ہوم << جب خوابوں پر ٹیکس عائد ہوا – ڈاکٹر سیف ولہ رائے
600x314

جب خوابوں پر ٹیکس عائد ہوا – ڈاکٹر سیف ولہ رائے

معاشی بحران ہمیشہ صرف معیشت کا بحران نہیں ہوتا؛ یہ انسان کے باطن، اس کے خوابوں، اس کی امیدوں اور اس کے سماجی رشتوں کا بحران بھی بن جاتا ہے۔ جب ریاستی فیصلے عوامی زندگی میں مسلسل بے یقینی، اضطراب اور محرومی پیدا کرنے لگیں تو مسئلہ محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ ایک ایسی خاموش ذہنی تھکن میں مبتلا ہو جاتا ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے حوصلے، اعتماد اور زندگی سے وابستگی کو چاٹنے لگتی ہے۔

آج پاکستان کی فضا میں یہی تھکن نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ ہر چہرہ فکر میں ڈوبا ہوا ہے، ہر گفتگو مہنگائی کے گرد گھومتی ہے، ہر گھر اخراجات کی الجھنوں میں گرفتار ہے اور ہر دل آنے والے کل کے خوف سے بوجھل دکھائی دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی اپنی فطری روانی کھو بیٹھی ہو اور انسان محض بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو گیا ہو۔اس پورے منظرنامے میں “پٹرولیم لیوی” ایک ایسی علامت بن چکی ہے جو صرف معاشی بوجھ نہیں بلکہ اجتماعی بے بسی کی نمائندگی کرتی ہے۔ ریاست اسے آمدنی کا ناگزیر ذریعہ قرار دیتی ہے، مگر عام آدمی کے لیے یہ لفظ ایک نئے عذاب کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ حکومت کو محصولات کیوں درکار ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہر بار قربانی صرف متوسط اور غریب طبقے ہی کے حصے میں کیوں آتی ہے؟
طاقتور طبقات، بڑے سرمایہ دار اور ٹیکس کے دائرے سے باہر رہنے والے حلقے بدستور محفوظ رہتے ہیں، جبکہ ایک مزدور، ایک رکشہ ڈرائیور، ایک موٹر سائیکل سوار اور ایک تنخواہ دار انسان ہر اضافی روپے کا بوجھ اپنی ہڈیوں میں محسوس کرتا ہے۔ پاکستان کا ٹیکس نظام برسوں سے عدم توازن کا شکار ہے۔ یہاں بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہے جبکہ براہِ راست ٹیکسوں کا دائرہ محدود دکھائی دیتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست غریب اور امیر دونوں سے تقریباً یکساں شرح سے وصولی کرتی ہے، حالانکہ انصاف کا تقاضا اس کے برعکس ہے۔ پٹرولیم لیوی اسی ناانصافی کی ایک واضح مثال بن چکی ہے۔ ایک امیر شخص کی لگژری گاڑی میں استعمال ہونے والا پٹرول بھی اسی شرح سے مہنگا ہوتا ہے اور ایک مزدور کی موٹر سائیکل کا ایندھن بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ امیر کے لیے یہ اضافہ ایک معمولی خرچ ہے، جبکہ غریب کے لیے یہی اضافہ اس کے بچوں کے دودھ، دوائی اور تعلیم میں کمی کا سبب بن جاتا ہے۔

حکومتیں اکثر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا حوالہ دیتی ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں نرخ کم ہوتے ہیں تو عوام تک اس کا مکمل فائدہ منتقل نہیں کیا جاتا۔ کبھی پٹرولیم لیوی بڑھا دی جاتی ہے اور کبھی کسی اور مد میں بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا نقصان عوام کا مقدر اور فائدہ ریاست کی ضرورت قرار پا چکا ہے۔ یہی احساسِ ناانصافی رفتہ رفتہ عوام کے دلوں میں مایوسی، غصے اور بیگانگی کو جنم دیتا ہے۔معاشی بحران کی سب سے بڑی تباہی اعداد و شمار میں نہیں بلکہ انسانی نفسیات میں ہوتی ہے۔ بازاروں میں اب لوگ خواہش سے نہیں بلکہ مجبوری سے خریداری کرتے ہیں۔

گھروں میں ادب، خواب اور مستقبل کی گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ “یہ مہینہ کیسے گزرے گا؟” جیسے سوال زیادہ سنائی دیتے ہیں۔ مائیں بچوں کو تسلی دیتی ہیں کہ حالات بہتر ہو جائیں تو سب کچھ لے دیں گے، اور باپ رات گئے تک حساب لگاتا رہتا ہے کہ پہلے پٹرول ڈلوائے یا بجلی کا بل جمع کروائے۔یہ صورتِ حال صرف مالی بحران نہیں بلکہ تہذیبی بحران بھی ہے۔ جب ایک معاشرہ مسلسل مہنگائی، بے روزگاری اور اضطراب کا شکار ہو جائے تو اس کے اخلاق، اس کے رویّے، اس کی سماجی روایات اور اس کی فکری توانائی بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی بلکہ انسان کے اندر سے اعتماد، سکون اور امید بھی چھین لیتی ہے۔

ایک نوجوان جو کبھی بڑے خواب دیکھا کرتا تھا، اب صرف ایک معمولی نوکری کی تلاش میں اپنی صلاحیتوں کا سودا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد ڈگری ہاتھ میں لیے اس امید پر زندہ ہے کہ شاید کسی دن کوئی مختصر سا روزگار ہی میسر آ جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خواب اب قابلیت سے نہیں بلکہ معاشی حالات سے مشروط ہو چکے ہیں۔المیہ یہ بھی ہے کہ مہنگائی صرف اشیائے ضروریہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسانی تعلقات تک کو متاثر کرتی ہے۔ گھروں میں برداشت کم ہونے لگتی ہے، گفتگو میں تلخی بڑھ جاتی ہے اور معمولی باتیں جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ جب ذہن مسلسل معاشی دباؤ میں ہو تو انسان کے اندر سکون اور امید کی جگہ بے چینی اور اضطراب جنم لینے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا معاشرہ نفسیاتی انتشار کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ لوگ بظاہر زندہ ہیں، مگر اندر سے تھکے ہوئے، شکستہ اور خوفزدہ۔

ایک وقت تھا جب متوسط طبقہ کسی بھی معاشرے کی سب سے مضبوط قوت سمجھا جاتا تھا۔ یہی طبقہ تعلیم، تہذیب، ادب اور سماجی توازن کا ضامن ہوتا ہے، مگر پاکستان میں سب سے زیادہ زوال بھی اسی طبقے کا ہوا ہے۔ وہ طبقہ جو کبھی محدود وسائل کے باوجود عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارتا تھا، آج مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔ تنخواہیں جمود کا شکار ہیں جبکہ اخراجات ہر مہینے نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ سفید پوشی اب وقار نہیں بلکہ ایک خاموش اذیت بن چکی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ پوری معیشت میں زہر کی طرح سرایت کر جاتا ہے۔

جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اشیائے خوردونوش، کرایے، صنعتی لاگت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ گویا ایک فیصلے کا بوجھ پورے معاشرے کی سانسوں پر آ گرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی عوام کے لیے قیامت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ریاستی پالیسیوں کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کیا جائے، مگر بدقسمتی سے یہاں اکثر فیصلے طاقتور طبقات کے مفادات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ بڑے بڑے قرضے معاف ہو جاتے ہیں، بااثر حلقے مراعات حاصل کر لیتے ہیں، مگر ایک عام شہری کے لیے چند ہزار روپے کا بل بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہی احساسِ ناانصافی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیواروں کو کمزور کرنے لگتا ہے۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ صرف اقتصادی اعداد و شمار سے مضبوط نہیں بنتا بلکہ اعتماد، انصاف اور امید سے مضبوط بنتا ہے۔ جب عوام کو محسوس ہونے لگے کہ قربانی صرف انہی کا مقدر ہے جبکہ طاقتور طبقہ ہر مشکل سے محفوظ ہے تو پھر معاشی بحران رفتہ رفتہ سیاسی اور سماجی بحران میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔آج پاکستان میں شاید سب سے بڑا مسئلہ غربت نہیں بلکہ غیر یقینی ہے۔ لوگ نہیں جانتے کہ آنے والا مہینہ کس نئی آزمائش کے ساتھ آئے گا۔ تنخواہ دار طبقہ مہینے کے آغاز ہی میں شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے۔ چھوٹے کاروبار مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ دکان دار گاہکوں کی کمی کا شکوہ کرتے ہیں جبکہ گاہک قیمتوں کے ہاتھوں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ہر طرف ایک خاموش خوف پھیلا ہوا ہے؛ ایسا خوف جو چیختا نہیں مگر انسان کے اندر آہستہ آہستہ امید کو مار دیتا ہے۔

معاشی دباؤ نے نوجوان نسل کے خوابوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ایک نوجوان جو کبھی ڈاکٹر، انجینئر، شاعر یا محقق بننے کا خواب دیکھتا تھا، اب صرف یہ سوچتا ہے کہ کسی طرح ملک سے باہر نکل جائے۔ ہجرت اب صرف خواہش نہیں بلکہ مجبوری بنتی جا رہی ہے۔ جب ذہین دماغ اپنے ہی وطن میں مستقبل تاریک دیکھنے لگیں تو یہ صرف اقتصادی ناکامی نہیں بلکہ قومی المیہ بن جاتا ہے۔ادب ہمیشہ معاشرے کے دکھ کو محسوس کرتا ہے، اسی لیے آج کے اشعار، افسانے اور تحریریں بھی مہنگائی، محرومی اور بے یقینی کے استعاروں سے بھر گئی ہیں۔ شاعر اب صرف محبت کے دکھ نہیں لکھتا بلکہ آٹے، بجلی، کرائے اور پٹرول کی اذیت بھی اس کی شاعری میں اتر آئی ہے، کیونکہ جب معاشرہ اجتماعی کرب میں مبتلا ہو تو ادب بھی خاموش نہیں رہ سکتا۔

معاشی پالیسیوں کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ خزانے میں کتنی رقم آئی بلکہ اس سے بھی ناپی جاتی ہے کہ عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوئی۔ اگر ریاست کی ترقی کے دعووں کے باوجود ایک عام شہری کا چولہا بجھنے لگے تو پھر وہ ترقی محض کاغذی اعداد و شمار بن کر رہ جاتی ہے۔آج ایک عام پاکستانی کی زندگی مسلسل سمجھوتوں کی داستان بن چکی ہے۔ کوئی اپنے بچوں کی خواہشات کم کر رہا ہے، کوئی علاج مؤخر کر رہا ہے، کوئی تعلیم کا خرچ پورا کرنے کے لیے قرض لے رہا ہے، اور کوئی عزتِ نفس بچانے کے لیے خاموشی سے اپنی ضروریات قربان کر رہا ہے۔ یہ خاموش قربانیاں کسی بجٹ دستاویز میں نظر نہیں آتیں، مگر یہی اصل قومی المیہ ہیں۔

معاشی بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کے اندر امید کو کمزور کر دیتا ہے، اور جس معاشرے سے امید ختم ہو جائے وہاں ترقی کے خواب بھی دم توڑنے لگتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاست صرف اعداد و شمار کی زبان نہ سمجھے بلکہ انسانی زندگی کی حرمت کو بھی محسوس کرے۔ پالیسیوں کا مقصد محض خزانہ بھرنا نہیں بلکہ انسان کو جینے کا حوصلہ دینا ہونا چاہیے۔آج کا پاکستان شاید اسی داخلی کشمکش کی تصویر ہے؛ ایک ایسا معاشرہ جو مسلسل مشکلات کے باوجود زندہ ہے، زخمی ہے مگر ٹوٹا نہیں، تھکا ہوا ہے مگر مکمل مایوس نہیں۔ کیونکہ اس دھرتی کے عام لوگ اب بھی امید کے آخری چراغ کو بجھنے نہیں دیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ معاشی بحران موسموں کی طرح بدل سکتے ہیں، مگر اگر انسان کے اندر حوصلہ باقی رہے تو تاریک ترین رات بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔

ایسے ہی کسی اجتماعی کرب، بے بسی اور داخلی اضطراب کی کیفیت میں شاید مرزا غالب کے یہ اشعار آج بھی ہمارے عہد کی سب سے گہری ترجمانی کرتے محسوس ہوتے ہیں:

[poetry]حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں[/poetry]

مصنف کے بارے میں

بلاگز

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment