ہوم << ہم، تم اور ہمارا بجٹ – ڈاکٹر سیف ولہ رائے
600x314

ہم، تم اور ہمارا بجٹ – ڈاکٹر سیف ولہ رائے

رات کے آخری پہر جب شہر کی روشنیاں تھکن کے بوجھ تلے مدھم ہونے لگتی ہیں، تب بھی کچھ گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں نیند نہیں اترتی۔ وہاں چولہے کی راکھ میں بجھی ہوئی حرارت، ادھورے خوابوں کی مانند سلگتی رہتی ہے۔ کسی ماں کے ہاتھ میں بچوں کی فیس کا پرانا پرچہ ہوتا ہے، کسی مزدور کی جیب میں راشن کی فہرست مڑی تڑی پڑی ہوتی ہے.

کسی سفید پوش باپ کی آنکھوں میں بجلی کے بل کی سرخ لکیریں تیر رہی ہوتی ہیں، اور کسی نوجوان کے دل میں بے روزگاری کی دھند آہستہ آہستہ امید کا آخری چراغ بجھا رہی ہوتی ہے۔ ایسے ہی موسم میں جب ریاست اپنے شہریوں کو آسودگی کا یقین دلانے کے بجائے اعداد و شمار کی خوشنما دیواریں تعمیر کرنے لگے تو بجٹ محض معاشی دستاویز نہیں رہتا بلکہ عوام کے اعصاب پر لکھی جانے والی ایک طویل سرکاری روداد بن جاتا ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 بھی اسی اضطراب، بے یقینی اور معاشی جبر کی فضا میں پیش کیا گیا ہے۔ حکومت اسے معاشی استحکام، ترقیاتی حکمتِ عملی اور مالیاتی نظم و ضبط کی علامت قرار دے رہی ہے مگر زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ بجٹ کے الفاظ میں امید ہے لیکن بازاروں کی فضا میں خوف ہے۔ حکومتی تقریروں میں ترقی کی نوید سنائی دیتی ہے مگر عوامی چہروں پر مسلسل بڑھتی ہوئی تھکن اور معاشی شکستگی کی پرچھائیاں زیادہ واضح دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بجٹ دراصل اُس ریاستی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے جہاں حکمران طبقات معیشت کو اشاریوں اور چارٹس میں دیکھتے ہیں جبکہ عوام اسے روٹی، دوائی، بجلی، تعلیم اور روزگار کی صورت میں محسوس کرتے ہیں۔

سترہ ہزار سات سو اکہتر ارب روپے کے اس بجٹ کو ایک تاریخی مالی خاکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی ترقی کی شرح چار فیصد اور افراطِ زر کو 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کے اہداف بظاہر خوش آئند محسوس ہوتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض اہداف مقرر کر دینا معاشی بہتری کی ضمانت بن جاتا ہے؟ پاکستان کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اعداد و شمار کی عمارتیں اکثر زمینی حقیقتوں کے ملبے پر تعمیر کی جاتی رہی ہیں۔ مہنگائی کی شدت، بے روزگاری کی وسعت، صنعتی سست روی، کاروباری عدم تحفظ اور توانائی کے بحران جیسے مسائل ابھی تک اپنی پوری سنگینی کے ساتھ موجود ہیں۔ ایسے میں ترقی کی شرح کا ہدف ایک خوبصورت خواہش تو ہو سکتا ہے مگر مضبوط معاشی حقیقت نہیں۔

اقتصادی سروے رپورٹ نے بھی حسبِ روایت ایک ایسا منظرنامہ پیش کیا ہے جس میں گویا ہر شعبہ کامیابیوں کی داستان لکھ رہا ہو۔ زراعت ترقی کر رہی ہے، آئی ٹی برآمدات بڑھ رہی ہیں، کھیلوں کی صنعت فروغ پا رہی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ مثبت ہے، پٹرولیم سیکٹر میں نمو ہے، اور فی کس آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن انہی دعوؤں کے ساتھ غربت کی بڑھتی ہوئی شرح، متوسط طبقے کی ٹوٹتی ہوئی کمر اور مزدور کی سکڑتی ہوئی قوتِ خرید ایک ایسا تضاد پیدا کرتی ہے جسے محض حکومتی بیانات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر معیشت واقعی مستحکم ہو رہی ہے تو پھر عوام کی زندگی مسلسل دشوار کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ اگر ترقی کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں تو بازاروں میں مایوسی کا یہ عالم کیوں ہے؟ اگر آمدنی بڑھ رہی ہے تو سفید پوش طبقہ قرض، فاقے اور نفسیاتی دباؤ کے شکنجے میں کیوں جکڑا جا رہا ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کا ماڈل ہمیشہ غیر متوازن رہا ہے۔ یہاں ترقی کا مطلب عام آدمی کی خوشحالی نہیں بلکہ چند طاقتور طبقات کی مالی توسیع بن چکا ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کو ریلیف کہا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقی مہنگائی کی رفتار اس اضافے کو چند ہفتوں میں نگل جائے گی۔ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی ٹیکسوں کے سب سے بڑے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایک ایسا طبقہ جو اپنی آمدن چھپا نہیں سکتا، جس کی تنخواہ بینکوں میں درج ہوتی ہے، جس کی ہر مالی سرگرمی ریاست کی نگرانی میں ہوتی ہے، اُسی طبقے کو مسلسل قربانی کا استعارہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایسے شعبے موجود ہیں جہاں اربوں روپے کی معیشت غیر دستاویزی انداز میں چلتی ہے لیکن وہاں ریاستی گرفت کمزور دکھائی دیتی ہے۔

حکومت نے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ بلاشبہ ریئل اسٹیٹ کسی بھی معیشت میں سرمایہ کاری کا ایک اہم شعبہ ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ شعبہ اکثر غیر پیداواری سرمایہ کاری، دولت کے ارتکاز اور مصنوعی قیمتوں کے اضافے کی علامت بن چکا ہے۔ جب معیشت کا بڑا حصہ صنعت، تحقیق، برآمدات اور روزگار پیدا کرنے کے بجائے پلاٹوں، فائلوں اور زمینوں کی خرید و فروخت میں الجھ جائے تو معیشت کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ حکومت اگر واقعی اقتصادی استحکام چاہتی ہے تو اسے صنعت، ٹیکنالوجی، برآمدات اور زرعی اصلاحات کو ترجیح دینا ہو گی، محض زمینوں کی تجارت کو نہیں۔

زرعی شعبے کیلئے قرضوں اور سہولتوں کے اعلانات بھی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن کسانوں کا بنیادی مسئلہ قرض نہیں بلکہ پیداواری لاگت ہے۔ کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں کسان کی کمر توڑ رہی ہیں۔ ایک ایسا کسان جو اپنی فصل اگانے کیلئے قرض لیتا ہے، وہ فصل تیار ہونے تک مزید قرض میں ڈوب جاتا ہے۔ جب گندم، کپاس، چاول یا گنے کی قیمت کا تعین کسان کی محنت کے بجائے مافیا اور پالیسی سازوں کی میزوں پر ہونے لگے تو زراعت ترقی نہیں کرتی بلکہ محض زندہ رہنے کی جنگ لڑتی ہے۔ بھارت اور دیگر ممالک میں زرعی سبسڈی، سستی بجلی اور کم لاگت زرعی نظام نے کسان کو سہارا دیا، جبکہ پاکستان میں کسان مسلسل معاشی تنہائی کا شکار ہے۔

یہ بجٹ ایک اور اہم سوال بھی اٹھاتا ہے کہ آخر ریاست کی ترجیحات کیا ہیں؟ تعلیم کیلئے مختص فنڈز، صحت کیلئے محدود وسائل، سائنس اور ٹیکنالوجی کیلئے قلیل سرمایہ کاری اور دوسری طرف قرضوں کی ادائیگی کیلئے کھربوں روپے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب اپنے وسائل سے زیادہ قرضوں کی منطق پر چل رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کے سود اور دفاعی و انتظامی اخراجات پر خرچ کر دے، وہاں انسانی ترقی ہمیشہ ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل معاہدے بھی قومی خودمختاری کے سوال کو جنم دیتے ہیں۔ پاکستان بار بار انہی دروازوں پر کیوں دستک دیتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہر حکومت معاشی اصلاحات کے نعرے کے باوجود قرضوں کے اسی دائرے میں واپس آ جاتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں معیشت کو پیداواری بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے وقتی سہاروں پر چلایا گیا۔ ٹیکس نظام غیر منصفانہ رہا، برآمدات کمزور رہیں، صنعت غیر مستحکم رہی، اور ریاستی اخراجات میں کفایت شعاری پیدا نہ کی جا سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر چند سال بعد ملک کو نئے قرض، نئی شرائط اور نئے معاشی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔

بجٹ سازی کے عمل میں عوامی نمائندگی کا حقیقی عنصر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ بجٹ عوام کیلئے بنتا ہے مگر عوام کی آواز اس میں کم سنائی دیتی ہے۔ مزدور، کسان، طالب علم، چھوٹے تاجر، بے روزگار نوجوان اور متوسط طبقہ اس عمل میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بجٹ عوامی مسائل کے حل کیلئے نہیں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد کے حصول کیلئے ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ کے بعد اسٹاک مارکیٹ کے اشارے تو موضوعِ بحث بنتے ہیں مگر سبزی منڈیوں، یوٹیلیٹی بلوں اور ادویات کی قیمتوں کا دکھ حکومتی بیانات میں جگہ نہیں پاتا۔

معاشی جبر صرف مہنگائی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہے۔ جب ایک باصلاحیت نوجوان ڈگری کے باوجود روزگار نہ پا سکے، جب ایک استاد اپنی تنخواہ میں گھر نہ چلا سکے، جب ایک مریض علاج سے پہلے دوا کی قیمت پوچھ کر خاموش ہو جائے، جب ایک مزدور سارا دن مشقت کے بعد بھی بچوں کیلئے دودھ نہ خرید سکے تو یہ صرف معاشی بحران نہیں رہتا بلکہ سماجی بے چینی، نفسیاتی اضطراب اور تہذیبی زوال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشی مباحث میں انسان کم اور اعداد زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

حکومت اگر واقعی معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے صرف محصولات بڑھانے کے بجائے معیشت کا اخلاقی توازن بھی بحال کرنا ہو گا۔ ٹیکس کا نظام اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک اس میں انصاف شامل نہ ہو۔ عوام قربانی دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ قربانی سب طبقات دیں۔ جب اشرافیہ کیلئے مراعات، بڑے سرمایہ داروں کیلئے آسانیاں اور طاقتور حلقوں کیلئے خصوصی راستے موجود ہوں جبکہ عام آدمی کیلئے ہر روز نئی قیمتیں اور نئے ٹیکس ہوں تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔اس بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بظاہر یہ رقم بڑی محسوس ہوتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان منصوبوں کی ترجیحات درست ہیں؟ کیا یہ منصوبے واقعی عوامی ضرورتوں سے جڑے ہوئے ہیں یا محض سیاسی تشہیر کا ذریعہ بنیں گے؟ پاکستان کی تاریخ میں بے شمار ترقیاتی منصوبے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے عوامی زندگی بدلنے کے بجائے صرف سیاسی بیانیے مضبوط کیے۔ ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کا نام نہیں بلکہ انسان کی فکری، تعلیمی، طبی اور معاشی بہتری کا نام ہے۔

تعلیم کے شعبے میں ڈیجیٹل لرننگ اور مہارتوں کی ترقی کے اعلانات اہم ضرور ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لاکھوں بچے آج بھی بنیادی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی حالت، اساتذہ کی کمی، نصاب کی فرسودگی اور تعلیمی عدم مساوات جیسے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے کیلئے مختص بجٹ بھی عوامی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں غریب آدمی علاج کیلئے اپنا گھر بیچنے پر مجبور ہو جائے، وہاں صحت پر محدود سرمایہ کاری ایک سنگین سماجی مسئلہ بن جاتی ہے۔اس سارے منظرنامے میں سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ قوم کو مسلسل صبر، قربانی اور انتظار کی تلقین کی جاتی ہے مگر نتائج ہمیشہ طاقتور طبقوں کے حق میں نکلتے ہیں۔

عوام سے کہا جاتا ہے کہ معیشت سنبھل رہی ہے، حالات بہتر ہو رہے ہیں، قربانیوں کا پھل ملے گا، مگر عام آدمی کی زندگی میں یہ بہتری کبھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتی۔ وہی مہنگائی، وہی بے یقینی، وہی بے روزگاری، وہی اضطراب اور وہی مسلسل معاشی خوف اُس کے مقدر میں شامل رہتا ہے۔ قومی بجٹ صرف مالیاتی خاکہ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک اخلاقی معاہدہ بھی ہوتا ہے۔ اگر اس معاہدے میں انصاف، شفافیت، مساوات اور انسانی وقار شامل نہ ہو تو بجٹ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، وہ عوامی اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اس وقت صرف معاشی اصلاحات نہیں بلکہ فکری اور انتظامی دیانت کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک پالیسی سازی کا مرکز عام آدمی کی زندگی نہیں بنے گا، اس وقت تک ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ معیشت کو صرف قرضوں، ٹیکسوں اور اعداد و شمار کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ اسے انسانی زندگی کے معیار، سماجی انصاف اور قومی خودمختاری کے زاویے سے بھی سمجھا جائے۔ ایک ایسا بجٹ جو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کے خوف میں اضافہ کرے، جو امید پیدا کرنے کے بجائے اضطراب کو بڑھا دے، اور جو ترقی کے دعوؤں کے باوجود غربت کو کم نہ کر سکے، اس پر تنقید صرف سیاسی عمل نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بن جاتی ہے۔یہ وقت محض بجٹ تقریروں کا نہیں بلکہ اجتماعی احتساب کا ہے۔

ہمیں خود سے پوچھنا ہو گا کہ آخر ایک زرعی، معدنی، جغرافیائی اور انسانی وسائل سے مالا مال ملک مسلسل معاشی بحرانوں میں کیوں گھرا رہتا ہے؟
کیوں ہر چند سال بعد قوم کو نئے معاشی امتحان کیلئے تیار کیا جاتا ہے؟
کیوں ہر بجٹ کے بعد عوام کی زندگی مزید مشکل محسوس ہونے لگتی ہے؟

جب تک ان سوالات کے دیانت دارانہ جواب تلاش نہیں کیے جائیں گے، تب تک ہر نیا بجٹ محض الفاظ کی نئی ترتیب اور عوامی مسائل کی پرانی داستان ثابت ہوتا رہے گا۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment