انصاف جو دھلائے اُس کی شان ہے
حافظ نعیم الرحمان ہماری قومی آواز ہے
گھر بار چھوڑ کے اب میداں میں آ نکلا
ساتھ اپنے پسے ہوئے طبقے لایاہے
اپنے،اپنی پارٹی کے لیے کچھ نہ مانگے
عوام کے حقوق لینے میداں میں آیا ہے
کس شان سے جمہوری طریقہ اپنایا
ٹریفک جاری ہے کسی کو نہ ستایا ہے
ایمبولیس ا گر اس کی ریلی میں آ نکلی
جلد از جلد ان کے یے رستہ بنایا ہے
مہنگاہی کی ماری قوم خود کشیاں کریں
حکمرانو ں کو ان کا فرض یاد دلایا ہے
بجلی پیدا نہ کریں کیپسٹی وصول کریں
اس ظلم کواحتجاج کر کے روکوایا ہے
پٹرول پر لیوی ایک ظالمانہ ٹیکس
ختم کرواسی لیے دھرنا لگایا ہے
ایوانوں سامنے عوام بیٹھے ہیں
لیوی ختم کروورنہ نہیں جانا ہے
لیوی نہ ختم ہو گی نہ ہم اُٹھیں گے
شیرحافظ نعیم کایہی فرمانا ہے



تبصرہ لکھیے