روہی کی تپتی دھوپ میں پیدل مارچ، مسائل کے حل کے لیے سیاسی جدوجہد کا ایک نیا باب
ضلع بہاولنگر کی سیاست میں عوامی مسائل کے حوالے سے ایک نئی آواز اُس وقت نمایاں ہوئی جب ارسلان خان خاکوانی کی قیادت میں “حق دو ضلع بہاولنگر کو” کے عنوان سے ایک طویل پیدل مارچ کا آغاز کیا گیا۔ یہ مارچ صرف ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ محرومیوں، بنیادی سہولیات کی کمی اور عوامی حقوق کے حصول کے لیے ایک عوامی رابطہ مہم کے طور پر سامنے آیا۔
روہی کے سخت موسم، تیز دھوپ اور گرمی کی شدت کے باوجود کارکنان اور شہریوں نے اس سفر میں شرکت کی۔ یہ پیدل مارچ ضلع بہاولنگر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات سے گزرتا ہوا اختتام پذیر ہوا، جہاں عوام نے اپنے مسائل، مشکلات اور مطالبات کو اجاگر کیا۔
بہاولنگر کے مسائل اور عوامی آواز
ضلع بہاولنگر جنوبی پنجاب کا ایک اہم زرعی خطہ ہے، مگر یہاں کے عوام طویل عرصے سے متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ زراعت، روزگار، صحت، تعلیم، صاف پانی، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی بہتری جیسے معاملات عوامی گفتگو کا اہم حصہ رہے ہیں۔ ارسلان خان خاکوانی نے اپنی سیاسی جدوجہد میں انہی مسائل کو مرکزی حیثیت دی اور موقف اختیار کیا کہ بہاولنگر کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق عوام کو صرف وعدوں نہیں بلکہ بنیادی سہولیات، معاشی آسانیوں اور باعزت زندگی کے مواقع کی ضرورت ہے۔
ارسلان خان خاکوانی کی سیاسی حکمت عملی
ارسلان خان خاکوانی کا سیاسی انداز عوامی رابطے اور زمینی مسائل کو اجاگر کرنے پر مبنی ہے۔ انہوں نے جلسوں، احتجاجی سرگرمیوں اور عوامی رابطہ مہمات کے ذریعے ضلع کے مسائل کو حکام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ “حق دو بہاولنگر تحریک” اسی سوچ کا اظہار ہے جس کا مقصد مقامی مسائل کو ایک منظم عوامی آواز میں تبدیل کرنا ہے۔ پیدل مارچ کے ذریعے انہوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ عوامی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ترقی کے ثمرات ہر علاقے تک پہنچنے چاہئیں۔
مہنگائی اور پٹرولیم قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی کا مؤقف
اس تحریک کے دوران جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی عوامی مسائل پر آواز بلند کی۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ بہاولنگر میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو ملک گیر احتجاجی تحریک کو مزید منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے نوجوانوں سمیت عوام سے احتجاجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی۔
جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی آواز
جنوبی پنجاب کی سیاست ہمیشہ سے محرومیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی مسائل کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایسے ماحول میں مقامی سطح پر عوامی مسائل کو سیاسی ایجنڈا بنانا اہم سمجھا جاتا ہے۔ ارسلان خان خاکوانی کی جدوجہد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی قیادت اگر عوام کے مسائل کو ترجیح دے تو وہ سیاسی گفتگو کا رخ تبدیل کر سکتی ہے۔ ان کا پیدل مارچ ایک علامتی پیغام بھی تھا کہ عوامی حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد اور رابطہ ضروری ہے۔ “حق دو ضلع بہاولنگر کو” پیدل مارچ صرف ایک سفر نہیں بلکہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش تھی۔ ارسلان خان خاکوانی نے سخت موسم اور طویل راستوں کے باوجود عوامی رابطے کو ترجیح دی اور ضلع کے مسائل کو نمایاں کیا۔ آنے والا وقت یہ طے کرے گا کہ یہ تحریک بہاولنگر کی سیاست میں کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ عوامی مسائل کو مرکز میں رکھنے والی سیاست جنوبی پنجاب کے سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔



تبصرہ لکھیے