ہوم << اماں کی بےبسی - مبارک بدری

اماں کی بےبسی - مبارک بدری

مبارک بدری اس واقعہ کو پیش آئے عرصہ ہوگیا. ایک روز دھوبی کے یہاں سے کپڑے لے کر لوٹ رہا تھا. دونوں ہاتھوں میں کپڑوں کی تھیلیاں تھیں. دوپہر کی شدید گرمی میں ماہِ رمضان کی برکات کا مشاہدہ گاہے بگاہے ہو رہا تھا. رب کریم جہاں اس مہینے میں اپنے بندوں پر خواص نعمتوں کا نزول فرماتا ہے وہیں اپنے بندوں کو قوت برداشت بھی عطا کرتا ہے.
میں چلتا جا رہا تھا، لوک نائک ہسپتال سےگزرتے ہوئے میری نظر اس بوڑھی اماں پر پڑی جس کو جاتے وقت ایک خاتون کا سہارا لے کر جاتے دیکھا تھا. بوڑھی اماں ہسپتال کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی، میں نے پسینہ صاف کرتے ہوئے اپنی رفتار کو کم کیا، میرے رکنے سے قبل ہی اماں کی بےبس آواز میرے کانوں تک پہنچی
’’بیٹا مجھے باہر تک چھوڑ دینا.‘‘
کپڑے کی تھیلیوں کو ایک ہاتھ میں کیا اور دوسرے ہاتھ سے اماں کو سہارا دیتے ہوئے چل پڑا.
اماں کوئی 90 برس کے لپیٹے میں تھی، پاؤں اور گھٹنوں کی تکلیف کے باعث چلنا نہایت دشوار تھا.
اماں نے چار پانچ قدم ہی رکھے تھے کہ پھر بیٹھ گئی.
’’بیٹا ٹھہرو مجھسے چلا نہیں جاتا.‘‘
ایک طرف گرمی کی شدت، روزے کی سختی اور وقت کی قلت اور اس پر مزید بوڑھی اماں کی قابلِ رحم حالت.
میں نے اماں کو بٹھاتے ہوئے کہا،
ذرا آرام کے بعد رکشہ تک چلیں، میں آپ کو رکشہ میں بٹھا دیتا ہوں مگر اماں کے قدم جواب دے چکے تھے.
میں نے کہا اماں، جب آپ کو ہسپتال آنا تھا تو کسی کو ساتھ لے آتیں؟
ذرا سی خاموشی کے بعد اماں میرا منہ تکتے ہوئے گویا ہوئی.
بیٹا بس کرو؟
کیا بات ہے اماں؟
بیٹا. میرے شوہر کے انتقال کے بعد بیٹیاں میرا سہارا تھیں مگر اللہ رب العزت کی مرضی، وہ بھی آخرت کو سدھار گئیں.
کیونکہ اماں کا تعلق دلّی مرحوم سے تھا، وہی دلّی جو کبھی میر و غالب کا گہوارہ ہوا کرتی تھی،
جہاں اردو تہذیب کا سکہ چلتا تھا،
اور جو مغل شاہوں کی عظیم یادگار ہے.
اماں کی زبان پیرانہ سالی کے باعث پھول بکھیر رہی تھی، حروف اور مخارج کی ادائیگی الفاظ میں جان پیدا کر رہی تھی. مجھے یقین ہوگیا کہ اردو دلی میں ابھی اجنبی نہیں ہوئی.
بیٹا میں اکیلی رہتی ہوں.
قریب بیٹھا ایک نوجوان رکشہ لینے چلا گیا، رکشہ کے انتظار میں وقت نکلا جارہا تھا. میں نے اماں سے کہا کہ آپ یہیں رہیں، میں رکشہ دیکھ کے لاتا ہوں، اماں نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
’’بیٹا جانا نہیں‘‘
نہیں اماں. میرے دل پر جیسے پہاڑ سا ٹوٹ گیا ہو. مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ بےبسی کیا ہوتی ہے. اماں کو جیسے یقین ہی نہیں تھا کہ میں رکشہ لے کر واپس آؤں گا.
میں نے رکشہ لیا اور اسے کہا کہ اماں کو گھر تک چھوڑ کے آنا.
یہ ایک اماں تھی جس کا کوئی اپنا سہارا نہیں تھا.
نہ جانے ایسی کتنی مائیں ہیں جو بےبسی کے ہاتھوں مجبور ہیں.
اس بوڑھی کا کوئی نہیں تھا، اس لیے لاچار تھی.
مگر کتنی مائیں سہارا ہوتے ہوئے بھی بےسہارا ہیں، کوئی غیرت مند نہیں جو ان کا پرسانِ حال ہو.
اماں ہسپتال تک تو پہنچ گئی تھیں مگر دوائی سے پھر بھی محروم رہیں.
کیونکہ خود لائن میں لگنے کی ہمت نہیں تھی، دوسرا کوئی دیکھنے والا نہیں تھا.
خدارا جن کے سروں پہ ماں کا قیمتی سایہ ہے، وہ ان کی قدر کریں، یہ خدا کی بےبہا نعمت ہے جو ہر کسی کو نصیب ہوتی ہے. خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جو اس کی قدر کرتے اور جنت کو یقینی بنا لیتے ہیں.
اس سرمایہ کو کبھی بھی بےسہارا نہ چھوڑیے کیونکہ یہی وہ ہیرا ہے جو تمھیں چمکانے کی خاطر خود کیچڑ کا روپ دھار لیتا ہے.

Comments

Click here to post a comment