یہ 1977 کا وہ دور تھا جب پیپلز پارٹی اور پاکستان قومی اتحاد کے مابین تناؤ اپنے عروج پر تھا۔
مارچ کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کے بعد اپوزیشن کا احتجاج اپنے زوروں پر تھا۔ 9 اپریل کا دن تھا جب پنجاب اسمبلی کے باہر اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے دوران پی این اے کے جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد حکومت مخالف تحریک پورے ملک میں پھیل گئی۔
14 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو نے گورنر ہاؤس میں پیپلز پارٹی کی ایک بڑی ریلی سے خطاب کیا جس کے موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنان نے قومی اتحاد کا پرچم نذر آتش کیا۔ اگلے دن قومی اتحاد کا جلوس لاہور کی میکلوڈ روڈ سے گزر رہا تھا کہ اس پر ارد گرد کے عمارتوں سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ تین کارکن جاں بحق ہوئے اور کئی زخمی۔ اس واقعے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی۔ اس ماحول میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور مولانا مودودی کے درمیان ہونے والی ملاقات کا احوال مظفر بیگ کچھ یوں تحریر کرتے ہیں۔
یہ 16 اپریل 1977 کا دن تھا۔ عشا کی نماز ختم ہوئی تو آئی جی پنجاب 5۔اے ذیلدار پارک میں داخل ہوئے اور مولانا مودودی کے قریب پہنچ کر ان کے کان میں بات کہی۔ پاس بیٹھے حضرات مولانا کا صرف دو لفظی جواب سن سکے:
“لے آیئے۔”
تھوڑی دیر بعد مختلف گاڑیوں کے جلو میں بڑے حفاظتی اقدامات کے ساتھ بھٹو صاحب مولانا کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے۔ 75 منٹ جاری رہنے والی ملاقات کے بعد مولانا مودودی نے فورا ایک ہنگامی پریس کانفرنس طلب کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مخالفین اس دوبدو ملاقات سے کوئی غلط مطلب اخذ کر کے اتحاد کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ اس پریس کانفرنس میں مولانا مودودی نے کہا ،
“آج رات بھٹو صاحب خود اپنی خواہش پر مجھ سے ملنے آئے۔ میں نے ان سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں کی تھی۔ میں نے ان کو صاف صاف بتا دیا کہ میں قومی اتحاد کی جانب سے آپ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر سکتا، البتہ چونکہ آپ میرے پاس آئے ہیں اس لئے ملک کی بھلائی کی خاطر میں آپ کو صرف مشورہ دے سکتا ہوں۔ 8 مارچ کے انتخابات کی دھاندلیوں نے عوام میں جو ناراضگی پیدا کر دی ہے وہ پولیس کے انتہائی وحشیانہ مظالم کی وجہ سے سخت غصے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پھر پیپلز پارٹی کے کارکنان کو مسلح کر کے عوام سے لڑا دینے کی جو کاوشیں کی گئی ہیں ان سے خانہ جنگی پورے ملک میں پھیل رہی ہے اب صرف قومی اتحاد نہیں بلکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ آپ مستعفی ہو جائیں اور ازسرنو انتخابات عدلیہ اور فوج کی زیر نگرانی کروائے جائیں۔”
اگلے روز کی عصری مجلس میں لوگوں کے سوالات کا رخ اسی ملاقات کی طرف تھا۔
“مولانا! یہ ملاقات بڑی طویل رہی۔”
“جی ہاں! دراصل میرا معمول ہے کہ جب کوئی شخص مجھ سے ملنے آتا ہے تو جو وہ کہنا چاہتا ہے میں اس کا پورا موقع اسے دیتا ہوں۔ دوسرے کی بات سن کر ہی اگر ضرورت محسوس کروں تو کچھ کہتا ہوں۔”
