اگر چاروں سمت نگاہ دوڑائی جائے تو مایوسی، بے بسی اور نامرادی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے:
’’مایوسی کفر ہے۔‘‘
تاہم وطنِ عزیز میں مایوسی نے نہ جانے کب سے مستقل ڈیرے جما رکھے ہیں۔نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، مگر نہ اسلام اپنی حقیقی روح کے ساتھ جلوہ گر ہے اور نہ جمہوریت اپنی اصل صورت میں نظر آتی ہے۔ یہ تو محض نظام کی بات ہے؛ اگر عام شہری کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال اس سے بھی کہیں زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔
ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، مہنگائی عوام کی سانسیں گھٹاتی جا رہی ہے، بنیادی سہولیات ناپید ہیں، اور عوامی استحصال ایک معمول کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک جانب اشرافیہ کی عیاشیاں ہیں، تو دوسری جانب عوام کی آہیں اور سسکیاں۔غریب آدمی اب حقیقی معنوں میں زندگی بسر نہیں کر رہا، بلکہ محض جینے کی ایک بے مقصد جدوجہد میں مبتلا ہے۔آخر کب تک؟
آخر کب تک عام شہری اپنے ہی وطن میں بنیادی سہولیات، انصاف، عزتِ نفس اور دو وقت کی روٹی کے لیے ترستا رہے گا؟
آخر کب تک قربانیاں صرف عوام کے حصے میں آئیں گی اور مراعات کا تسلسل صرف اشرافیہ تک محدود رہے گا؟
آخر کب تک ریاست اپنے شہری کو محض ایک ٹیکس دہندہ تصور کرتی رہے گی، نہ کہ ایک باعزت انسان اور ذمہ داری شہری آخر کب تک ؟



تبصرہ لکھیے