شیخ امتیاز علی (پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر) 104 سال کی طویل عمر پا کر 4 جولائی2026 کو اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔وہ میرے وائس چانسلر بھی تھے، لاء کالج میں میرے استاد بھی اور میرے آئیڈیل بھی۔ بہت ہی شفیق،کمال کے ایڈمنسٹریٹر ،جرآت مند اور معاملہ فہم۔ آج واپس مُڑ کر دیکھتا ہوں تو اتنی خوبیوں والا انسان زندگی میں دُور دُور تک کوئی اور نظر نہیں آتا۔ بس تین یادیں قارئین کی نظر کر رہا ہوں۔
شیخ امتیاز علی وائس چانسلر تھے، فرید پراچہ اور میں، پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے منتخب صدر اور سکریٹری۔ سٹوڈنٹس یونین کے نئے سال کے انتخابات کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ یاد رہے یہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور گورنر مصطفے کھر کا دور تھا ۔اکثر یونیورسٹیوں میں جمعیت کی منتخب طلبہ یونینیں تھیں۔جس کے سبب بھٹو صاحب کو یونیورسٹیوں اور خاص طور پر پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ایک رات اچانک ڈیڑھ دو بجے شور سنائی دیا۔پولیس ہاسٹلوں میں گھس آئی ہے اور طلبہ کے کمروں کی تلاشی لے رہی ہے۔طلبہ ہڑبڑا کر باہر نکلے۔ اُس زمانے میں عام طور پر گمان یہ ہوتا تھا کہ پولیس یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہو سکتی ۔ آوازیں اُبھریں کہ وائس چانسلر صاحب سے پوچھا جائے ، پولیس ہاسٹلوں میں کیوں اور کس کی اجازت سے آئی ہے؟ شور مچتے ہی طلبہ کے گروپ وائس چانسلر کے گھر کی طرف دوڑنے لگے۔
سرُخے اور سبزے سبھی
تاہم طلبہ میں بائیں بازو کے لیڈر اور صدارتی امیدوار غلام عباس اِن شوریدہ سر طلبہ کو لیڈ کر رہے تھے۔ میں اور جنابِ فرید پراچہ بھی طلبہ کے ہمراہ ہو لئے۔ پروفیسرز کالونی میں ہُو کا عالم تھا۔ لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ کچھ شریر طلبہ نے گملے اُٹھائے اور وائس چانسلر کے گھر کے شیشوں پہ برسانا شروع کر دیے۔گہری نیند سے بیدار ہوتے ہی شیخ امتیاز جرآت سے باہر نکلے، بتایا “وہ اِس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ پولیس طلبہ ہاسٹلوں میں آئی ہے” طلبہ کی طرف سے ڈھیلے برسائے جا رہے تھے۔ فرید پراچہ اور میں آگے بڑھے اور شیخ امتیاز صاحب کے سامنے شیلڈ بن گئے۔ کچھ ڈھیلے اُن کے ہاتھ پہ بھی لگے اور شیخ امتیاز معمولی زخمی بھی ہوئے مگر جرآت اور استقامت سے وہاں کھڑے رہے۔
اگلے روز حکومت نے فرید پراچہ، مجھے، ہمارے دس رفقاء اور مخالف صدارتی امیدوار غلام عباس کو گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا۔ ہم جیل میں بند تھے اور انتخابات قریب تر آرہے تھے۔ ایک رات دیر گئے اطلاع ملی کہ دونوں امید واروں (مجھے اور غلام عباس) کی رہائی کے آرڈر آگئے ہیں۔ ہم اپنا سامان باندھ کر ڈیوڑھی میں آجائیں۔ سامان سمیٹ کر جب ہم ڈیوڑھی پہنچے تو پریشان تھے کہ رات کے دو بجے ہم ہاسٹل کیسے پہنچیں گے۔جونہی ہم جیل کے گیٹ سے باہر نکلے تو خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا۔ شیخ امتیاز علی باہر ہمیں لینے کو کھڑے تھے، مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ہمیں ہمارے ہاسٹلوں میں اتارا کراپنے گھر چلے گئے۔ تمام سفر آنکھیں تو ایک دوسرے سے دوچار ہوتی رہیں، مگر زبانیں گُنگ کی ُگنگ۔
یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کا انتخاب مکمل ہوچُکا تھا
جمعیت جیت چکی تھی۔میں اور سید احسان اللہ وقاص بطور صدر اور سکریٹری جنرل منتخب ہو گئے تھے۔تقریبِ حلف وفاداری کے لئے ہم کسی غیر معمولی شخصیت کو بُلانا چاہ رہے تھے۔مولانا مودودی رح کے علاوہ کوئی اور نام جچتا نہ تھا۔ ہم مولانا محترم سے ملے اور انہوں نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی۔ یہ خدشہ بدستور موجود تھا کی پیپلز پارٹی اور گورنر کھر مولانا کو یونیورسٹی آنے سے روکنے کی پوری کوشش کریں گے۔جس روز تقریب ہونا تھی، ایک شام قبل ہم اچھرہ میں مولانا کی رہائش گاہ پہنچے تاکہ اگلے روز آمد کی تفصیلات طے کر سکیں۔ ہم ملاقات کے انتظار میں لان میں بیٹھے تھے ، ایک گاڑی نمودار ہوئی۔ شیخ امتیاز علی باہر نکلے اور سیدھا مولانا کے ڈرائنگ روم چلے گئے، دس منٹ بعد باہر آئے، ہمیں دیکھا، مگر نظر انداز کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر واپس روانہ ہو گئے۔ دلوں کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔ کوئی نئی آزمائش آنے کو ہے شاید؟
اتنے میں مولانا محترم کا بلاوا آگیا۔ میں جونہی اندر پہنچا، انہوں نے مجھے اپنے ہاتھ سے لکھا ایک خط تھما دیا اور فرمایا اِسے پڑھ لیجئے۔ کانپتے ہاتھوں سے میں نے خط پڑھا، لکھا تھا :
“افسوس ہے میں کل آپ کی تقریبِ حلفِ وفاداری میں شامل نہ ہو سکوں گا۔ابھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب میرے پاس تشریف لائے تھے،انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ میرے یونیورسٹی آنے سے انہیں (وائس چانسلر کو) بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یونیورسٹی کا سربراہِ ذاتی طور پر مجھ سے درخواست کرے تو میں اسے رد کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ میں متبادل کے طور پرپروفیسر غفور احمد (اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی) سے کہہ دیتا ہوں کہ وہ میری جگہ آپ کے کل کے پروگرام میں مہمان خصوصی ہوں”۔
خط کو تھامے بھاری دل کے ساتھ میں باہر آیا، طلبہ اور انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ اب کل کی تقریب میں پروفیسر غفور احمد مہمان خصوصی ہونگے۔ یہ خبر جلد ہی گورنر ہاؤس پہنچ گئی، مصطفے کھر مزید تیش میں آئے۔شیخ امتیاز علی کو فون کیا اور کہا:
“ مودودی صاحب تو پھر بھی ایک عالم دین تھے، اب اُنکی جگہ ایک خالصتا سیاسی شحص آرہا ہے۔ اسے ہر صورت روکنا ہو گا.”
شیخ امتیاز نے تحمل سے بات سنی، فون بند کیا، کاغذ قلم پکڑا، گورنر کے نام خط تحریر کیا اور اسے لیکر گورنر ہاؤس پہنچ گئے۔ پہنچ کر مصطفے کھر سے ملے اور خط اس کے حوالے کیا۔لکھا تھا :
“ میں نے آپ لوگوں کے دباؤ اور خواہشات پر آج ایک ایسے شخص (مودودی صاحب)کو تقریب میں شریک نہ ہونے پر قائل کیا ہے، جسے آپ لوگ اُلٹے بھی لٹک جاتے تو قائل نہ کر پاتے۔ اب آپ طلبہ کے اگلے مہمانِ خصوصی کو بھی روکنا چاہیں گے، تو یہ میری بس میں نہیں۔میرا استعفی قبول کر لیجئے تاکہ میں گھر چلا جاؤں”
گورنر کھر سَکتے میں آگیا اور مجبوراََ پروفیسر غفور صاحب کو تقریب میں شرکت پر آمادگی دے دی۔حلفِ وفاداری کی تقریب پورے وقار سے تکمیل پزیر ہوئی۔ سٹوڈنٹس یونین کی سرگرمیوں میں سیرت ایک اہم موضوع ہوتا ہے۔ سوچا کیونکہ ناں “سیرت کے پیغام” پر مولانا مودودی کو خطاب کی دعوت دی جائے۔ میں محترم مولانا کے پاس اُنکی رہائش گاہ اچھرہ پہنچا۔ مولانا نے کمال شفقت سے درخواست قبول کر لی۔
یونیورسٹی کا فیصل آڈیٹوریم
27 نومبر1975 کو جامعہ کے پروفیسرز، طلبہ و طالبات اور معززین شہر سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔شیخ امتیاز علی نے خود آگے بڑھ کر مولانا کا استقبال کیا۔ سیرت پر مولانا نے تقریباً ایک گھنٹے تک بہت مربوط اور مدلل خطاب کیا۔ بیشمار دوسرے سامعین کی طرح مولانا کا یہ خطاب شیخ امتیار علی کی روح میں بھی اترتا چلا گیا۔اُسی سہہ پہر وہ لاء کالج گئے کہ وہ اِس کالج کے پرنسپل بھی تھے۔انہوں نے کالج کی تمام فیکلٹی کو اپنے آفس جمع کیا اور پوچھا کہ آپ میں سے کون کون حضرات آج مولانا مودودی کے خطاب میں موجود تھے۔پھر کہا بدقسمت ہیں وہ لوگ جو آج کے سیرت کے اس عظیم خطاب سے محروم رہے۔بعد ازاں انہوں نے مولانا کا خطاب اپنے ساتھی پروفیسرز کو ایسے سنانا شروع کیا جیسے کوئی ٹیپ ریکارڈر اسے دہرانے کا کام کر رہا ہو۔ شیخ امتیاز علی غیر معمولی منتظم ، غیر معمولی جرآت مند اور غیر معمولی شفیق انسان تھے۔ میں آج اس کالم کے ذریعے، رب کے حضور ان کی ان خوبیوں کا گواہ بن کر پیش ہوناچاہتا ہوں۔
ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں



تبصرہ لکھیے