ہوم << عراق سے امریکی افواج کا انخلاء: مسلمانوں کی 23 سالہ بدقسمتی یا چاپلوسی – عرفان علی عزیز
600x314

عراق سے امریکی افواج کا انخلاء: مسلمانوں کی 23 سالہ بدقسمتی یا چاپلوسی – عرفان علی عزیز

سنہ 2003ء میں عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا حملہ اور اس کے بعد ہونے والی تباہی جدید تاریخ کا ایک ایسا تاریک باب ہے جس نے مسلم دنیا کے سیاسی، سماجی اور معاشی نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ دو دہائیوں سے زائد کا یہ سفر محض ایک فوجی مداخلت نہیں، بلکہ مسلم حکمرانوں کی بے بسی، اندرونی خلفشار اور استعماری طاقتوں کے سامنے سیاسی چاپلوسی کی المناک داستان ہے۔

2003ء کا حملہ اور جھوٹے بیانیے کی بنیاد
امریکہ نے مارچ 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق پر یہ الزام عائد کیا کہ اس کے پاس “ڈبلیو ایم ڈی” تباہ کرنے والے ہتھیار موجود ہیں۔
حقیقت کا انکشاف: بعد میں یہ ثابت ہو گیا کہ وہ تمام الزامات سفید جھوٹ تھے اور جنگ کا مقصد صرف مشرق وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل نقشے کو اپنے حق میں تبدیل کرنا اور تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا تھا۔

مسلم دنیا کا کردار:
بدقسمتی سے، بہت سی عرب اور مسلم حکومتیں یا تو اس جارحیت پر خاموش تماشائی بنی رہیں یا انہوں نے پس پردہ امریکہ کو لاجسٹک مدد فراہم کی۔ یہیں سے اس زوال کی بنیاد پڑی جو آگے چل کر مزید گہرا ہوتا گیا۔

اندرونی انتشار اور فرقہ واریت کی آگ
امریکہ نے عراق میں داخل ہو کر “باگ ڈور” سنبھالنے کے بعد جان بوجھ کر ایسی پالیسیاں اپنائیں جو ملک کو اندرونی طور پر کمزور کریں۔

فرقہ وارانہ خلیج:
صدام حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار کی ایسی جنگ شروع کی گئی جس نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان صدیوں پرانے بھائی چارے کو خونریز تصادم میں بدل دیا۔

استعماری اصول:
امریکہ اور اس کے حواریوں نے “لڑاؤ اور حکومت کرو” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے عراقی معاشرے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ مسلمانوں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے گھر کو آگ لگانے میں دشمن کا بھرپور ساتھ دیا۔

داعش کا ظہور: امریکی جارحیت کا براہ راست شاخسانہ
عراق کی تباہی اور وہاں کے ریاستی ڈھانچے کے انہدام نے ایک خلا پیدا کیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں انتہا پسند تنظیم “داعش” (ISIS) جیسی قوتیں ابھریں۔ لاکھوں عراقی بے گھر ہوئے، ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوئیں، اور تاریخی شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ اس خون خرابے نے مغرب کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو “دہشت گرد” کے طور پر پیش کرے اور مسلم ممالک میں اپنی فوجی موجودگی کو طویل سے طویل تر کرتا چلا جائے۔

بدقسمتی یا حکمرانوں کی چاپلوسی؟
جب ہم اس پورے 23 سالہ المیے کا تجزیہ کرتے ہیں، تو یہ سوال شدت سے سامنے آتا ہے کہ کیا یہ محض قدرت کا قہر (بدقسمتی) تھا یا ہمارے اپنے حکمرانوں کی غداری اور چاپلوسی؟

استعماری مفادات کے نگہبان:
زیادہ تر مسلم حکمرانوں نے اپنی اقتدار کی بقا کے لیے واشنگٹن اور مغربی دارالحکومتوں کی خوشنودی کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنے عوام کے حقوق کے بجائے اپنے آقاؤں کے اشاروں پر ناچنا قبول کیا۔

عوامی جذبے اور حکمرانی کا تضاد:
عوام تو ہمیشہ غیر ملکی تسلط کے خلاف سراپا احتجاج رہے، لیکن مغرب نواز حکمرانوں نے کبھی مسلم امہ کے اتحاد اور خود مختاری کے لیے عملی قدم نہیں اٹھایا۔ جب مفاد پرستی اصولوں پر غالب آجائے، تو اسے بدقسمتی نہیں بلکہ خود ساختہ تباہی یا چاپلوسی کہا جاتا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں عراق سے باضابطہ امریکی جنگی دستوں کے انخلاء کے اعلانات تو ہوتے رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اثر و رسوخ، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور معاشی شکنجہ اب بھی برقرار ہے۔عراق آج بھی اپنی مکمل خود مختاری اور سیاسی استحکام کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

یہ 23 سالہ تاریخ مسلم دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ جب تک امت مسلمہ اندرونی اختلافات کو بھلا کر خود انحصاری، تعلیم اور معاشی خود مختاری کی راہ نہیں اپناتی، بیرونی مداخلت اور استحصالی طاقتی کھیل یونہی جاری رہیں گے۔

نتیجہ
عراق میں جو کچھ ہوا وہ محض بدقسمتی نہیں، بلکہ کمزور سیاسی بصیرت، اغیار کی اندھی تقلید اور اقتدار کی ہوس میں کی جانے والی وہ چاپلوسی تھی جس نے ایک شاندار تہذیب کو خون اور بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment