تقلید کے مسئلے پر معاشرے کے بعض طبقات ردِّعمل کی نفسیات کا شکار ہیں۔ اس ردِّعمل کی بنیادی وجہ مغربی علوم اور جدیدیت کی غیر معمولی اثر انگیزی ہے۔ احساسِ محرومی یا احساسِ کمتری کی نفسیات بھی دراصل اسی حقیقت کی غمازی کرتی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ تقلید کی تاریخی اور سماجی حیثیت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اگر اسے فطری اور عمومی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ “تقلید” درحقیقت، بقول مولانا مناظر احسن گیلانی، “آدمی کے جہل کی قدرتی ضرورت ہے۔” انسان کی ناواقفیت کا ازالہ دراصل کسی ماہرِ فن کی اتباع و پیروی ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ اس فطری رویے سے انحراف کسی بھی صورت میں نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
پھر جیسے جیسے عمر کے ساتھ عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے، انسانی ذہن خودمختاری میں غیر معمولی دلچسپی لینا شروع کر دیتا ہے۔ اس ذہنی خودمختاری کا تعلق متعلقہ معلومات، آگاہی، تجربات اور تجزیات کی تنظیم و ترتیب سے ہوتا ہے۔ اس کی سادہ مثال ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں؛ مثلاً زمانۂ طفولیت میں بچے کے اقدامات سرپرستوں کے فراہم کردہ اختیارات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں یا بچے اپنے والدین کی حرکات و سکنات کا مکمل نمونہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاہم مرورِ ایام اور شعور کی بیداری کے ساتھ یہ تمام عناصر بتدریج پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور خود فیصلہ سازی کے رجحانات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ یہ تمام نشانیاں انسان کی علمی دلچسپی سے مربوط ہیں۔ متعلقہ علم و تجربہ جس قدر عمیق ہوگا، عقل و فکر میں اسی قدر انفرادیت پیدا ہوگی اور تقلید کی گرفت کمزور ہوتی جائے گی۔
مزید یہ کہ معروضی عالمی حالات بھی آزادیِ عقل و فکر کی آبیاری میں پیش پیش ہیں۔ ماضی کی روایت سے رشتہ توڑنا اس رجحان کا بنیادی مقصد ہے۔ مغرب میں جدید علوم کی بنیاد بھی بڑی حد تک اسی تصور پر استوار ہے۔ ان تمام عوامل کی روشنی میں تقلید و تحقیق کی کشمکش، بالخصوص مغرب کی فکری بے راہ روی کے باعث، تقلید — جو انسان کی ایک فطری ضرورت ہے — اپنے فطری تناظر میں مسخ ہو چکی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تقلید کو اس کے فطری محل میں فروغ دیا جائے، تاکہ نہ اجتہاد و تحقیق کے دروازے بند ہوں اور نہ جمودِ محض کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے۔ یہی دراصل ملتِ اسلامیہ کی اعتدال پسند روایت اور میانہ روی کے تسلسل کا تقاضا ہے۔



تبصرہ لکھیے