غزہ میں انسانیت پر قیامت بیت گئی، لیکن ہمارا ادیب اور شاعر اس سے بالعموم لاتعلق سا رہا۔ کوئی نظم لکھی گئی، نہ کوئی نوحہ بلند ہوا؛ کوئی افسانہ لکھا جا سکا، نہ کوئی کہانی۔ دیوارِ دل سے یہ سوال آ لگا کہ ہمارے شاعر اور ادیب کہاں ہیں؟ وہ اپنے عہد کے اتنے بڑے المیے سے اس حد تک لاتعلق کیوں ہیں؟ کیا ادب اپنے گرد و پیش سے اس حد تک لاتعلق ہو سکتا ہے؟
یہ الفاظ جناب آصف محمود کے ہیں، جو انھوں نے فلسطین پر اپنی کہانیوں کے مجموعے کے مقدمے میں لکھے ہیں۔ آصف محمود قانون دان بھی ہیں اور انگریزی ادب میں ایم اے بھی کیا ہے۔ وکالت بھی کرتے ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ نجی ٹی وی پر ٹاک شو کے میزبان بھی ہیں۔ اردو اور انگریزی میں باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی تعلقات، سیاست اور سماج پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ کشمیر اور فلسطین پر بین الاقوامی قانون کے تناظر میں ان کی تحقیقی کتابیں خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔ آپ ایک صاحبِ طرز نثر نگار ہیں۔ عام فہم اسلوب میں بہت مؤثر اور بلیغ نثر لکھتے ہیں۔
شعر و ادب سے خصوصی شغف کی وجہ سے آپ کے کالموں اور تحقیقی کتابوں میں بھی ادبی چاشنی ہوتی ہے۔ غزہ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی پر پاکستان میں جن چند لوگوں نے مسلسل اور نہایت مؤثر انداز میں لکھا، ان میں آپ کا نام سرِ فہرست ہے۔ فلسطین پر اپنی تحقیقی کتاب میں آپ نے قانونی سوالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بہت سی ایسی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے جو پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ہاں “پڑھے کم، لکھے زیادہ” لوگوں کی وجہ سے رائج ہو گئی ہیں۔ مثلاً یہ بات کہ فلسطینیوں نے تو اپنی زمینیں بیچ دی تھیں، پھر اب وہ فریاد کیوں کر رہے ہیں؟
یا یہ بات کہ یہودی ریاست کا قیام تو بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق عمل میں لایا گیا ہے، پھر اس کی مخالفت کیوں کی جائے؟
ماضی میں ہمارے شاعروں اور ادیبوں نے فلسطین کے المیے کو شعر و ادب میں یوں بیان کیا کہ وہ اب ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکا ہے۔ اللہ بخشے، استادِ محترم ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے فلسطین کے موضوع پر موقر علمی رسالے “اسلامک اسٹڈیز” کا خصوصی شمارہ شائع کیا تو اس میں دنیا بھر سے مایہ ناز محققین کے تحقیقی مقالات بھی شامل کیے اور شعر و ادب کے شہ پارے بھی۔ یوں وہ شمارہ ایک ایسی اہم دستاویز بن گیا کہ کوئی مکتبہ اس کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
تحقیقی کتاب کا اپنا مقام اور اپنی اہمیت ہے، لیکن “پاپولر فکشن” کی اہمیت کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں “جاسوسی ادب” میں بھی فلسطین کو باقاعدہ موضوع بنایا گیا۔ ابنِ صفی نے ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں “بزدل سورما”، “دستِ قضا” اور “ایش ٹرے ہاؤس” جیسے ناول، اور بعد میں ان کے ساتھ چھ دیگر ناولوں کا سلسلہ لکھ کر صہیونیت کا پردہ چاک کیا۔ ڈائجسٹ پڑھنے والوں میں اسی کی دہائی میں علی یار خان کی کہانی “مجاہد” بہت مقبول تھی۔ بائیں بازو کے مقبول شعرا نے فلسطین اور فلسطینی مجاہدین کی قربانیوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ تاہم غزہ میں نسل کشی پر ہمارے ادبی حلقوں میں عموماً ہو کا عالم طاری رہا۔
آصف محمود بجا کہتے ہیں:
“ہم پہلے دن سے تو یوں نامراد نہیں تھے۔ یہ سکوتِ مرگ نیا نیا سا تھا۔ مشرقی یروشلم پر جب اسرائیل نے قبضہ کیا تو ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے اس غم کو مجسم کر دیا تھا۔ آج ننھے بچوں پر قیامت ٹوٹی تو سب لاتعلق کیوں ہو گئے؟”
ٹھہرے پانیوں میں پتھر پھینکنے کے لیے آصف محمود نے خود ہی فلسطین کا المیہ کہانیوں کی صورت میں لکھنے کی طرف توجہ کی اور 17 کہانیوں کا مجموعہ “فلسطین: کچھ بھولی بسری، اَن کہی کہانیاں” کے عنوان سے لکھ ڈالا۔ کتاب روایت پبلشرز، اسلام آباد نے شائع کی ہے۔ یہ کہانیاں سچی ہیں۔
ویسے بھی فلسطین میں جو المیہ ایک صدی سے مسلسل جنم لے رہا ہے، اسے بیان کرنے کے لیے کہانیاں “گھڑنے” کی ضرورت ہی کہاں ہے؟ وہ سچ ہی اتنا تکلیف دہ ہے کہ بہت سے مقامات پر پورا سچ بیان بھی نہیں ہو پاتا۔
ایک کہانی “یہ قاتل ہے” کا اختتام دیکھیے:
“وفد میں شامل ایک امریکی خاتون کو دیکھ کر ایک تیرہ سالہ بچی دہشت زدہ ہو کر اپنی کرسی سے اٹھی، بھاگی اور ہند الحسینی سے لپٹ گئی۔ اس نے امریکی خاتون کی طرف اشارہ کیا اور چلائی: ‘قاتل، قاتل، یہ قاتل ہے۔’ خوف اتنا شدید تھا کہ بچی بے ہوش ہو کر گری اور اس نے وہیں ہند الحسینی کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔ معصوم لاشہ وہ ساری کہانیاں بیان کر گیا جو اب تک اَن کہی تھیں۔”
ان 17 کہانیوں میں فلسطین کے المیے کی تاریخ بھی ہے۔ عثمانی خلافت کے خلاف کیسے بغاوت ہوئی؟ انگریزوں پر اعتماد کرنے والے کس خوش فہمی میں مبتلا تھے؟ ترکوں کے خلاف انگریزوں کے لیے ہندوستان سے لڑنے والوں کا کیا حال ہوا؟ انگریزوں کے “انتداب” کے دور میں کیا کچھ ہوا؟ زمینیں کیسے غصب کی گئیں؟ لوگ کیسے گھروں سے بے دخل کیے گئے؟ کیسے کیسے مظالم ڈھائے گئے؟ لیکن مورچوں پر جمے رہنے والے کیوں جمے ہوئے ہیں، اور کیوں مورچہ چھوڑنے پر قائل نہیں ہوتے؟
ہر سوال اس انسانی المیے کا ایک الگ پہلو واضح کرتا ہے۔ آصف محمود کے تو کالموں میں بھی ادبی رنگ ہوتا ہے، مگر ان کہانیوں میں وہ رنگ پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہے۔
ذرا ان جملوں کی کاٹ دیکھیے:
بیوی: “دیکھو، ناصر! جان بچانا تو فرض ہے۔”
ناصر الدین: “جان دینا بھی تو فرض بن جاتا ہے۔”
بیوی: “ہجرت کر جاتے ہیں۔”
ناصر الدین: “ہجرت گھروں سے ہوتی ہے، مورچوں سے ہجرت نہیں ہوتی۔”
ایک بہت ہی خوب صورت کہانی “ڈیوڈ” کے عنوان سے ہے، جس میں بین الاقوامی قانون کے ایک پروفیسر یروشلم میں خصوصی خطبہ دینے کے لیے آتے ہیں اور خطبے کا عنوان ہوتا ہے: “بین الاقوامی قانون میں اقتدارِ اعلیٰ اور جائیداد”۔
کہانی میں ایک اسرائیلی یہودی طالب علم، ڈیوڈ، ایک عرب طالب علم ہشام پر چوٹ کرتے ہوئے پروفیسر سے پوچھتا ہے:
“کیا زمینیں بیچ دینے کے بعد ان پر ملکیت کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے؟”
ہشام جواب دیتا ہے:
“ہم نے زمینیں بیچی نہیں ہیں، تم یہاں غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہو۔ یہاں عربوں کا قتلِ عام ہوا اور پھر ان کی زمینیں چھینی گئیں۔”
ایک دن ڈیوڈ ایک “پاکستانی سیاست دان” کی خودنوشت سے چند اقتباسات کا عربی ترجمہ کر کے لاتا ہے، جن میں خودنوشت بیان کرنے والا کہتا ہے کہ اس نے خود دیکھا کہ عرب زمینیں بیچ کر صبح سے شام تک قہوہ خانوں میں مزے کرتے ہیں، جبکہ یہودی دن بھر محنت کرتے ہیں۔
اس پر ہشام کہتا ہے:
“فلسطین کا مقدمہ کسی چند روزہ سیاح کے مشاہدات کا محتاج نہیں ہے۔ سیاحوں کے ادھورے اور جھوٹے مشاہدات پر صدیوں کے حقائق قربان نہیں کیے جا سکتے۔”
کہانی آگے مزید دلچسپ ہو جاتی ہے، جب ہشام اقوامِ متحدہ کی دستاویزات پیش کرتا ہے، جن کے مطابق 1947ء میں بھی فلسطین کی 94 فیصد زمین عربوں کے پاس تھی۔ کہانی کا اختتام قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔



تبصرہ لکھیے