ہوم << وجودِ خدا، مذہب اور موجودہ صورتحال- کبیر علی
600x314

وجودِ خدا، مذہب اور موجودہ صورتحال- کبیر علی

وجودِ خدا اور مذہب کے اثبات یا انکار کی بحث اکثر ہوتی رہتی ہے اور اب تو یہ بحث ٹھوس علمی فورمز سے اٹھ کر فیس بک وغیرہ پہ بھی جا پہنچی ہے اور نوجوان اس سلسلے میں خاص طور پہ متجسس نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ گزارشات پیش ہیں۔

1۔ پہلی بات تو یہ کہ وجود ِ خدا کے بارے میں سوچنا اور اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرنا ان بڑے سوالوں میں شامل ہے جن کا مادہ انسان کے اندر خلقی طور پہ رکھ دیا گیا ہے اور کائنات کے تمام بڑے دماغوں کو ان سوالوں نے بے چین رکھا ہے۔ کوئی بھی مذہب یا فقط عقل پہ کھڑا ہوا نظام ِ حکمت( از قسمِ فلسفہ ء یونان) اس سوال کو پیدا نہیں کر سکتا۔ البتہ ایک خارجی محرک کے طور پہ اس سوال کو ذہن میں تحریک دے سکتا ہے اور پھر اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ پس اس سوال کی نوعیت بھی بعض دیگر سوالات کی طرح تقدیری ہے گویا انسان جواب چاہے جو بھی دے مگر اس سوال سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔

2۔ مذہب اور اسکی تعبیرات ثانوی مسائل ہیں۔ اصل مسئلہ خدا کا اثبات یا انکار ہے۔ چونکہ خدا زمان و مکان کی حدود سے بالاتر ہے اس لیے وہ انسانی حواسِ خمسہ کے ذریعے ہمارے علم میں نہیں آ سکتا اور نہ ہی اسے تجرباتی (امپیریکل) ثبوتوں کے ساتھ جاننے کی کوشش سود مند ہو سکتی ہے کیونکہ یہ دونوں طریقے طبیعی دنیا کی تحقیق کے لیے ہیں جبکہ خدا مابعدالطبیعات کا موضوع ہے۔ وجودِ خدا کے بارے تین مشہور دلائل “ادلہ ثلاثہ” کہلاتے ہیں۔ یعنی کونی(کاسمولوجیکل) دلائل، غائی(ٹیلیولو جیکل) دلائل اور وجودی (اونٹولوجیکل) دلائل۔ اقبال نے اپنے مشہور خطبات سیریز کے دوسرے خطبے میں ان تینوں دلائل پہ اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ناکافی قرار دیا ہے۔ اگرچہ حقیقت کی جستجو میں عقل کی نارسائی کے کچھ خلقی عذر ہیں جو اس کا مقدر ہیں اور انہیں بدلا نہیں جا سکتا۔تاہم انسان کے پاس یہ عقل ہی ہے جو انفس و آفاق میں موجود لاتعداد نشانیوں کو دیکھتے ہوئے اسے خدا کے انکار یا اقرار کے راستے پہ ڈالتی ہے۔

3۔ کائناتی پیمانوں پہ روز رونما ہونے والے مظاہر کو دیکھتے ہوئے انسان پہ یہ تو واضح ہو جاتا ہے کہ پوری کائنات ایک منظم سسٹم پہ مشتمل ہے ، حتی کہ پوری پوری کہکشائیں ایک دوسرے میں سے بغیر ٹکرائے گزر جاتی ہیں۔ آفاق میں موجود لاتعداد نشانیوں کے علاوہ انسان جب خود پہ غور کرتا ہے تو اس پہ حیرتوں کے جہان کھل جاتے ہیں۔ اب صرف ایک مسئلہ رہ جاتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں کسی ایک طاقتور اور مطلق العنان خدا کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں تو کیا ان تمام امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے خدا کو مان لیا جائے یا ساری کائنات کو بے مقصد یا اتفاقی قرار دیتے ہوئے خدا کے امکان کو رد کر دیا جائے۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا خدا کا “ہونا” زیادہ عقلی ہے یا “نہ ہونا”؟یعنی اگر خدا کا “ہونا” عقلی و سائنسی طور پہ ثابت شدہ نہیں ہے تو کیا خدا کا “نہ ہونا” عقلی و سائنسی طور پہ ثابت ہو چکا ہے؟ بعض اہلِ علم کے نزدیک یہ ایسا سوال ہے کہ اگر کسی سچے ملحد سے پوچھا جائے تو اس کے اندر ایک ہلچل ضرور پیدا ہوگی۔

4۔ اگر اپنی انا کی وجہ سے یا دیگر وجوہ کی بنا پہ آپ خدا کا انکار کرتے ہیں تو اس طرف سے آپ آزاد ہیں البتہ دنیا میں رہتے ہوئے کسی نہ کسی ریاست اور معاشرے کی بالترتیب قانونی اور سماجی بندشوں کا بہرحال آپ کو سامنا کرنا پڑے گا۔ پس انسان اگر اپنی نرگسیت اور بے جا خود مرکزیت کی وجہ سے خدا کا انکار کرتا ہے تو یہ ایک المیے سے کم نہیں۔ البتہ اگر وجوہات فقط عقلی ہیں تو یہ ایک الگ معاملہ ہے۔

