی۔میں نوازشریف جی بی میں بھی یہ شکوہ کرتے نظر آئے مجھے کیوں نکلا؟ اب جی بی کی عوام کی مرضی سے میاں نوازشریف اقتدار میں آئے تھے نہ انہیں نکالنے میں جی بی کا کوئی کردار تھا۔ یہ سوال میاں محمد نوازشریف اسلام آباد راولپنڈی میں کریں تو بہتر ہے جی بی ان معاملات سے الگ ہے۔ گلگت بلتستان کا تاریخی پس منظر پاکستان کے دیگر خطوں سے منفرد ہے۔ 1848ء میں ڈوگرہ حکمرانوں نے اس علاقے پر قبضہ کیا اور بعد ازاں یہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ بنا۔ قیام پاکستان کے وقت یہ خطہ بھی اسی ریاست کا حصہ تھا، تاہم یہاں کے عوام کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہاں تھی۔

یکم نومبر 1947ء کو گلگت کے مقامی لوگوں اور ریاستی افواج کے مسلمان افسروں نے ڈوگرہ اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے آزاد جمہوریہ گلگت کا اعلان کیا۔ یہ آزادی مقامی عوام کی اپنی جدوجہد کا نتیجہ تھی۔تاہم آزادی کے محض سولہ دن بعد اس آزاد ریاست کا خاتمہ کر کے اسے وفاقی انتظام کے تحت لایا گیا اور بعد ازاں ایف سی آر جیسے نوآبادیاتی قوانین نافذ کیے گئے۔ کئی دہائیوں تک یہ علاقہ شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جاتا رہا اور سیاسی و آئینی شناخت سے محروم رہا۔
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار نمایاں رہا ہے۔ 1974ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس خطے میں ایف سی آر اور راجشاہی نظام کا خاتمہ کیا۔

گلگت بلتستان کے انتظامی اور سیاسی ارتقاء کی تاریخ میں 1974کوذوالفقار علی بھٹو نے شمالی علاقہ جات کی ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی،یہ ایک انقلابی قدم تھا جس نے مقامی آبادی کو بنیادی شہری حقوق فراہم کیے۔ اسی دور میں ترقیاتی منصوبوں، سبسڈی اور انتظامی اصلاحات کا آغاز ہوا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔1994ء میں بے نظیر بھٹو نے لیگل فریم ورک آرڈرکے ذریعے اصلاحات متعارف کروائیں اور پہلی بار پارٹی بنیادوں پر انتخابات ہوئے۔اسی دور میں انتظامی اختیارات میں اضافہ کیا گیا اور غذر جیسے پسماندہ علاقے کو ضلع کا درجہ دے کر نئی شناخت دی گئی۔

تاہم گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے بڑا سنگ میل 2009ء میں اس وقت آیا جب صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر نافذ کیا۔ اس آرڈر کے تحت پہلی مرتبہ گلگت بلتستان اسمبلی، وزیراعلیٰ، گورنر اور گلگت بلتستان کونسل جیسے ادارے قائم ہوئے۔ اسی نظام کے تحت 2009ء میں پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ خطے کے پہلے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔2015میں مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی۔2020میں جی بی میں پی ٹی آئی نے حکومت بنائی۔

آج گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 جنرل، 6 خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹ نشستیں شامل ہیں۔ اگرچہ اس خطے کو مکمل آئینی صوبے کا درجہ حاصل نہیں، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں سیاسی نمائندگی اور ادارہ جاتی ارتقاء کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی گلگت بلتستان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پاکستان کا واحد خطہ ہے جس کی سرحدیں چار ممالک سے ملتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1948ء کی جنگ، سیاچن تنازع اور کارگل جنگ اسی خطے سے جڑے ہوئے ہیں۔ 1971ء کی جنگ کے دوران بھی سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں۔

یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان نہ صرف دفاعی بلکہ جیوپولیٹیکل اعتبار سے بھی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔تاریخی شاہراہِ ریشم اور آج کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی بنیاد بھی اسی خطے سے جڑی ہوئی ہے۔
انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں نے لاہور اور کراچی کے ترقیاتی ماڈلز کا موازنہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کیپٹن (ر) صفدر کے بعض بیانات بھی سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنے۔ تاہم انتخابی نتائج نے ظاہر کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ایسے بیانیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ عوام نے اپنے ووٹ سے یہ پیغام دیا کہ ان کے لیے اصل مسئلہ آئینی تحفظ، زمینوں اور معدنی وسائل پر حقِ ملکیت اور فیصلہ سازی میں شراکت داری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف بھی اس انتخاب میں اپنی سابقہ مقبولیت برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ پارٹی کی سیاست بدستور ر قیدی نمبر 804 کے گرد گھومتی رہی جبکہ مقامی مسائل، علاقائی حقوق اور آئینی مطالبات نسبتاً پس منظر میں رہے۔ انتخابی نتائج کے بعد دھاندلی کے الزامات کی بازگشت بھی سنائی دی لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر یہی نظام خیبر پختونخوا میں انتخابی نتائج دے سکتا ہے تو پھر صرف مخصوص علاقوں میں ہی دھاندلی کا بیانیہ کیوں پیش کیا جاتا ہے؟
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج کو نسبتاً سیاسی بلوغت کے ساتھ قبول کیا ہے۔ یہ طرزِ عمل جمہوری روایت کے استحکام کے لیے مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت کوئی اچانک پیدا ہونے والا رجحان نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل ہے۔ وفاق میں مختلف حکومتوں کے باوجود اس خطے میں پیپلز پارٹی اپنی سیاسی بنیادیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کامیابی سیاسی مبصرین کے لیے غیر متوقع نہیں تھی بلکہ ایک حد تک نوشتہ دیوار ثابت ہوئی۔مکمل آئینی شناخت، حقِ حاکمیت، وسائل پر اختیار اور 18ویں آئینی ترمیم کی روح کے مطابق بااختیار مقامی حکومت گلگت بلتستان کے عوام آج بھی ایک واضح مطالبہ رکھتے ہیں۔ اگر نئی حکومت ان مطالبات کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کی وفاقی سیاست کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

حالیہ انتخابات نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام محض ترقیاتی منصوبوں کے وعدوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ اپنی تاریخ کو یاد رکھتے ہیں، اپنے حقوق کو پہچانتے ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ بھی انہی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ یہی اس انتخاب کا سب سے بڑا سیاسی پیغام ہے۔

مصنف کے بارے میں

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment