ایک سال کے حسین کی مما کو فکر ہے کہیں حسین گائے کٹتی دیکھ کر ڈر نہ جائے۔ حالانکہ محتشم سامنے ہی مثال بن کر کھڑا مسکرا رہا تھا۔
وہی گائے جو کل تک محتشم کی جان تھی، جس کے کھانے پینے کی فکر میں خود بغیر کھائے دبلا ہوا جا رہا تھا، آج اس پر چھری چلتے دیکھ کر ایکسائٹمنٹ میں مسکرا مسکرا کر لال ہو رہا تھا، جیسے گائے کٹ نہیں رہی بلکہ دلہن بن رہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر میں اپنے دور کے ان بچوں کا سوچنے لگی جو اپنے پیارے جانور کی قربانی کا سن کر ہی زار و زار روتے تھے، کھانا چھوڑ دیتے تھے۔ اب تو یہ حال ہے کہ گوشت بانٹنے ہم ہی جائیں گے، باربی کیو کب ہوگا؟
اور تو اور، محتشم صاحب اپنی ہی گائے کی بوٹی منہ میں چباتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ مما گوشت سخت ہے، تھوڑا اور پکاتیں۔ یا اللہ!
کیسا کیسا وقت دیکھنا پڑ رہا ہے۔ جذبات اتنی جلدی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔
ہم قربانی کے وقت گائے کے بھاگنے یا رسی ٹوٹنے کا سن کر ہی ڈر کے مارے رونے لگ جاتے تھے، اور آج حال ہے کہ محتشم مزے سے بھائی کو بتا رہا ہے کہ گائے نے بھاگنے کے چکر میں تایا کو ٹکر مار دی۔ مزید گویا ہوا کہ
“کیا سین تھا! بس موبائل مما نے نہیں دیا، ورنہ اچھی ویڈیو بن جاتی”۔”



تبصرہ لکھیے