کچھ روز قبل ایک دوست گھر آیا۔ میرے کتب خانے کا بغور مشاہدہ کیا اور پوچھا ساری پڑھ لیں ہیں میں نے فخریہ انداز میں سر کو اثبات میں ہلایا اور یہ بھی بتایا کہ کالج کی لائبریری اور میونسپل لائبریری اور اپنے ماموں کی لائبریری سے استفادہ اس پر مستزاد ہے:
” اتنا علم کیسے سنبھالتے ہو؟”
تب اس کا یہ سوال میری سمجھ میں نہ آیا اور میں نے اپنے تفاخر کو عجز کے لبادے میں چھپا کر کہا کہ علم نہیں معلومات ہیں کہ جن کی سرشاری میں شبانہ روز مسرور رہتا ہوں وہ مرعوب سا ہو گیا اور بات کسی اور طرف نکل گئی۔
گزشتہ شب اچانک اس کا سوال میرے سامنے کھڑا ہو گیا کہ بتاؤ کیسے سنبھالتے ہو اتنا علم اور میں دم بخود۔ حیرت زا۔ نفس گم کردہ اس سوال کے حضور لاچار کھڑا تھا اور میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا. خجالت، پشیمانی اور بے بسی کی لہروں پر ڈولتا میں خود سے بار بار یہی سوال دہرا رہا ہوں اور اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ اس سارے علم کو ہم ایک گرز بنا ئے ہاتھ میں اٹھائے پھرتے اور وقت بے وقت لوگوں کے سروں پہ مارتے پھرتے ہیں. اور اپنی علمیت کا رعب بگھارتے رہتے ہیں اس بات کا ادراک کئے بغیر کہ آیا یہ اس علم کے حصول کا مقصد تسخیر کائنات ہے یا تہذیب نفس۔ اقبال نے کہا تھا:
ڈھونڈے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اور ہم اس علم کی کسوٹی پر خود کو کبھی نہیں پرکھتے۔ کبھی اس آئینے میں اپنا چہرہ نہیں دیکھتے کہ اس علم کے حصول سے قبل اور اس کے حاصل ہو جانے کے بعد میرے فکر و نظر میں کیا تبدیلی رونما ہوئی ہے اور کیا وہ مثبت تبدیلی ہے یا منفی۔ کیا یہ علم ہمیں حلم سکھاتا کہ تکبر۔ یہ علم میرا دامن صدق و یقین کے موتیوں سے بھرتا یا ارتیاب کے کانٹوں سے۔ اور اگر یہ علم منبع صدق و یقین ہے تو اس نور کی تنویر ہے اور نہیں جس مٹی کے پتلے کو آدم بنایا تھا اور اگر شک و ارتیاب کا کانٹا ہے تو بلا شبہ وسواس من الجنۃ والناس ہے.
اک ذرا سر بگریباں ہو کے دیکھ لیں کیا جواب ملتا ہے !



تبصرہ لکھیے