ہوم << پیسہ بدل دیتا ہے اور بدلنا اعلی ظرف انسانوں کو قبول نہیں – سید عبدالعلام زیدی
600x314

پیسہ بدل دیتا ہے اور بدلنا اعلی ظرف انسانوں کو قبول نہیں – سید عبدالعلام زیدی

پیسہ نہ کما پانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پیسہ آپ کو بدل دیتا ہے۔ میری کچھ باتیں بظاہر بڑی عجیب لگتی ہیں، مگر میں چاہتا ہوں کہ آپ سوچیں، مجھ سے اختلاف کریں، اپنی رائے دیں۔ آج کے دور میں، بلکہ شاید ہر دور میں، معاشی استحکام ایک ایسا مسئلہ رہا ہے جو خیر کی بنیاد ہے، اور اس میں کمزوری شر کے دروازے کھولتی ہے۔ اسی لیے ہمیں سکھایا گیا ہے کہ ہم اللہ سے کفر کے بعد فقر سے پناہ مانگیں:

اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ!
(نبوی دعا)

تو بات یہ کر رہا تھا کہ پیسہ آپ کو بدل دیتا ہے؛ آپ کا لباس، بات چیت کا انداز، دوستی یاری نبھانے کا طریقۂ کار۔۔۔ بہت کچھ بدل جاتا ہے!
تو بھائی، بدلاؤ تو اچھی بات ہے ناں؟
دیکھنے میں یہ درست لگتا ہے کہ بدل جانے سے کیا ہوتا ہے، مگر جب ہم اپنے دل سے پوچھتے ہیں تو دل کچھ اور کہانی سناتا ہے۔ہم جس لباس میں اپنا بچپن گزارتے ہیں، جس انداز میں دن رات گزارتے ہیں، جس طرح ہم سب کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ جب چاہیں، جیسے چاہیں، ہماری زندگی میں انٹری ماریں۔۔۔ اپنا پیار لٹانے کو ہم تیار رہتے ہیں، سب کو خوش کرنے کو ہی زندگی، بلکہ بندگی سمجھتے ہیں۔ خود کو بھول کر جینا ہی ہمیں نیکی اور بلندی لگتا ہے۔ہماری غربت اور فقیری کے پیچھے اصل میں یہی زندگی اور اسے گزارنے کے پیٹرنز ہوتے ہیں۔ جب ہم خود کو نظرانداز کرنے کو ہی بزرگی اور بلندی سمجھیں گے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم خود کے لیے کچھ کرنے کی کوشش کریں؟
جب دوسروں کے لیے جینا، انہیں خوش کرنا، ان کے مسائل سننا اور انہیں حل کرنا ہماری محنت کا مرکز ہوگا تو کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنی پرسنل لائف کے لیے کچھ بڑا کریں؟

یوں ہمارے یہ تصورات اور زندگی گزارنے کے طریقے ہمیں غربت کی زندگی جینے پر لے آتے ہیں، اور ہم اسے بڑا پن، اعلیٰ ظرفی، قربانی، نیکی، ولایت، خاندانی پن، نسلی انسان جیسے اعلیٰ اعلیٰ ٹائٹل دے کر جیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ ہم پر ذمہ داریاں بڑھنے لگتی ہیں، حالات تبدیل ہونے لگتے ہیں، وہ اپنے اور پیارے، جن کو خوش کرتے کرتے ہم جی رہے تھے، بے وفائی کرنے لگتے ہیں۔ بیوی بچے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں، والدین کی ضروریات بڑھنے لگتی ہیں، اپنا جسم بیماریوں کا شکار ہونے کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

ایسے میں شدید ڈپریشن کا دورہ پڑتا ہے کہ یار، اب کیا کروں؟ پیسہ کہاں سے کماؤں؟ کمانے کے لیے جو ہمت چاہیے، جو زندگی گزارنے کے الگ اور نئے انداز چاہییں، وہ کہاں سے لاؤں؟ کیسے سیکھوں؟ کیسے بدلوں؟ اور صرف چار ٹکوں کے لیے آخر خود کو ہی بدل دوں۔۔۔!
یہ بڑا تکلیف دہ وقت ہوتا ہے۔اب بدلنے کی بنیاد عقیدہ، تصورات اور اخلاق کی اصلاح اور تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی بنیاد صرف پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔جن علماء اور بزرگوں کے ساتھ زندگی گزاری، انہوں نے کبھی اس پہلو سے زندگی کی اصلاح کی ہی نہیں۔ کبھی اپنے آپ کو وقت دینے، توجہ دینے، خوبصورت بنانے، خود پر خرچ کرنے کی اہمیت سکھائی ہی نہیں۔ انہوں نے بزرگوں سے چلے آتے تصورات پر ضرب ماری ہی نہیں۔۔۔تو اب بدلاؤ لانا شدید اذیت والا کام ہوتا ہے۔

بدلاؤ کا مطلب اپنے دین اور مذہب سے بھاگنا قرار پاتا ہے۔ جس پیسے کو لعنت سمجھا، اس سے محبت کرنا سوچیے کتنا مشکل ہوگا!
اب یہاں اگر کوئی عالم سمجھا بھی دے تو بھی ایک اور غم کا سمندر ہے جو سامنے کھڑا ہوتا ہے۔۔۔ وہ سمندر پہلے والے سے بھی زیادہ گہرا، دردناک اور دکھ بھرا ہے۔
وہ ہے اپنے ہی ماضی سے جدائی کا سمندر!
ہم نے جن پیٹرنز پر زندگی جی ہوتی ہے، جن تصورات کے ساتھ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہوتا ہے، وہ ہماری زندگی کا وہ حصہ ہوتے ہیں جو ہم سے عشق کرتا ہے۔ اس وقت کو بری نظر سے دیکھنا دل کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ اس کے ساتھ لاتعلقی خود اپنے آپ کو مار دیتی ہے۔

شاید بہت سارے لوگوں کے لیے صرف باؤنڈریز لگانا، دوسروں کو خوش کرنے کی عادت سے خود کو نکالنا۔۔۔ صرف یہی بہت سے رشتوں سے محروم کر دینے والا عمل ہو۔۔۔!
آپ کو یاد ہوگا کہ زندگی کے بہت سارے ایسے مواقع آتے ہیں کہ جب انسان کسی دوست یا رشتہ دار کو یاد کرکے کہتا ہے:
’’یار، وہ بدل گیا ہے۔۔۔!‘‘
ہم یہ بات کتنی تکلیف سے کرتے ہیں۔ شاید بسا اوقات ایک نفرت کے لہجے سے کرتے ہیں۔ کتنی تکلیف اور نفرت ہوتی ہے جو ہم دوسرے انسان کو بھیجتے ہیں۔اب جب ہم بدلتے ہیں، بالکل یہی فیلنگز ہمارے بارے میں دوسروں کو ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں ایسی ہی انرجی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ تو بھائی، پیسے تو کمانے ہیں!

کیونکہ یہ ضرورت بھی ہیں اور اللہ کے دین کا ایک تقاضا بھی کہ مومن کو طاقتور ہونا چاہیے، دینے والا ہونا چاہیے، خرچ کرنے والا ہونا چاہیے۔ امت کی قیادت کے قابل بننے کے لیے یہ ایک بنیادی بات ہے۔ اب اس مشکل سے کیسے نکلیں؟ اس تکلیف کو کیسے حل کریں؟ اسے ہم بہت جلد اپنی ایک ورکشاپمیں ڈسکس کریں گے۔ہمارے ساتھ جڑے رہیں اور دعا گو رہیے!

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عبدالعلام زیدی

عبدالعلام زیدی اسلام آباد میں دینی ادارے the REVIVEL کو لیڈ کر رہے ہیں۔ اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس کے بعد سعودی عرب سے دینی تعلیم حاصل کی۔ زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے اسلامیات اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولہور سے ایم اے عربی کیا۔ سرگودھا یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ سید مودودی انسٹی ٹیوٹ لاہور میں تعلیم کے دوران جامعہ ازھر مصر سے آئے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ دارالحدیث محمدیہ درس نظامی کی تکمیل کی۔ دینی تعلیمات اور انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment