ہوم << یومِ عاشوراء، حرمت والے مہینے اور دینِ حق کے لیے قربانی کا جذبہ – محمد عدنان
600x314

یومِ عاشوراء، حرمت والے مہینے اور دینِ حق کے لیے قربانی کا جذبہ – محمد عدنان

ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
موضوع: یومِ عاشوراء، حرمت والے مہینے اور دینِ حق کے لیے قربانی کا جذبہ

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
معزز حاضرینِ کرام
آج دس محرم الحرام، یومِ عاشوراء ہے۔ اسلامی تاریخ میں یہ دن غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، انعامات، نصرتوں اور قربانیوں کی یاد تازہ کرنے والا عظیم دن ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک، اور پھر صحابۂ کرام و صالحین کی تاریخ میں اس دن کی عظمت نمایاں نظر آتی ہے۔ قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں میں اس دن کی اہمیت برقرار رہے گی۔

یومِ عاشوراء اور انبیاء کرام علیہم السلام
علمائے تفسیر و تاریخ نے بیان کیا ہے کہ یومِ عاشوراء سے بہت سے عظیم واقعات وابستہ ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کی قبولیت کا تعلق بھی اسی دن سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد جودی پہاڑ پر آ کر ٹھہری۔ تفسیر ابن کثیر میں اس واقعہ کو تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرمائی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو عاشوراء کا روزہ رکھتے دیکھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات عطا فرمائی تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابۂ کرام کو بھی اس کی ترغیب دی۔

اسلامی کیلنڈر کی عظمت
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے کہ مسلمانوں کو ایک مستقل اور محفوظ اسلامی تقویم عطا کی گئی۔ دنیا کے بہت سے کیلنڈر وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہے۔ لیکن اسلامی سال اور اس کے مہینے ابتدا ہی سے اپنی اصل صورت میں چلے آ رہے ہیں. عبادات، حج، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر دینی احکام اسی اسلامی تقویم سے وابستہ ہیں۔

قرآن کریم میں حرمت والے مہینوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، لہٰذا ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ (سورۃ التوبہ: 36)

یہ چار حرمت والے مہینے ہیں:
ذوالقعدہ
ذوالحجہ
محرم الحرام
رجب

اسلام سے پہلے بھی عرب ان مہینوں کی حرمت کا احترام کرتے تھے۔ ان مہینوں میں جنگ و جدال، خونریزی اور ظلم و زیادتی سے بچا جاتا تھا۔ اسلام نے اس احترام کو مزید مضبوط کیا اور واضح فرمایا کہ ان مہینوں میں ہر قسم کے گناہ، ظلم اور نافرمانی سے خصوصی اجتناب کیا جائے۔ اگرچہ چاروں مہینے عظمت و حرمت رکھتے ہیں۔ لیکن محرم الحرام کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شہر اللہ المحرم یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا۔

عاشوراء کے روزے کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے روزے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کے روزے رکھنے کی ترغیب دی تاکہ مسلمانوں کا طریقہ دوسروں سے ممتاز رہے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی
یومِ عاشوراء کی سب سے دردناک اور ایمان افروز یاد کربلا کی وہ عظیم قربانی ہے جس میں نواسۂ رسول، سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے ساتھیوں کی قربانی پیش کی۔کربلا کا پیغام صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک دائمی معرکہ ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے امت کو یہ سبق دیا کہ جب دین، حق اور انصاف کا معاملہ ہو تو مسلمان اپنے ذاتی مفادات، آرام اور دنیاوی خواہشات کو قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ان کی قربانی رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کو یہ پیغام دیتی رہے گی کہ عزت، وقار اور سربلندی حق کے ساتھ وابستگی میں ہے نہ کہ باطل کے سامنے جھک جانے میں۔

تجدیدِ عہد کی ضرورت
یومِ عاشوراء ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کا جائزہ لیں اور اپنے رب سے یہ عہد کریں کہ ہم حق کا ساتھ دیں گے۔ ظلم اور باطل کی حمایت سے بچیں گے۔ دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں گے۔ اپنے کردار، اخلاق اور معاملات کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں گے۔ دین کی سربلندی کے لیے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو وقف کریں گے۔ آج امتِ مسلمہ کو اسی حسینی جذبے کی ضرورت ہے ایسا جذبہ جو حق پر استقامت، قربانی اور ثابت قدمی کا درس دیتا ہے۔

دعا
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں محرم الحرام اور یومِ عاشوراء کی برکتوں سے مالامال فرمائے۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔ ہمیں دینِ حق پر ثابت قدم رکھے۔ ہمارے ملک پاکستان کو حقیقی اسلامی تعلیمات کا گہوارہ بنائے۔ ہمارے معاشرے میں عدل، امن اور شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کی راہیں آسان فرمائے۔یا اللہ! سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ہمیں بھی دین کی خاطر قربانی دینے، حق بات کہنے اور باطل کا مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے سامعین کے لیے باعثِ ہدایت و نصیحت بنائے۔ آمین۔