ہوم << نئے دور کے بچے اور قربانی – راحیلہ خان ایڈووکیٹ
600x314

نئے دور کے بچے اور قربانی – راحیلہ خان ایڈووکیٹ

ایک سال کے حسین کی مما کو فکر ہے کہیں حسین گائے کٹتی دیکھ کر ڈر نہ جائے۔ حالانکہ محتشم سامنے ہی مثال بن کر کھڑا مسکرا رہا تھا۔

وہی گائے جو کل تک محتشم کی جان تھی، جس کے کھانے پینے کی فکر میں خود بغیر کھائے دبلا ہوا جا رہا تھا، آج اس پر چھری چلتے دیکھ کر ایکسائٹمنٹ میں مسکرا مسکرا کر لال ہو رہا تھا، جیسے گائے کٹ نہیں رہی بلکہ دلہن بن رہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر میں اپنے دور کے ان بچوں کا سوچنے لگی جو اپنے پیارے جانور کی قربانی کا سن کر ہی زار و زار روتے تھے، کھانا چھوڑ دیتے تھے۔ اب تو یہ حال ہے کہ گوشت بانٹنے ہم ہی جائیں گے، باربی کیو کب ہوگا؟

اور تو اور، محتشم صاحب اپنی ہی گائے کی بوٹی منہ میں چباتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ مما گوشت سخت ہے، تھوڑا اور پکاتیں۔ یا اللہ!
کیسا کیسا وقت دیکھنا پڑ رہا ہے۔ جذبات اتنی جلدی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔

ہم قربانی کے وقت گائے کے بھاگنے یا رسی ٹوٹنے کا سن کر ہی ڈر کے مارے رونے لگ جاتے تھے، اور آج حال ہے کہ محتشم مزے سے بھائی کو بتا رہا ہے کہ گائے نے بھاگنے کے چکر میں تایا کو ٹکر مار دی۔ مزید گویا ہوا کہ

“کیا سین تھا! بس موبائل مما نے نہیں دیا، ورنہ اچھی ویڈیو بن جاتی”۔”

مصنف کے بارے میں

راحیلہ خان ایڈووکیٹ

راحیلہ خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ میں وکالت کرتی ہیں۔ مصنفہ اور ریسرچ اسکالر ہیں۔ سال 2022 میں ورازت مذہبی امور کے تحت سیرت النبیﷺ کانفرنس میں ملکی سطح پر تحقیقی مقالے میں اول پوزیشن حاصل کرکے صدارتی ایوارڈ کی مستحق ٹھہریں۔ ایک اپنی کتاب اور دو کتابوں کی شریک مصنفہ ہیں۔ کراچی کی بچہ اور خواتین جیل میں فلاحی کاموں میں شریک ہوتی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment