آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ نئی نسل ہماری مشرقی اقدار، ثقافت اور تہذیبی ورثے سے باغی ہو رہی ہے۔ شہری پس منظر رکھنے والی بچیوں، لڑکیوں اور خواتین کا رویہ مشرقی روایات، تہذیب و کلچر سے متصادم بلکہ بغاوت کی حد تک جا چکا ہے۔ مزید یہ کہ دیہی خواتین میں بھی یہ مرض پنپ رہا ہے، اور بڑی تیزی کے ساتھ۔ کبھی آپ نے اس کے اسباب، دواعی اور عوامل پر غور کیا؟
بھلا آپ کی بلا سے!
آپ کو کیا ضرورت ہے!
آپ نے تو ہولڈ قائم رکھنا ہے، اور اس میں جس حد تک جا سکتے ہیں آپ نے دریغ نہیں کرنا۔ لیکن خدارا! اس پر سنجیدگی سے سوچیں؛ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب روایات و اقدار تو کیا، خاندانی ڈھانچہ ہی بکھر کر رہ جائے گا۔ خاندانی بزرگوں کا یہ کہنا بجا ہے کہ مغربی میڈیا کے حیاسوز مناظر، ثقافتی یلغار، حیاباختہ بود و باش، مخلوط اور اقدار شکن نظامِ تعلیم، سوشل میڈیا کا بے جا، آزادانہ اور بلاحدود استعمال سب تسلیم، یہ واقعی بگاڑ کے اسباب ہیں۔
تاہم بزرگوں کی خلافِ فطرت سختی، بے جا پابندیاں اور شریعت کی دی ہوئی آزادی پر قدغنیں وغیرہ ردّعمل کو جنم دیتی ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ایک ناسور کی طرح ہماری اقدار کو لے ڈوب رہے ہیں۔ اور اگر آپ اسے مبالغہ نہ سمجھیں تو میں ان خلافِ فطرت سماجی قوانین اور رویوں کو بگاڑ کا مرکزی سبب سمجھتا ہوں۔



تبصرہ لکھیے