ہوم << سیاست اور اخلاق-خورشید ندیم

سیاست اور اخلاق-خورشید ندیم

m-bathak.com-1421245366khursheed-nadeem
جنابِ سپیکر نے گناہِ بے لذت کا ارتکاب کیا۔ بہتر ہوتا اگر نواز شریف اور عمران خان کے ساتھ ایک جیسا معاملہ کرتے۔ اگر وزیرِ اعظم کے خلاف ریفرنس میںکوئی قانونی سقم تھا بھی تو اسے الیکشن کمیشن کے لیے اُٹھا رکھتے۔
مسئلہ مگر قانونی سے زیادہ اخلاقی ہے۔ ایاز صادق صاحب کا تعلق (ن) لیگ سے ہے۔ سپیکر، صوبائی ہو یا قومی، ہر اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہی کا ہوتا ہے۔ قانون اور اخلاق تقاضا کرتے ہیں کہ سپیکر کا حلف اُٹھانے کے بعد وہ پارٹی وابستگی سے بلند تر ہو جائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا۔ اکثریتی جماعت اپنا سپیکر اس لیے لاتی ہے کہ اس کے مفادات کی نگہبانی کرے۔ وہ اپنے حلف کو یاد نہیں رکھتا‘ لیکن اسے یہ ضرور یاد رہتا ہے کہ وہ اس منصب پر کس جماعت کی وجہ سے بیٹھا ہے۔ یہ ایک روایت بن چکی، جس سے انحراف اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے کی اخلاقی ساخت مضبوط ہو۔ معاملہ صرف ایاز صادق صاحب کا نہیں‘ ماضی میں ایسا ہی تھا اور حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ہر صوبے کی اسمبلی میں حکومتی پارٹی کا نمائندہ اس منصب پر بیٹھا ہے۔
دوسری طرف کرپشن کے خلاف اپوزیشن کا مقدمہ بھی اسی بنیاد پر قائم ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف اور طرزِ عمل‘ دونوں گواہ ہیں کہ ان کو کرپشن کے خاتمے سے نہیں، نواز شریف کے اقتدار کے خاتمے سے دلچسپی ہے۔ کرپشن ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ اس کی ہر صورت اور اس کا ہر ملزم قانون کے سامنے پیش ہو۔ اگر منی لانڈرنگ جرم ہے تو کیا اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے قرضے معاف کرانا کم جرم ہے؟ آخر سب کے لیے قانون کیوں نہ ہو اور سب عدالت کے کٹہرے میں کیوں نہ ہوں؟ حکومت نے قومی اسمبلی میں ایک جامع قانون کا مسودہ پیش کیا ہے جو کرپشن کی ہر صورت زیرِ بحث لاتا اور 1956ء کے ایکٹ کی ہر کمزوریوں کا مداوا کرتا ہے جس کی طرف عدالتِ عظمیٰ نے بھی توجہ دلائی تھی۔ اپوزیشن کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر ہے تو پاناما لیکس سے اور اس میں بھی نواز شریف سے۔ کسی نے اس بل کو پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
نواز شریف صاحب بھی اس پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ لندن کے فلیٹس کا معاملہ محض قانونی نہیں اخلاقی بھی ہے۔ حسین نواز اور حسن نواز نے کم عمری میں یقیناً اتنے پیسے نہیں کمائے کہ اتنی قیمتی جائیداد خرید سکیں۔ انہیں بتانا چاہیے کہ ان کے پاس یہ دولت کہاں سے آئی۔ نواز شریف صاحب نے قوم کے سامنے ان سوالات کے جواب رکھے ہیں اور ان کے خاندان نے بھی۔ یہ جواب اپنے اندر تضاد رکھتے ہیں۔ اپوزیشن مطمئن نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اس تنازع کا فیصلہ عدالت ہی کر سکتی ہے۔ انہوں نے بظاہر عدالت کا سامنا کرنے سے انکار نہیں کیا؛ تاہم اچھا ہو گا کہ وہ پارلیمان میں اس موضوع پر پھر کلام کریں، اس تضاد کو دور کریں اور اپوزیشن سے مل کر کوئی ایسا نظام تشکیل دیں جس سے شکوک دھل جائیں۔
فرض کیجیے وہ ایسا کر گزرتے ہیں تو کیا عمران خان مان لیں گے؟ اس کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی دلیل، ماضی میں ان کا رویہ ہے۔ ان کے کہنے پر دھاندلی کے خلاف کمیشن بنا۔ انہوں نے اس کے فیصلے کو آج تک مان کر نہیں دیا۔ پھر دیکھیے کہ تحریکِ انصاف والے یاسمین راشد صاحبہ کے مقدمے میں الیکشن کمیشن کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ان کے خلاف مقدمہ سننے کا مجاز نہیں ہے۔ دوسری طرف وہ نواز شریف صاحب کے خلاف مقدمہ لے کر اسی الیکشن کمیشن کے سامنے جا کھڑا ہوتے ہیں۔ کمیشن سوال اُٹھاتا ہے کہ ایک مقدمے میں، کمیشن مجاز نہیں تو دوسرے میں مجاز کیسے ہو گا؟ وکیل کے پاس کوئی ایسا جواب نہیں ہوتا جو عدالت تو ایک طرف عام آدمی کو بھی مطمئن کر سکتا۔ وہ عدالت کے صرف اسی فیصلے کو انصاف پر مبنی مانتے ہیں جو ان کے حق میں ہو۔
عمران خان یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ حکومت کا کام الزام لگانا نہیں۔ اگر وہ کسی کو مجرم سمجھتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اب حکومت نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف کچھ ریفرنس دائر ہو چکے اور کچھ مزید آ رہے ہیں۔ اب انہیں اعتراض کیوں ہے؟ یہ بے معنی سوال ہے کہ 2013ء میں میرے اثاثوں پر بات کیوں نہیں کی گئی۔ کل اگر مبینہ جرم کی نشاندہی نہیں ہوئی تو آج کیوں نہیں ہو سکتی؟ اب انہیں بتانا ہو گا کہ بنی گالہ کے گھر کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟
اب حکومت کا معاملہ بھی یہ ہے کہ وہ انہی لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کرتی ہے جو اس کے لیے سیاسی مسائل پیدا کریں۔ عمران خان اور ان کے حواریوں کے خلاف بہت سے معاملات پر حکومت نے مواد جمع کر رکھا ہے۔ جیسے جیسے وہ سیاسی چیلنج میں اضافہ کریں گے، ویسے ویسے حکومت بھی متحرک ہو گی۔ اسے بھی مجرموں کو کیفر کردار تک پہچانے سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ پیپلز پارٹی کے خلاف اپنے تمام الزامات، اس نے عملاً واپس لے لیے۔ ہاں اگر وہ سیاسی مسائل پیدا کرے گی تو سوئس اکاؤنٹس سمیت سب مقدمات بحال ہو جائیں گے۔ عمران خان بھی قرضوں کی معافی کا مسئلہ نہیں اُٹھانا چاہتے کہ اس کی زد میں اگر سب سے زیادہ کوئی آتا ہے تو جہانگیر ترین ہیں۔
کچھ لوگ اپنی سادگی میں یہ گمان کرتے ہیں کہ عمران خان کرپشن کے خاتمے میں فی الواقع سنجیدہ ہیں۔ وہ خود بھی اپنے خلاف مقدمات کو 'کپتان کی کردار کشی‘ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ تحریکِ انصاف کے فنڈز کے بارے میں جو مقدمہ عدالت کے سامنے درپیش ہے، اس میں ان کی جماعت فنی سوالات اُٹھا کر اسے مؤخر کرنا چاہتی ہے۔ اگر ان کا دامن صاف ہے تو وہ عدالت کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟ ان کے پسندیدہ ترین 'سیاسی راہنما‘ شیخ رشید اور طاہرالقادری صاحب ہیں۔ کیا کوئی آدمی بقائمیء ہوش یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ شیخ رشید کا اصل مسئلہ نواز شریف صاحب کی مبینہ کرپشن ہے؟ عمران خان کی یہ رفاقت ان کے ذوق اور سنجیدگی کے بارے میں کیا بتا رہی ہے؟
یہ سیاست ہے۔ اس میں کوئی فرشتہ نہیں۔ اگر یہ معاشرہ فرشتوں کا ہوتا تو اہلِ سیاست بھی ایسے ہو سکتے تھے۔ معاشرہ جیسا ہے، سیاست دان بھی ویسے ہی ہیں۔ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کوئی سیاست دان دیوتا ہوتا ہے، وہ خوابوں میں رہتے ہیں۔ انہیں حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے۔ انیس بیس کا فرق ہو سکتا ہے لیکن کیا اس کی بنیاد پر پورے ملک کے نظام کو تلپٹ کر دینا چاہیے؟ اس وقت اہم سوال یہی ہے۔
میرا کہنا ہے کہ ارتقا کے اصول کو قبول کرتے ہوئے، ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔ ہمیں میسر کو گنوائے بغیر مزید حاصل کرنا ہے۔ اس کا راستہ ہیجان اور اضطراب پیدا کرنا نہیں، قوم کی شعوری تربیت کرنا ہے۔ اس وقت ملک کا اصل اثاثہ نوجوان ہیں۔ ان کو تعمیر کا درس دینے کے بجائے، اگر مسلسل مضطراب رکھا جائے تو یہ ان کے ساتھ ظلم ہو گا۔ سیاسی نظام تدریجاً بہتر ہوتا ہے۔ اگر عمران خان پارلیمنٹ کو وقت دیں تو مزید بہتر ہو سکتا ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ انتقام کی آگ کو بجھا تو سکتا ہے، سکون نہیں لا سکتا۔

Comments

Click here to post a comment