تاریخ کے پرانے رجسٹر میں ایک ایسا صفحہ بھی محفوظ ہے جہاں ریاست نے پہلی بار اپنے خوابوں کا حساب کتاب لکھا تھا۔ وہ ایک ایسی صبح تھی جب نوزائیدہ مملکت کے ہاتھ میں وسائل کم اور ذمہ داریاں زیادہ تھیں، اور فیصلے زیادہ تر امید کے سہارے کیے جا رہے تھے۔ اس صفحے پر درج اعداد و شمار محض مالی حساب نہیں تھے بلکہ ایک اجتماعی سفر کی ابتدائی سمتیں تھیں، جہاں ترجیحات کا تعین بھی ایک طرح کی بقا کی حکمتِ عملی تھی۔
مگر وقت کے ساتھ وہی ابتدائی خاکہ ایک ایسے پیچیدہ جال میں بدل گیا جس میں وعدے بڑھتے گئے اور وسائل سکڑتے گئے۔ آج جب ہم موجودہ مالیاتی منظرنامے کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ بجٹ اب محض آمدن و خرچ کی دستاویز نہیں رہا بلکہ ایک ایسا آئینہ بن چکا ہے جس میں ریاست اپنی ساختی کمزوریوں، ترجیحی تضادات اور سماجی عدم توازن کو چھپانے کے بجائے بے نقاب کر رہی ہے۔ اس آئینے میں سب سے واضح عکس اُس طبقاتی خلیج کا ہے جو ایک طرف فیصلہ ساز ایوانوں کی آسودگی اور دوسری طرف عام آدمی کی مسلسل معاشی بے یقینی کے درمیان پھیل چکی ہے۔ اس معاشی منظرنامے کی سب سے نمایاں تمثیل ایک ایسے شہر کی ہے جہاں ہر سال ایک عظیم دروازہ کھلتا ہے جس پر “بجٹ” لکھا ہوتا ہے۔ اس دروازے کے ایک طرف خوش لباس مشیر، مالیاتی ماہرین اور پالیسی ساز کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ عوام ہوتے ہیں جن کے لیے ہر نیا اعلان کسی نئی آزمائش کی خبر لے کر آتا ہے۔
اس شہر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں محض اعداد نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے زخم بن چکی ہیں، اور ہر ٹیکس ایک نیا بوجھ ہے جو پہلے سے جھکی ہوئی کمر پر رکھ دیا جاتا ہے۔ قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم اس شہر کی وہ خفیہ دیوار ہے جس کے پیچھے مستقبل کا منظر دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ جب آمدن کا بڑا حصہ ماضی کے قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے تو ترقی کے خواب صرف تقریروں اور دستاویزات میں باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں معاشی پالیسی محض تکنیکی فیصلہ نہیں رہتی بلکہ ایک سماجی سوال بن جاتی ہے کہ آخر ترقی کا فائدہ کس کے حصے میں آ رہا ہے اور بوجھ کس کے کندھوں پر منتقل ہو رہا ہے۔
اس شہر کے بیچوں بیچ ایک ایسا بازار بھی ہے جہاں انصاف اور وسائل کی تقسیم کے نرخ روز بدلتے ہیں۔ یہاں ایک طرف مراعات یافتہ طبقہ ہے جس کے لیے سہولتیں ہر سال نئے عنوانات کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں، اور دوسری طرف وہ سرکاری و غیر سرکاری مزدور ہیں جن کے لیے معمولی اضافہ بھی ایک غیر معمولی خبر بن جاتا ہے۔ اس تضاد کی گہرائی میں جھانکیں تو محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف آمدنی یا اخراجات کا نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کی اس ساخت کا ہے جو برسوں سے ایک مخصوص توازن پر قائم ہے۔ جب غربت کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہو، جب دیہی علاقوں میں محرومی زیادہ گہری ہو اور جب شہری و دیہی آمدن کا فرق وسیع تر ہوتا جا رہا ہو تو یہ محض معاشی اشاریے نہیں رہتے بلکہ ایک ایسے سماجی دباؤ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو وقت کے ساتھ اپنی ہیئت بدل کر سیاسی اور اخلاقی سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ دباؤ اگر مسلسل نظر انداز کیا جائے تو وہ خاموش احتجاج کی صورت اختیار کرتا ہے جو سڑکوں پر نہیں بلکہ معاشرتی رویوں اور اجتماعی بے اعتمادی میں ظاہر ہوتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بجٹ صرف ایک مالیاتی منصوبہ ہے یا یہ کسی قوم کے اجتماعی مستقبل کا اخلاقی معاہدہ بھی ہے۔ اگر ریاست اپنے وسائل کو اس طرح ترتیب دیتی ہے کہ قرضوں کا بوجھ بڑھتا جائے، سماجی خدمات دباؤ کا شکار رہیں، اور عام آدمی کی زندگی مسلسل مہنگائی کے گرداب میں پھنسی رہے تو پھر یہ معاہدہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن، سول سوسائٹی اور ادارہ جاتی مکالمہ صرف سیاسی شور نہیں رہتا بلکہ ایک ضروری توازن پیدا کرنے کی کوشش بن جاتا ہے۔ مگر جب مکالمہ کمزور ہو جائے اور فیصلے محدود دائروں میں بند ہو جائیں تو معاشی پالیسیاں بھی ایک ایسے خودکار نظام کی صورت اختیار کر لیتی ہیں جو اصلاح کے بجائے تسلسل کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اعداد و شمار کے پیچھے چھپے انسانی چہروں کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔
اگر معاشی منصوبہ بندی صرف وقتی استحکام کی بجائے طویل المدت سماجی انصاف کو بھی شامل کر لے تو یہی بجٹ ایک بوجھ سے بدل کر ایک موقع بن سکتا ہے، ورنہ یہ دستاویز ہر سال ایک نئے سوال کے ساتھ واپس آتی رہے گی، اور جواب ہمیشہ ادھورا رہے گا۔



تبصرہ لکھیے