حالیہ جنگی حالات نے ایک دلچسپ منظر بھی دکھایا ہے۔ پاکستان نے تین روزہ جنگ میں مغربی ٹیکنالوجی کے بت کو خاک میں ملا دیا، جبکہ ایران نے تیرہ روزہ جنگ میں مغربی ایشیا میں امریکی بالادستی کو سخت چیلنج دیا ہوا ہے ۔ دونوں قوموں کی مزاحمتی صلاحیت اپنی جگہ قابلِ ذکر ہے، مگر دونوں ریاستوں کے جنگی رویوں (strategic behavior) میں واضح فرق بھی دکھائی دیتا ہے۔
پاکستانی مقتدرہ عمومی طور پر جنگ کو حدود میں رکھنے (controlled escalation) کا فن جانتی ہے۔ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ضرب کہاں لگانی ہے، کتنی لگانی ہے اور کب رک جانا ہے تاکہ دشمن کو پیغام بھی مل جائے اور حالات بھی قابو میں رہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ طاقت صرف استعمال کرنے کی چیز نہیں بلکہ منوانے کی چیز (deterrence) بھی ہوتی ہے۔ اگر اسے ہر موقع پر پوری قوت سے استعمال کر دیا جائے تو اس کا بھرم بھی نکل جاتا ہے۔
ایرانی حکمتِ عملی بظاہر کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلا کر دباؤ پیدا کرنے کو اپنے لیے مفید سمجھ رہا ہے، مگر اس پھیلاؤ میں بھی وہ روایتی دوستی اور تاریخی رقابت دونوں کا کمال لحاظ رکھ رہا ہے۔
مثال کے طور پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ بلکل بغل بھارت میں اسرائیلی موجودگی اور مفادات کے باوجود ایران نے خلیجی میدان پر ”فوکس“ رکھ کر ثابت کیا ہے کہ وہ تزویراتی باریکیاں بھی سمجھتا ہے اور روایتی رقابت اور دوستی کو نبھانا بھی
اسی لیے
ایرانی مروّت بھی ضرب المثل سمجھی جاتی ہے۔ دیکھیے کہ باوجود اس کے کہ بعض رپورٹس کے مطابق بھارت نے ایرانی بحری جہاز تباہ کرنے کے واقعے میں کردار ادا کیا اور اس کے عملے کو بھی بروقت نا بچایا ، پھر بھی ایران نے بھارتی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی۔یہ رویہ ثابت کرتا ہے ایرانی حکومت دوست دشمن کی واضح فہرست رکھتی ہے اور اس میں مذہب کا کوی ”تعصب“ شامل نہیں بھارت بھلے بت پرست ہے یا اسراٸیل کو فادر سمجھتا ہے مگر ایران کے جذبات بھارت کے لیے خیر خواہی پر مبنی ہیں
پاکستانی اور ایرانی عوام کے رویوں میں بھی ایک دلچسپ فرق دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ کربلا معلیٰ عراق میں ہے مگر اہلِ ایران عمومی طور پر قم اور نجف تک ہی اپنے مذہبی و فکری مرکز کو محدود رکھتے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ اس معاملے میں زیادہ تنوع رکھتا ہے۔ یہاں اکثر لوگوں کے محبت و عقیدت کے مراکز سرحدوں سے باہر ہیں کسی کا قبلۂ فکری قم یا نجف میں ہے، کسی کا نجد میں, کسی کا دل بریلی میں دھڑکتا ہے تو کسی کی روح دیوبند میں۔
ایسے میں جب پاکستان اپنے قومی مفاد میں کوئی قدم اٹھاتا ہے تو فوراً ایک بڑا حلقہ اسے کسی نہ کسی عالمی سازش کا حصہ قرار دے دیتا ہے
۔ ایک طبقہ تو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ گویا امریکہ اس قدر نیک دل ہے کہ چاہے اسے خود پٹرول ملے یا نہ ملے، پاکستان کو ضرور ملنا چاہیے، اور اسی امریکی “خیرخواہی” کے تحت پاکستانی بحریہ تیل کے جہاز ملک تک لے کر آئی ہے۔
ایران کے عوام اپنی حکومت کو یہ گنجائش دے دیتے ہیں کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایرانی وزیر خارجہ دہلی میں موجود رہیں نا ایمان پر حرف آتا ہے نا اسلامی بھاٸ چارے پر
مگر اگر پاکستانی حکومت خلیجی ممالک میں سفارتی ملاقاتیں بھی کر لے تو بعض حلقوں کے نزدیک یہ ایران سے بےوفاٸ بن جاتی ہے اور ایران سے بے وفاٸ اسلام سے غداری ہے ۔
اسی طرح بعض لوگوں کے نزدیک پاکستان سے غداری تو محض واہمہ ہے سازشی تھیوری ہے، مگر ایرانی مفاد کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے جس سے پہلو تہی کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اسراٸیل کی باجگزار ہے
لہذا
پاکستان کا مفاد کوئی بخود کوئی اصول نہیں بلکہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہمیشہ قم، نجف، نجد، بریلی یا دیوبند کی طرف دیکھ کر ہی طے کیا جاسکتا ہے
#دامن_خیال از


تبصرہ لکھیے