5۔ خدا کے انکار یا اثبات کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کے ہونا چاہیے۔ خدا کو مان لینا ایک بہت “محفوظ” راستہ ہے۔ انسان پہ موت اور فنا کا خوف طاری رہتا ہے اور بقائے دوام کی خواہش اس کے دل میں جاگزیں رہتی ہے ایسے میں یہ صرف خدا ہے جو مرنے کے بعد بھی انسان کی بقا کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر موت کے بعد زندگی ملنے کا امکان لاکھ میں سے ایک بھی ہو تو خدا کو مان لینا چاہیے۔ اگر موت کے بعد واقعی زندگی ہوئی تو خدا کو ماننے والے مزے میں رہیں گے اور اگرمرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے تو بھی ماننے والوں کو کوئی گھاٹا نہیں ۔

6۔ خدا کو ماننے کے بعد عقل یہ سوچتی ہے کہ خدا کا مجھ سے کوئی مطالبہ بھی ہے تو وہ ایک سلسلہ ء وحی تک پہنچتی ہے(اگر خدا کو نہ بھی مانا جائے تب بھی یہ سلسلہ انبیا بہت حیرت انگیز ہے۔ مختلف ادوار میں ، دنیا کے مختلف علاقوں میں کچھ لوگ وقت کے طاغوت کی مخالفت کے باوجود ایک ہی طرح کی دعوت دیتے رہے، یہ لوگ اپنی قوم کے سب سے دیانتدار، صاحبِ کردار اور صاحبِ عقل تھے ) اور یوں انسان مذہب تک پہنچتا ہے۔ مذہب اور اس سے جڑے مابعدالطبیعیاتی تصورات انسان کو بہت سے سوالات کے جواب بہم پہنچاتے ہیں۔ انسان کے اخلاقی شعور کی بعض اہم الجھنوں کو دور کرتے ہیں اور انسانی شعور کی بہت اہم فیکلٹیز کو تسکین مہیا کرتے ہیں۔

7۔ مذاہب عالم کا جائزہ لیتے ہوئے انسان اسلام تک پہنچتا ہے۔چونکہ اسلام کے منشور یعنی قرآن مجید میں خدا کا فیصلہ ہے کہ اب آئندہ کوئی اور دین نہیں آنا اور اسلام ہی آخری دین ہے۔ پس آخری ہونے کے ساتھ ہی دو باتیں خود بخود نکل آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ اسے ایک آفاقی دین ہوناچاہیے اور دوسری یہ کہ اس دین کے بنیادی ٹیکسٹ یعنی قرآن مجید میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا کیونکہ اگر تبدیلی ہو جائے تو پھر اصلاح کے لیے کسی اور پیغمبر کو مبعوث کرنا پڑے گا ۔ اگر خدا ، قرآن مجید میں دینِ محمدیﷺ کے آخری ہونے کا واضح اعلان نہ کرتا تو انسانیت آئندہ بھی پیغمبروں کے مبعوث ہونے کا انتظار کرتی ، مگر تکرار کے ساتھ ہونے والے اس قطعی اعلان کے بعد اب ایسے کسی امکان پہ بھی غور نہیں کیا جا سکتا۔ پس اب جو بھی خدا کی طرف جانا چاہتا ہے ، عقلمندی کا ثبوت دیتے ہوئے، انا پرستی و تعصب سےبالا تر ہوتے ہوئے تمام ادیان کے حتمی و مکمل ورژن یعنی اسلام کی طرف رجوع ناگزیر ہے۔

8۔ اب ایک نظر مذہب اور اس کو درپیش چیلنجز پہ بھی ڈال لی جائے۔ اہلِ علم اس بات پہ تقریبا متفق ہیں کہ مذہب کو جو چیلنجز اس وقت درپیش ہیں وہ معلوم تاریخ میں کبھی نہ تھے۔ ہر علم کا بیانیہ گویا مذہب کی مخالفت پہ کمر بستہ ہے اور اس مخالفت میں جدید علوم کی کمک پچھلی کئی دہائیوں کی مسلسل کامیابیاں ہیں جو خدا کے انکار کے باوجود حاصل کی گئیں پس مذہب اتنا کمزور نظر آتا ہے کہ دفاعی پوزیشن پہ جمے رہنا بھی اس کے لیے ممکن نظر نہیں آتا۔

9۔ مذہب کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں جب ہم اسلام کی طرف دیکھتے ہیں تو اسے دوہرے مصائب کا شکار دیکھتے ہیں۔ یعنی ایک طرف تو تمام جدید علوم مذہب کی بالعموم اور اسلام کی بالخصوص مخالفت پہ کمر بستہ ہیں تو دوسری طرف مصیبت یہ ہے کہ خود مسلمانوں کے مذہبی اذہان الا ماشاءاللہ ذلت کی پستیوں میں پڑے ہیں۔ فقط حافظے میں موجود اسلام کی اچھائی اور نتیجہ خیزی کے دعوٰی پہ کب تک گزارا کیا جا سکتا ہے؟

جب تک اسلام کی نتیجہ خیزی ایک واقعاتی نوعیت اختیار کر کے دنیا کے سامنے نہیں آ جاتی تب تک یہ مسئلہ حل ہونے کا نہیں ہے۔ اسی کا ایک ذیلی مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ مذہبی اذہان اس صورتحال پہ مطمئن و مسرور ہیں، وہ اقلیمِ تخیل کے بوسیدہ تخت پہ ایک جاہلانہ پستی اور متعصبانہ کم علمی کے ساتھ مسند نشین ہیں اور فرقہ پرستی و اخلاق باختگی کی کمترین سطحوں پہ جینے ہی میں خوش نظر آتے ہیں۔

پس جب صورتحال کا ادراک ہی نہ ہو تو کہاں کی فکر اور کہاں کالائحہ عمل؟ اب تو یہی امید کی جا سکتی ہے کہ شاید لارڈ میکالے کے سجادہ نشینوں ہی میں سے کوئی کمک اہلِ مذہب کو بالعموم اور اہلِ اسلام کو بالخصوص میسر آ جائے۔