زبان کے گناہ تو سمجھ آتے تھے، مگر اب انگلیاں بھی گناہ کرنے لگی ہیں۔ ایک بٹن دباتے ہی بات سینکڑوں گھروں تک پہنچ جاتی ہے۔ کوئی تحقیق نہیں، کوئی ذمہ داری نہیں، کوئی خوفِ خدا نہیں۔
عیدالاضحیٰ سے ایک دن پہلے ایک پوسٹ وائرل ہوئی کہ بیرونِ ملک رہنے والے افراد اگر پاکستان میں اپنے نام کی قربانی کروائیں تو اس وقت تک قربانی نہیں ہوگی جب تک وہ اپنے ملک میں نمازِ عید ادا نہ کر لیں۔ بس پھر کیا تھا۔ گھروں میں فون، پیغامات، اضطراب، الجھن۔ ایک گائے میں سات حصے تھے، کسی کا بھائی امریکہ میں، کسی کی بیٹی کینیڈا میں، کسی کا بیٹا آسٹریلیا میں۔ لوگ قربانی کے حصے بدلنے لگے۔ خاندانوں میں نئی ترتیبیں بننے لگیں۔ قربانی جیسی عبادت پریشانی میں بدل گئی۔
مقامی علماء سے پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ اعتبار اُس جگہ کا ہوگا جہاں قربانی ہو رہی ہے۔ اگر پاکستان میں قربانی ہو رہی ہے تو پاکستان کے وقت اور نمازِ عید کے بعد قربانی درست ہے۔ جس شخص کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے، اس کے ملک میں ابھی عید نہ بھی ہوئی ہو تو قربانی درست ہے۔اعتبار موکل کا ہے۔ ایک غیر مصدقہ پوسٹ نے کتنے لوگوں کو ذہنی اذیت دی؟
کتنے گھروں میں ہلچل پیدا ہوئی؟
کتنے لوگوں کے دل میں اپنی عبادت کے قبول نہ ہونے کا خوف یا شک پیدا ہوا؟
قرآن نے تو صدیوں پہلے سکھا دیا تھا:
“کوئی خبر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی کو نقصان پہنچا بیٹھو…”
مگر سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم تحقیق سے پہلے “فارورڈ” کر دیتے ہیں۔ دین کی بات ہو تو ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ ہر وائرل پوسٹ، ہر فارورڈ میسج “علم” نہیں ہوتا۔ عبادتوں کو مشکل بنانے سے پہلے، لوگوں کے دلوں میں خوف و شک ڈالنے سے پہلے، اور دینی احکامات میں اضطراب پھیلانے سے پہلے… صرف چند لمحے تحقیق پر خرچ کر لینے چاہییں۔
کیونکہ کبھی کبھی ذرا سی انگلیوں کی حرکت بہت بڑا فساد پیدا کر دیتی ہے۔ فتنہ قتل سے شدید ہے شریعت کی نگاہ میں۔



تبصرہ لکھیے