دنیا بھر میں مختلف تہوار منائے جاتے ہیں اور انھیں اپنے اپنے علاقوں میں خاطر خواہ مقبولیت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں منایا جانے والا ایک انوکھا تہوار ہالووین بھی ہے۔ دنیا بھر میں ہالووین کا تہوار 31 اکتوبر کو انتہائی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کا پرانا نام ’’آل ہالوز ایوز‘‘ تھا، جو بعد ازاں بگڑ کر ہالووین بن گیا۔
یکم نومبر شروع ہونے سے پہلے، 31 اکتوبر کی شام کو لوگ مختلف قسم کے ڈراؤنے کاسٹیوم پہن کر گلیوں اور سڑکوں پر گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ دیکھنے والوں کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ ایک ایسی دنیا میں آ گئے ہوں جہاں بھوت پریت کا بسیرا ہو۔ جگہ جگہ ڈراؤنے چہرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بہت سارے گھروں کے باہر کدو نظر آتے ہیں جن کو خوفناک شکلوں میں تراشا جاتا ہے اور ان کے اندر موم بتیاں جلائی جاتی ہیں۔ لوگ خوفناک لباس پہن کر گلیوں میں گھومتے ہیں اور گھر گھر جا کر مٹھائیاں وصول کرتے ہیں۔ امریکہ میں ہالووین پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں بچے بڑے سبھی شریک ہوتے ہیں۔ ان پارٹیوں میں کھیل کود اور کھانے پینے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ہالووین کو ایک مذہبی تہوار کی طرح منایا جاتا تھا، جبکہ 1950ء کے بعد اسے ایک ثقافتی تہوار کی طرح منایا جانے لگا۔ دنیا کے مختلف حصوں کے لوگ اسے اپنے اپنے انداز میں منانے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس دن کے حوالے سے کاروباری لوگوں نے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے کاسٹیوم کے نت نئے ڈیزائن اور ہالووین ماسک متعارف کروائے اور ان کی مارکیٹنگ کا آغاز کر دیا۔ روز بروز اس شعبے میں افادیت اور جدت آتی گئی۔ یہاں تک کہ اب ہالووین سے اربوں ڈالر کمائے جاتے ہیں۔
امریکہ دریافت ہونے کے بعد جب یورپی باشندے یہاں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے تو وہ یہ تہوار اپنے ساتھ لے کر آئے۔ ہر علاقے کے اپنے رسم و رواج، ثقافت اور تہوار الگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب یورپی لوگ امریکہ میں آ کر آباد ہوئے تو وہ اپنی ثقافت اور رسم و رواج کو بھی ساتھ لے کر آئے۔ شروع میں یہ لوگ اس تہوار کو چھوٹے پیمانے پر میری لینڈ اور جنوبی آبادیوں میں مقامی طور پر منایا کرتے تھے۔ انیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر یورپی لوگ امریکہ میں آ کر آباد ہوئے تو ان میں بڑی تعداد آئرش لوگوں کی تھی۔ آئرلینڈ میں اس تہوار کو ایک مذہبی تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا اور اس کا اثر و رسوخ کافی حد تک تھا۔ اسی لیے ان کی امریکہ آمد سے اس تہوار کو بہت زیادہ فروغ اور شہرت حاصل ہوئی۔ اس میں کئی نئی چیزوں کو شامل کیا گیا، جن میں سب سے اہم جزو ٹرک آر ٹریٹ تھا۔
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہالووین کا سراغ قبل از مسیح دور سے ملتا ہے۔ آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ایک کیلٹک قبیلہ آباد تھا، جو ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ ان کے ہاں سال کا آغاز یکم نومبر سے ہوتا تھا۔ وہاں کے موسمی حالات کے مطابق فصلوں کی کٹائی اکتوبر کے آخر تک ختم ہو جاتی تھی۔ نومبر سے سردیوں کا آغاز ہو جاتا تھا اور راتوں کی تاریکی بڑھ جاتی تھی۔ وہاں کے لوگ سردیوں کو موت کے ایام سے منسوب کرتے تھے، کیونکہ اکثر اموات اسی موسم میں ہوا کرتی تھیں۔ اس دقیانوسی سوچ کے پیش نظر نئے سال کے آغاز سے پہلی رات کو وہ یہ تہوار منایا کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ 31 اکتوبر کی رات کو زندہ انسانوں اور مرنے والوں کے درمیان موجود سرحد ختم ہو جاتی ہے اور بدروحیں زمین پر اتر آتی ہیں۔ یہ روحیں انسانوں، فصلوں اور ان کے مال مویشیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ روحوں کو خوش کرنے کی خاطر وہ اس رات کو آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کرتے تھے، اناج بانٹتے تھے اور مویشیوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ اس موقع پر وہ جانوروں کی کھالیں پہنتے اور جانوروں کے سینگ اپنے سروں پر سجاتے تھے۔
امریکہ میں ہالووین کی ابتدا 1921ء میں شمالی ریاست منی سوٹا سے ہوئی اور اس سال پہلی بار شہر کی سطح پر یہ تہوار منایا گیا۔ پھر رفتہ رفتہ دو ہزار سال پرانا یہ تہوار امریکہ کے تمام علاقوں تک پھیل گیا۔ اس کے بعد اس تہوار کو قومی سطح پر منایا جانے لگا اور بعد میں یہ ایک کاروباری شکل اختیار کر گیا، جس سے ملین ڈالر کی آمدن حاصل کی جاتی ہے۔ امریکی معیشت میں ہالووین کے تہوار کا بڑا عمل دخل ہے۔ حالانکہ اٹھارویں صدی میں عیسائیت کے غلبے کے بعد اس تہوار کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں، مگر ناکامی ہوئی۔ اس تہوار کا اثر ختم کرنے کے لیے یکم نومبر کو ’’تمام برگزیدہ شخصیات کا دن‘‘ قرار دیا گیا۔ کلیسا کی کوششوں کے باوجود ہالووین کی اہمیت کم نہ ہو سکی۔ اس دن کو لوگ اپنے اپنے انداز سے مناتے رہے اور آج تک منا رہے ہیں۔



تبصرہ لکھیے