“بھٹو صاحب نے اپنی بات کتنی دیر میں مکمل کی؟”
“انہیں اس میں چالیس منٹ لگے۔”
“انہوں نے کیا کہا؟”
“انہوں نے جو کہا اس سے میری معلومات میں کچھ اضافہ نہیں ہوا۔”
“ان کا استدلال کیا تھا؟”
“یوں سمجھ لیں کہ وہ جو کچھ اپنی تقریروں میں کہتے رہتے ہیں وہی ان کی باتوں کا بھی رنگ تھا۔”
“اس موقع پر اور کون کون شریک تھا؟ بعض اخبارات نے وزیر اعلی صادق حسن قریشی کا نام بھی لکھا ہے۔”
“جی نہیں! خدا کی ذات کے سوا اور کوئی نہ تھا۔”
“مولانا آپ نے بھٹو صاحب کی باتوں کے جواب میں کیا کہا؟”
“رات پریس کانفرنس میں بتا چکا ہوں آپ نے اخبارات میں پڑھ لیا ہو گا۔”
“مولانا ! آپ کا کیا اندازہ ہے کہ آپ کی باتوں کا ان پر کیا اثر ہو گا۔”
“اب تک جو تجربہ ہوا ہے وہ کافی مختلف ہے۔ گزشتہ سال والی ملاقات میں میں نے انہیں یہ نصیحت کی تھی کہ وہ جمہوریت کو تباہ کرنے والی راہ پر نہ چلیں۔ مگر اس کے بعد جب قومی اسمبلی کی عمارت سے اپوزیشن کے ارکان کو اٹھا اٹھا کر باہر پھینکا گیا تو میں نے کہا کہ مجھے اپنی نصیحت کی رسید مل گئی ہے۔”
“بھٹو صاحب آپ سے کتنی مرتبہ ملے ہیں؟”
“یہ ملاقات شاید تیسری مرتبہ ہوئی تھی۔”
“کیا بھٹو صاحب سے آپ کی ملاقاتیں خود ان کی خواہش ہر ہوئیں؟”
“جی ہاں میں نے کبھی کسی صدر یا وزیر اعظم سے ملاقات کی خواہش ظاہر نہیں کی۔”
اس کے بعد کا ہر دن حالات کو مزید سنگینی کی طرف ہی لے جاتا رہا۔ ایک دن ایک مجلس میں سوال کیا گیا کہ بھٹو صاحب بار بار قسم کھاتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی کا انہوں نے حکم نہیں دیا تھا۔
مولانا مودودی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “یہ بار بار قسم کھانا تو کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔”
ایک موقع پر ایک نوجوان نے سوال کیا جو آج کی شخصی اور خاندانی سیاست کے تناظر میں بھی بالکل متعلق ہے کہ یہ بات پھیلائی جا رہی ہے کہ اگر بھٹو نہ رہے تو یہ ملک کیسے چلے گا ان کے سوا کسی میں کوئی صلاحیت نہیں ہے۔
مولانا نے کہا “ہر ڈکٹیٹر اس قسم کے پروپیگنڈے کو بہت ضروری سمجھتا ہے حالانکہ یہی چیز اس کے بد نیت ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ جو شخص یہ چاہے کہ قوم کو میرے سوا کوئی دوسرا دکھائی نہ دے وہ قوم کے حق میں کبھی مخلص نہیں ہو سکتا۔”
ایسی سخت اعصاب شکن سیاست کے دوران بھی مولانا مودودی کا اپنے مخالفین کے متعلق رویہ حد سے بڑھا ہوا نہ تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا “یہ جو کشمکش ہمارے ہاں جاری ہے کیا یہ اسلام اور کفر کی جنگ نہیں ہے؟” مولانا نے جواب دیا “نہیں میں ایسا نہیں سمجھتا۔ اسے نیکی اور بدی کی کشمکش کہا جا سکتا ہے۔”
4 جولائی کو بھٹو حکومت ختم کر دی گئی۔ 5 جولائی کو لوگوں کے سوالوں کا محور ایک ہی تھا۔
“یہ سب کیسے ممکن ہوا؟”
مولانا کہہ رہے تھے :
“ہر ڈکٹیٹر ایسے تمام راستے بند کرتا چلا جاتا ہے جہاں سے اسے کسی آفت کے آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ سوائے اس ایک راستے کے جو اللہ نے اس پر زوال لانے کے لئے رکھ چھوڑا ہوتا ہے۔”



تبصرہ لکھیے