ہوم << نیا جال اور پرانے شکاری – محمد شفیق اعوان
600x314

نیا جال اور پرانے شکاری – محمد شفیق اعوان

شہر میں کئی دنوں سے ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی کہ ’’بڑا شکاری‘‘ جیل سے تشریف لا رہا ہے۔ کسی کے لیے یہ خوش خبری تھی، کسی کے لیے خطرے کی گھنٹی، اور کچھ ایسے بھی تھے جو خاموشی سے مسکرا رہے تھے؛ انہیں معلوم تھا کہ شکاری بدلتے ہیں، جال بدلتے ہیں، مگر شکار کی عادتیں نہیں بدلتیں۔

چائے خانے کے ایک کونے میں بیٹھے بابا درویش نے اخبار تہہ کرتے ہوئے کہا:
’’بیٹا! جیل سے آدمی نکلتا ہے تو ضروری نہیں کہ پرانی سیاست بھی جیل میں چھوڑ آئے۔ بعض لوگ سلاخوں سے باہر آتے ہیں، مگر پرانی چالیں اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔‘‘سامنے بیٹھے نوجوان نے پوچھا:
’’بابا! مگر اس مرتبہ تو سب کچھ نیا بتایا جا رہا ہے؟ نئی حکمتِ عملی، نئی صف بندی، نئی اصطلاحیں، نئی ترجیحات!‘‘بابا نے مسکرا کر چائے کی چسکی لی۔
’’نیا جال ہے بیٹا، شکاری وہی پرانے ہیں!‘‘یہ جملہ جیسے پورے شہر کی سیاست کا عنوان بن گیا۔

چند ہی روز بعد ایک بڑے ڈرائنگ روم میں اجلاس ہوا۔ پردے گرے ہوئے تھے، دروازے بند تھے اور موبائل فون باہر رکھوا دیے گئے تھے۔ اندر بیٹھے صاحبانِ اقتدار اور اہلِ سیاست کے چہروں پر سنجیدگی تھی، مگر آنکھوں میں حساب کتاب چل رہا تھا۔ایک صاحب نے کہا:
’’عوام کو فی الحال کچھ نہ بتایا جائے۔‘‘دوسرے نے فوراً تائید کی:
’’بالکل! عوام کو صرف اتنا بتایا جائے جتنا ان کے لیے جاننا ضروری ہو۔ باقی معاملات ہم سنبھال لیں گے۔‘‘کونے میں بیٹھا ایک بزرگ سیاست دان زیرِ لب مسکرایا۔
’’عوام کو ہمیشہ یہی بتایا جاتا ہے کہ وہ اقتدار کے مالک ہیں؛ اصل بات یہ ہے کہ انہیں صرف انتخاب کے دن مالک بنایا جاتا ہے، باقی دنوں میں مہمان بھی نہیں سمجھا جاتا۔‘‘کمرے میں ہنسی پھیل گئی۔

اچانک دروازہ کھلا اور ایک نوجوان صحافی اندر داخل ہوا۔ اس نے حیرت سے پوچھا:
’’جناب! یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ باہر تو کچھ اور بیانیہ چل رہا ہے۔‘‘
ایک سیاست دان نے چشمہ درست کیا۔
’’بیانیہ؟‘‘
’’جی ہاں، عوام کے لیے کچھ اور، اندر کی میز پر کچھ اور!‘‘
وہ صاحب مسکرائے:
’’بیٹا! سیاست میں سب کچھ عوام کو بتایا جائے تو سیاست کہاں رہ جائے گی؟‘‘

صحافی نے کہا:’’پھر جمہوریت کہاں رہ جائے گی؟‘‘
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر ایک تجربہ کار شخص نے کھنکار کر کہا:
’’جمہوریت؟ وہ تو تقریروں میں بالکل موجود ہے!‘‘
سب پھر ہنس پڑے۔ادھر عدالتوں میں بیانات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ کبھی کوئی اصولوں کی بات کرتا، کبھی آئین کی، کبھی عوامی مینڈیٹ کی، اور کبھی جمہوریت کی بقا کا عہد کرتا۔ ٹی وی اسکرینوں پر چہرے بدلتے، الفاظ بدلتے، مگر لہجے وہی رہتے۔ایک تجزیہ کار نے پروگرام میں کہا:

’’حالات بدل رہے ہیں، سیاست نئی کروٹ لے رہی ہے۔‘‘ساتھ بیٹھے بوڑھے صحافی نے دھیرے سے کہا:
’’حالات ضرور بدل رہے ہیں، مگر کردار وہی ہیں۔‘‘تجزیہ کار نے چونک کر پوچھا:
’’آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘بوڑھا صحافی بولا:
’’میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ اگر پرانے شکاری نئی وردی پہن لیں تو جنگل نیا نہیں ہو جاتا۔‘‘
دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں ایک نئی بحث جاری تھی۔ کسی نے کہا:
’’اب وقت آ گیا ہے کہ اقتدار سے کچھ پیچھے ہٹ کر حصہ داری کا نیا فارمولا بنایا جائے۔‘‘ایک اور آواز آئی:

’’یعنی اقتدار بھی رہے اور اقتدار سے دستبرداری بھی؟‘‘
’’بالکل!‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘
’’سیاست میں ناممکن کچھ نہیں۔ عوام کے سامنے دستبرداری، اندر سے بقدرِ ضرورت حصہ داری!‘‘یہ سن کر ایک خاموش بیٹھا ہوا بزرگ بولا:
’’واہ! یہ تو وہی پرانی دیگ ہے، صرف ڈھکن نیا ہے۔‘‘
پھر پارلیمانی سہولت کاری کا ذکر آیا۔ ترمیم کی بات چلی۔ کسی نے مخالفت کا اعلان کیا، کسی نے حمایت کا اشارہ دیا، اور کسی نے کہا:
’’ہم اصولی طور پر مخالف ہیں، مگر قومی مفاد میں تعاون کر سکتے ہیں۔‘‘بزرگ صحافی نے اخبار بند کرتے ہوئے کہا:

’’سیاست کی لغت میں ’اصولی مخالفت‘ کا مطلب اکثر یہی ہوتا ہے کہ قیمت ابھی طے نہیں ہوئی۔‘‘
اسی دوران ملک کے سیاسی نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کی بات شروع ہوئی۔ صدارتی نظام کے فوائد گنوائے جانے لگے۔ صوبوں کی تعداد، اختیارات کی تقسیم اور مقامی حکومتوں کی مضبوطی پر بحث ہونے لگی۔ایک نوجوان نے سوال کیا:
’’اگر مقامی حکومتیں مضبوط ہو جائیں تو کیا واقعی عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے؟‘‘ایک دانشور نے جواب دیا:
’’اگر اختیار واقعی نیچے منتقل ہو جائے تو شاید۔ لیکن اگر اختیار صرف کاغذ پر منتقل ہو اور خزانہ، فیصلہ اور اختیار اوپر ہی رہے تو پھر یہ بھی ایک نیا جال ہوگا۔‘‘نوجوان نے پوچھا:
’’تو پھر کیا کیا جائے؟‘‘دانشور نے کہا:

’’سب سے پہلے شکاری کو پہچانو۔‘‘
’’اور اگر شکاری اپنا حلیہ بدل لے؟‘‘
’’تو اس کے کپڑے نہیں، اس کے قدموں کے نشان دیکھو۔‘‘
’’اور اگر جال نیا ہو؟‘‘دانشور مسکرایا:
’’جال نیا ہو تو بھی پرندے کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اسے بچھانے والا کون ہے۔‘‘اسی رات بابا درویش اپنے پرانے حجرے میں بیٹھا شہر کی روشنیاں دیکھ رہا تھا۔ نوجوان پھر اس کے پاس پہنچا۔
’’بابا! آپ نے جو کہا تھا، وہ سچ نکلا۔ جال واقعی نیا ہے، مگر شکاری وہی ہیں۔‘‘بابا نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولا:

’’بیٹا! قومیں صرف حکمرانوں کی چالوں سے تباہ نہیں ہوتیں، اپنی غفلت سے بھی تباہ ہوتی ہیں۔ جب عوام ہر نئے نعرے کو نئی صبح سمجھ لیں، ہر نئے چہرے کو مسیحا مان لیں اور ہر سیاسی مفاد کو قومی مفاد سمجھ بیٹھیں تو پھر شکاریوں کو جال بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔‘‘
نوجوان خاموش رہا۔بابا نے بات جاری رکھی:
’’یاد رکھو! چور دروازے سے آنے والا اقتدار، عوام سے چھپایا جانے والا فیصلہ، پردے کے پیچھے ہونے والی سودے بازی اور مفاد کے لیے بدلتے ہوئے اصول—یہ سب کسی ایک جماعت یا ایک شخص کی کہانی نہیں۔ یہ اس سیاسی بیماری کی علامت ہیں جس میں اقتدار مقصد بن جائے اور عوام محض سیڑھی۔‘‘
پھر اس نے اخبار اٹھایا، اس پر ایک نظر ڈالی اور مسکرا کر بولا:

’’کل پھر نئی خبر آئے گی۔ نئے اتحاد، نئی ترمیم، نئی ترتیب، نئی اصطلاح اور شاید نیا نظام بھی۔‘‘نوجوان نے پوچھا:
’’اور پرانے شکاری؟‘‘بابا نے کہا:
’’وہ بھی وہیں ہوں گے—بس جال کا رنگ بدل جائے گا۔‘‘
باہر اذان کی آواز بلند ہوئی۔ شہر کی روشنیاں بدستور جگمگا رہی تھیں۔ سیاسی ایوانوں میں منصوبے بن رہے تھے، ٹی وی اسٹوڈیوز میں بیانات تیار ہو رہے تھے، اور عوام حسبِ معمول اگلی صبح کی خبر کے منتظر تھے۔بابا درویش نے آخری جملہ کہا:
’’نیا جال بچھانے والوں سے زیادہ خطرناک وہ قوم ہوتی ہے جو بار بار اسی جال میں پھنسنے کے باوجود شکاری کو نہیں پہچانتی۔‘‘

اور یوں شہر کی رات اپنے دامن میں ایک پرانی حقیقت لیے سو گئی:جال نیا تھا، مگر شکاری پرانے!

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment