ہوم << آزاد کشمیر کا انتخابی معرکہ،حقوق کی سیاست اورنئی بساط – سلمان احمد قریشی
600x314

آزاد کشمیر کا انتخابی معرکہ،حقوق کی سیاست اورنئی بساط – سلمان احمد قریشی

آزاد جموں و کشمیر ایک مرتبہ پھر انتخابی سیاست کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ انتخابات صرف حکومت کی تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ اس خطے کے سیاسی مستقبل، وفاق پاکستان کے ساتھ تعلقات، عوامی توقعات، ریاستی اداروں کے کردار اور سیاسی جماعتوں کے بیانیوں کا بھی امتحان ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں آزاد کشمیر نے سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی، معاشی بحران، عوامی احتجاج اور نئی سیاسی صف بندیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔

یہی عوامل اس انتخاب کو معمول کے انتخاب سے کہیں زیادہ اہم بنا رہے ہیں۔اس بار انتخابی ماحول کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عوام کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ ماضی میں ترقیاتی منصوبے انتخابی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھیں مگر اب مہنگائی، بجلی، آٹے، روزگار، صحت، تعلیم اور بنیادی شہری حقوق عوامی بحث کا مرکز بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے روایتی بیانیے پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔گزشتہ برس عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے آزاد کشمیر کی سیاست کا رخ بدل دیا۔ بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمت، سبسڈی، وسائل پر مقامی حق اور معاشی انصاف جیسے مطالبات نے ہزاروں افراد کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔ بالآخر وفاقی حکومت کو مذاکرات کرنا پڑے اور کئی مطالبات تسلیم کیے گئے۔ اس تحریک نے ثابت کیا کہ آزاد کشمیر کا ووٹر اب محض نعروں سے مطمئن نہیں بلکہ اپنے روزمرہ مسائل کا عملی حل چاہتا ہے۔

اسی تحریک کے دوران حکومتی حلقوں کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے، اسے بھارتی سازش سے جوڑنے اور احتجاج میں تشدد کے عنصر کو نمایاں کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ اگرچہ کسی بھی احتجاج میں قانون شکنی یا تشدد کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایکشن کمیٹی کے بنیادی مطالبات عوامی نوعیت کے تھے۔ان مطا لبات کے ساتھ تشدد نے معاملہ خراب کیا۔بھارتی ہاتھ اورمنفی سوچ نے سیاست کو تشدد سے بدلنے کی کوشش کی۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا۔ بلاول کا مؤقف پیپلز پارٹی کو عوامی حقوق کے بیانیے کے قریب لے آیاجبکہ حکومتی مؤقف تنقید کی زد میں رہا۔موجودہ حالات میں سیاسی فیصلے ضروری ہیں۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی یہ حقیقت سامنے آئی کہ موٹرویز، ایئرپورٹس اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کا بیانیہ وہاں مؤثر ثابت نہیں ہو سکاکیونکہ عوام کے سامنے اصل مسائل آئینی حقوق، بجلی، روزگار، صحت اور بنیادی سہولیات تھے۔ آزاد کشمیر کی صورت حال بھی بڑی حد تک اسی سے ملتی جلتی ہے۔ محض بڑے ترقیاتی منصوبوں کا تذکرہ عوامی ترجیحات سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔دوسری طرف پیپلز پارٹی گزشتہ ایک دہائی کے بعد آزاد کشمیر میں دوبارہ ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی نے اپنی تنظیمی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کی ہے، مختلف علاقوں میں رابطہ مہم جاری ہے اور امیدواروں کے انتخاب میں عوامی مقبولیت، انتخابی صلاحیت اور پارٹی وابستگی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اگرچہ ہر جماعت کی طرح ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات موجود ہیں، تاہم مجموعی طور پر پارٹی نسبتاً منظم دکھائی دیتی ہے۔سابق وزیراعظم تنویر الیاس کے حوالے سے بھی مختلف سیاسی قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ بعض حلقوں میں اسے ٹکٹوں کا تنازع قرار دیا جا رہا ہے، لیکن سیاسی حلقوں کے مطابق اصل معاملہ ٹکٹ نہیں بلکہ اقتدار کے حوالے سے پیشگی یقین دہانی کا ہے۔

اطلاعات یہ ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی اکثریت حاصل کرے تو انہیں وزیراعظم یا صدر منتخب کرانے کی پہلے سے ضمانت دی جائے۔ لیکن پیپلز پارٹی کی تاریخ اس قسم کی مشروط سیاست کی مثال پیش نہیں کرتی۔سیاسی مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ تنویر الیاس کے ساتھ اب بھی بعض بااثر حلقوں کے روابط موجود ہیں جو انہیں پیپلز پارٹی سے فاصلے پر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث ضرور موجود ہے کہ کچھ قوتیں انتخابی سیاست میں پیپلز پارٹی کے ممکنہ فائدے کو محدود کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مہاجرین کی نشستیں ہمیشہ حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اس مرتبہ بھی یہ نشستیں سیاسی جماعتوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی بھی آزاد کشمیر کی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگرچہ فی الحال اس جماعت کی عوامی جڑیں اتنی مضبوط دکھائی نہیں دیتیں، تاہم چند حلقوں میں اس کی موجودگی روایتی ووٹ بینک کو تقسیم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ایسے انتخابی حلقے جہاں مقابلہ انتہائی سخت ہو، وہاں چند سوو ووٹ بھی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی لیے اگرچہ استحکام پاکستان پارٹی حکومت سازی کی مرکزی دعوے دار نہ بھی بن سکے، تب بھی وہ بعض نشستوں پر ”کنگ میکر” کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی بحث بھی آزاد کشمیر کے انتخابی ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ عوام کی خواہش ہے کہ اس مرتبہ انتخابی عمل مکمل شفاف، غیر جانبدار اور بروقت نتائج کے ساتھ مکمل ہو تاکہ کسی قسم کے شکوک و شبہات جنم نہ لیں۔ آزاد کشمیر کے ووٹر کی سب سے بڑی توقع یہی ہے کہ اس کا مینڈیٹ بغیر کسی تنازع کے تسلیم کیا جائے۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں مقتدرہ کے کردار پر بھی ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتیں ریاستی اداروں پر اثرانداز ہونے یا ہونے نہ دینے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ تاہم ایک مضبوط جمہوری نظام کا تقاضا یہی ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے انتخابی عمل کو مکمل طور پر آزاد، منصفانہ اور شفاف بنائیں، تاکہ جو بھی حکومت وجود میں آئے وہ عوامی اعتماد کی حقیقی نمائندہ ہو۔ موجودہ سیاسی منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کون سی جماعت واضح اکثریت حاصل کرے گی، لیکن اتنا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی نسبتاً بہتر انتخابی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران آزاد کشمیر میں سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی بار بار تبدیلی، معاشی دباؤ اور انتظامی کمزوریوں نے عوام میں مایوسی پیدا کی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی جماعت واضح عوامی مینڈیٹ حاصل کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سیاسی استحکام پیدا ہوگا بلکہ پالیسیوں کے تسلسل اور بہتر طرز حکمرانی کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

عوام اب صرف سیاسی نعروں سے مطمئن نہیں بلکہ وہ روزگار، سستی بجلی، معیاری صحت، بہتر تعلیم اور مؤثر گورننس چاہتے ہیں۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ آزاد کشمیر کا ووٹر ماضی کے مقابلے میں زیادہ باشعور اور اپنے سیاسی فیصلے میں زیادہ خودمختار ہے۔ وہ ترقی کے دعووں سے زیادہ اپنے بنیادی حقوق، معاشی ریلیف اور اچھی حکمرانی کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہی تبدیلی اس انتخاب کو ماضی کے انتخابات سے مختلف بناتی ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے یہ انتخابات صرف نشستوں کی تقسیم کا معرکہ نہیں بلکہ اس بات کا بھی فیصلہ کریں گے کہ آیا خطہ مزید سیاسی عدم استحکام کی طرف جاتا ہے یا ایک مضبوط جمہوری راستہ اختیار کرتا ہے۔ اگر انتخابی عمل شفاف، غیر جانبدار اور عوامی اعتماد کے مطابق مکمل ہوا تو نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کے مجموعی جمہوری نظام کو بھی تقویت ملے گی۔ تاہم اگر عوامی رائے کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات صرف حکومت سازی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

آزاد کشمیر کے عوام اس وقت نعروں سے زیادہ نتائج چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب میں کامیابی صرف اسی جماعت کا مقدر بن سکتی ہے جو عوامی مسائل کو سمجھنے، ان کا قابلِ عمل حل پیش کرنے اور جمہوری اقدار کا احترام کرنے میں کامیاب ہوگی۔ آنے والے دن ثابت کریں گے کہ عوام کس بیانیے کو قبول کرتے ہیں مگر ایک بات طے ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں فیصلے صرف اقتدار کا نہیں بلکہ خطے کے سیاسی مستقبل کا تعین بھی کریں گے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment