پچھلے کالم میں واضح کیا گیا کہ ’عدالتی خلع‘ کا تصور اسلامی قانون کے لیے اجنبی تھا، اور جب اسے ہماری عدالتوں نے ایجاد کیا، تو اس کے پیچھے مفروضہ میاں بیوی کے درمیان حقوق میں مساوات کا تھا۔ مسلم تنسیخِ نکاح کے قانون 1939 کی دفعہ 2 میں فسخِ نکاح کے لیے جو اسباب ذکر کیے گئے تھے، ان میں ’خلع‘ کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔
تاہم اس دفعہ کی آخری شق میں مذکور تھا: ’’کوئی اور سبب جسے مسلم قانون کے تحت تنسیخِ نکاح کے لیے صحیح تسلیم کیا جاتا ہو۔‘‘ 1952ء میں ’سعیدہ خانم بنام محمد سمیع‘ مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ فسخِ نکاح کے اسباب میں کسی سبب کی عدم موجودگی میں عدالت شوہر کی مرضی کے بغیر نکاح ختم نہیں کرسکتی۔ یہ فیصلہ جسٹس اے آر کارنیلیس نے لکھا تھا جو اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرنے کے بہت پرجوش حامی تھے اور بعد میں ملک کے چیف جسٹس بھی بنے۔ چند سال بعد 1959ء میں لاہور ہائی کورٹ ہی نے ایک اور مقدمے ’بلقیس فاطمہ بنام نجم الاکرام قریشی‘ مقدمے میں اس فیصلے سے انحراف کرکے قرار دیا کہ تنسیخِ نکاح کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ بیوی شوہر کے ساتھ ازدواجی بندھن میں مزید رہنا نہیں چاہتی۔
یہ فیصلہ جسٹس بدیع الزمان کیکاؤس نے لکھا۔ جب 1967ء میں سپریم کورٹ نے بھی ’خورشید بی بی بنام بابو محمد امین‘ مقدمے میں یہی فیصلہ سنایا کہ تنسیخِ نکاح کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے، تو یہ فیصلہ ملک بھر میں نافذالعمل ہوگیا۔ یہ فیصلہ جسٹس ایس اے رحمان نے لکھا۔ (ایک بار بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس ایس ایم قادری سے گفتگو میں، میں نے ’شاہ بانو‘ مقدمے پر تنقید کی، تو انھوں نے کہا کہ مسئلے کی جڑ آپ کے ہاں ’خورشید بی بی‘ مقدمے میں پائی جاتی ہے۔ خیر، یہ کہانی پھر سہی!) اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے مذکورہ بالا قانون کی رو سے یہ ثابت کرنا ضروری تھا کہ یہ ایسا سبب ہے ’’جسے مسلم قانون کے تحت تنسیخِ نکاح کے لیے صحیح تسلیم کیا جاتا ہو۔‘‘
نیز مسلم شخصی قانون (شریعت) کے اطلاق کے قانون 1962ء کی دفعہ 2 کے تحت نکاح و طلاق کے متعلق تمام مسائل کے لیے ’’مسلم شخصی قانون (شریعت)‘‘ پر ہی فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ جسٹس ایس اے رحمان کو اس بحث میں جانا پڑا کہ شریعت کی رو سے ایسی صورت میں، جبکہ بیوی کے پاس فسخِ نکاح کا کوئی سبب نہ ہو لیکن وہ شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، عدالت از خود، شوہر کی مرضی کے بغیر، نکاح ختم کرسکتی ہے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ اس وقت تک عدالتیں ’مسلم شخصی قانون‘ کے مقدمات میں مسلمانوں کی مخصوص فقہ کی پابندی کرتی تھیں۔
یہ پابندی انگریزوں کے دور میں بھی عدالتوں نے تسلیم کی ہوئی تھی، بلکہ یہاں تک تسلیم کیا ہوا تھا کہ اگر زوجین میں ایک کا تعلق ایک فقہی مذہب سے اور دوسرے کا دوسرے فقہی مذہب سے ہو، تو عدالت تنازعے کا فیصلہ مدعا علیہ کے فقہی مذہب پر کرے گی۔ اب حقیقت یہ تھی کہ پاکستان میں دو ہی فقہی مذاہب رائج تھے: حنفی اور اثنا عشری، اور دونوں میں یہ بات طے تھی کہ ’خلع‘ کے لیے شوہر کی مرضی ضروری ہے کیونکہ خلع تو میاں بیوی کے درمیان ایسا سمجھوتہ ہے جس کے نتیجے میں بیوی شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کرنے کے لیے کچھ قیمت دیتی ہے اور شوہر اس کے عوض میں اسے طلاق دیتا ہے۔
اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے عدالت نے قرار دیا کہ وہ کسی مخصوص فقہی مذہب کی پابند نہیں ہے اور یہ کہ وہ براہِ راست قرآن و سنت کی تشریح کرنے کا اختیار رکھتی ہے، اور اس مقصد کے لیے ’اجتہاد‘کرسکتی ہے۔ عدالت نے اپنے ’اجتہاد‘ کے حق میں مالکی فقہ سے استدلال کی بھی کوشش کی اور بعد میں ہمارے قانون دانوں کے ہاں ایک عام غلط فہمی رائج ہوگئی کہ مالکی فقہ’عدالتی خلع‘ کی اجازت دیتی ہے، حالانکہ مالکی فقہ میں بھی خلع میاں بیوی کے درمیان سمجھوتے کا نام ہے۔ مالکی فقہ کے جس اصول کو یہاں غلطی سے بنائے استدلال بنایا گیا ہے، وہ خلع کے متعلق نہیں، بلکہ میاں بیوی کے درمیان تنازعہ حل کرنے والے ثالثوں کے اختیار کے بارے میں ہے۔
چنانچہ عام طور پر فقہائے کرام نے یہ طے کیا ہے کہ ثالثوں کے پاس اتنا ہی اختیار ہوتا ہے جتنا تنازعے کے فریقین نے اسے دیا ہوتا ہے، اور اسی لیے ثالث صرف اسی صورت میں تنسیخِ نکاح کرسکتے ہیں جب شوہر نے انھیں یہ اختیار دیا ہو۔ تاہم مالکی فقہاء یہ سمجھتے ہیں کہ جب میاں بیوی کا تنازعہ ثالثوں کے حوالے کردیا گیا، تو ثالثوں کے پاس اصلاح کا بھی اختیار آگیا اور تنسیخ کا بھی۔ واضح رہے کہ ثالثی کے قانون میں ہمارے ہاں مالکی فقہاء کا موقف تسلیم نہیں کیا گیا۔ نیز ثالث اور عدالت کے اختیار اور قانونی حیثیت میں بہت بڑا فرق ہے اور قانون کا مسلّمہ اصول ہے کہ عدالت کے پاس اتنا ہی اختیار ہوتا ہے جتنا قانون نے اسے دیا ہو اور وہ کسی اور فرد یا ادارے کا اختیار استعمال نہیں کرسکتی۔
بہرحال اس وقت اس مسئلے کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ ہماری عدالتیں آج تک ’خورشید بی بی‘ مقدمے میں طے کیے گئے اصولوں پر تنسیخِ نکاح کے فیصلے کرتی ہیں حالانکہ اس فیصلے کے بعد ہمارے آئین و قانون میں بعض ایسی دور رس تبدیلیاں آئی ہیں جنھوں نے اس فیصلے کو غیر مؤثر اور قطعی طور پر غیر متعلق کردیا ہے۔ مثلاً 1980ء میں آئین کی دفعہ 227 کے ساتھ ایک ’توضیح‘ کا اضافہ کرکے قرار دیا گیا کہ
’’کسی فرقے پر قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام کے اطلاق کے وقت ’’قرآن و سنت‘‘ سے مراد قرآن و سنت کی اس فرقے کی تعبیر ہوگی۔‘‘
اس توضیح کا نتیجہ یہ ہوا، جیسا کہ سپریم کورٹ نے 1993ء میں ’ڈاکٹر محمود الرحمان فیصل بنام وفاقِ پاکستان‘مقدمے میں طے کیا، کہ مسلم شخصی قانون کی حد تک عدالتوں کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی فقہی مذہب کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دے کر اس کے ماننے والوں پر کوئی اور فقہی مذہب نافذ کرے۔ نیز قانونِنفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4 کی ’توضیح‘ میں قرار دیا گیا ہے کہ اسلامی احکام کی تعبیر و تشریح میں ’’مسلمہ فقہاء کی آرا‘‘ کو دیکھا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ آئین و قانون میں ان بنیادی تبدیلیوں کے بعد آخر کس طرح آج بھی عدالتیں حنفی فقہ کے ماننے والوں پر ’عدالتی خلع‘ کا تصور جبراً نافذکررہی ہیں، جبکہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ حنفی فقہ اس تصور کو قبول نہیں کرتی؟
یہاں قانونِ معاہدہ کا یہ اصول بھی پیشِ نظر رہے کہ معاہدے کی شقوں کی تشریح و تعبیر اسی قانون کے تحت ہوتی ہے جس کے تحت معاہدہ کیا گیا ہو۔ تو جب نکاح کا معاہدہ حنفی فقہ کے تحت کیا گیا ہو، تو اس کی تنسیخ کے لیے کسی اور فقہ، یا کسی جج کی اپنی فقہ، کے تصورات کیسے لاگو کیے جاسکتے ہیں؟



تبصرہ لکھیے