روزانہ درجنوں لوگ ایک ہی سوال لے کر آتے ہیں کہ
” استاد! میرے حالات ٹھیک نہیں چل رہے، کام خراب ہوتا جارہا ہے ، کوئی مشورہ دیجیے، کوئی وظیفہ بتا دیجیے، یا کوئی تعویذ دے دیجیے۔”
میں عموماً انہیں ایک ہی بات کہتا ہوں. اپنی زندگی، اپنے کاروبار، اپنی نوکری، اپنے علم اور اپنے سفر کو ایسے خود قسمت لوگوں سے جوڑ دیجیے جو محنتی، دیانت دار، باصلاحیت اور کامیاب ہوں۔ انسان جس ماحول میں رہتا ہے، رفتہ رفتہ اسی کی سوچ، عادتوں اور طرزِ زندگی کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اگر آپ خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں یا بدقسمتی کی جنی آپ کے پیچھے پڑی ہے، اور جان نہیں چھوڑتی، تو مایوس ہونے کے بجائے اپنی فیلڈ کے ان لوگوں کو تلاش کریں جن پر اللہ نے کامیابی کے دروازے کھولے ہیں۔ اور قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہے، ان کی صحبت اختیار کریں،ان کے ساتھ شراکت کیجیے، ان سے سیکھیں، ان کے ساتھ کام کریں، ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ اکثر اوقات قسمت بدلنے کا راستہ کسی تعویذ سے نہیں بلکہ درست رفاقت، مسلسل محنت اور صحیح رہنمائی اور قسمت سے کھلتا ہے۔
حدیث نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا ایک معروف مقولہ ہے:
“الرجل على دينِ خليله”
یعنی “انسان اپنے قریبی دوست کے طریقے اور مزاج پر چل پڑتا ہے۔”
مطلب آپ خوش قسمت دوست ڈھونڈ لیں گے تو پھر آپ کا راستہ بھی انہی کے ساتھ چل نکلے گا۔ اسی حقیقت کو فارسی کے ایک مشہور مقولے میں یوں بیان کیا گیا ہے:
صحبتِ صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند
یعنی نیک لوگوں کی صحبت انسان کو نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور برے لوگوں کی صحبت برائی کی طرف۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض خواتین و حضرات اس مشورے پر مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ انہیں کوئی تعویذ ہی دے دیا جائے۔ تب میں مسکرا کر ایک تعویذ لکھ دیتا ہوں، اور وہ مطمئن ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔ بہتوں پر کھڑے کھڑے دم پڑھ لیتا۔ میرا یقین یہ ہے کہ زندگی کی سب سے مؤثر “تعویذ” نیک صحبت، صحیح سوچ، مسلسل محنت، اللہ پر توکل اور مثبت طرزِ عمل ہے۔ جب یہ پانچ چیزیں انسان کی زندگی میں جمع ہو جائیں تو حالات بدلنے لگتے ہیں، اور قسمت بھی گویا نئے دروازے کھول دیتی ہے۔ ذرا غور کیجئے، کیا کہہ رہا ہوں۔ کاش کہ غور کرنے سے ہی کچھ سمجھ آجائے!



تبصرہ لکھیے