ہوم << غامدی صاحب اور بینک اکاؤنٹ پر سود کا جواز – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
600x314

غامدی صاحب اور بینک اکاؤنٹ پر سود کا جواز – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

جب کوئی شخص بینک میں اکاؤنٹ کھول کر اس میں کچھ رقم رجمع کراتا ہے، تو بینک عموماً اسے deposit کا نام دیتے ہیں، جس کا اردو میں ترجمہ ’امانت‘ کیا جاتا ہے۔

تاہم اسلامی قانون کی رو سے امانت کا تصور اس سے مختلف ہے کیونکہ جب کوئی چیز کسی کے پاس بطورِ امانت رکھی جاتی ہے، تو اسلامی قانون کا اصول یہ ہے کہ اس چیز کے مالک کی اجازت کے بغیر اس چیز کو استعمال نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے؛ نیز جب مالک نے مطالبہ کیا، تو وہ چیز اسے لوٹانا لازم ہوگا؛ اور مزید یہ لازم ہوگا کہ وہ چیز بعینہ واپس لوٹائی جائے، نہ کہ اس کی جگہ کچھ اور۔ دوسری طرف بینک خود کو اس کا پابند نہیں سمجھتے کہ اکاؤنٹ میں رقم رکھنے والے کو بعینہ وہ رقم واپس لوٹائے، بلکہ وہ اس کا ’مثل‘لوٹانے کا وعدہ کرتے ہیں؛ نیز بعض صورتوں میں رقم رکھنے والا یا تو اپنی مرضی سے رقم نکلوا نہیں سکتا، یا نکلواتا ہے، تو اسے کچھ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

ان اصولوں کی روشنی میں ’سیف ‘ میں رکھی جانے والی اشیاء (زیورات وغیرہ) پر تو امانت کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے، لیکن اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقم کو امانت نہیں کہا جاسکتا۔ اسلامی معاشیات کے ماہرین نے عموماً یہ رائے قائم کی ہے کہ اکاؤنٹ کھولنے والا فرد بینک نامی شخص کو قرض دیتا ہے۔ (واضح رہے کہ بینک کو قانون ایک ’شخص‘ مانتا ہے۔) البتہ اسلامی بینک بعض اوقات اکاؤنٹ کھولنے والے کے ساتھ کوئی اور عقد، جیسے مشارکہ، بھی کرلیتے ہیں، اور اس صورت میں اکاؤنٹ کھولنے والا اور بینک آپس میں شریک ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اسلامی بینک مضاربہ کا عقد بھی کرتے ہیں، اور عموماً ایسی صورت میں اکاؤنٹ کھولنے والے کو ’رب المال‘ اور بینک کو ’مضارب‘ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
(یہ معاملہ بھی بہت دلچسپ ہے، لیکن اس پر بحث کسی اور موقع پر کریں گے۔)

چند دن قبل غامدی صاحب کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا بینک اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقم پر اضافہ/سود وصول کیا جاسکتا ہے؟
غامدی صاحب کے جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ بینک اکاؤنٹ پر ’’افراطِ زر‘‘ کی مناسبت سے اضافہ وصول کیا جاسکتا ہے۔ اس جواب میں کئی سنگین مسائل ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غامدی صاحب ایک جانب یہ مانتے ہیں کہ اسلامی اصولوں کی رو سے قرض’’تبرع‘‘ (یعنی اللہ کی رضا کے لیے ثواب کی نیت سے کیا گیا کام) ہے، ساتھ ہی وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ بینک اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقم قرض ہے، لیکن دوسری جانب یہ بھی کہتے ہیں کہ کہ بینک کو دیا جانے والا یہ قرض تبرع نہیں ہے!

سوال یہ ہے کہ اگر یہ قرض ہے، تو پھر یہ تبرع کیوں نہیں ہے؟
اور اگر یہ تبرع نہیں ہے، تو پھر جائز کیسے ہے کیونکہ قرض تو صرف اسی صورت میں جائز ہوتا ہے جب وہ بطورِ تبرع دیا جائے۔ کیا یہاں وہ ’’دَین‘‘ کو قرض سمجھ بیٹھے ہیں؟
اس پر سوال ہوگا کہ یہ کس قسم کا دَین ہے اور اس دَین پر اضافہ کیسے جائز ہوا؟

اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اکاؤنٹ ہولڈر نے ایک خاص مقدار کی ’’مالیت‘‘ دی ہے اور اسی مقدار کی مالیت واپس لینا اس کا حق ہے، تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ اس نے مالیت نہیں، بلکہ مالیت کی نشان دہی کرنے والے ’’اعداد‘‘ دیے ہیں، اور جواب میں اتنے ہی ’’اعداد‘‘ لوٹانا لازم ہے۔ پھر اگر مان بھی لیا جائے کہ اعداد نہیں بلکہ مالیت دی گئی ہے، تو غامدی صاحب بھی یہ تو مانتے ہیں کہ مالیت سے زیادہ کی ادائیگی کا مطالبہ ناجائز ہے اور سود ہے۔ پس سوال یہ ہوا کہ جب آپ ’’افراطِ زر‘‘ کی مناسبت سے اضافے کو جائز قرار دیتے ہیں، تو کیا ’’افراطِ زر‘‘ ماپنے کا معیار یقینی ہے یا تخمینی؟

اگر تخمینی ہے، اور علم معاشیات سے ادنی مناسبت رکھنے والا شخص بھی یہی کہے گا، تو پھر کیا یہ امکان نہیں ہے کہ افراطِ زر کی مناسبت سے اضافہ اصل مالیت سے زیادہ ہوجائے؟ اس امکان کے ہوتے ہوئے کیا اس سے اجتناب لازم نہیں ہے؟

شرعاً تو اس معاملے سے بھی بچنا لازم ہے جس میں ربا کا احتمال ہو۔ فقہائے کرام کی ذکر کردہ یہ مثال اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ اگر ایک تلوار کو، جس کے دستے پر سونے کی ملمع کاری کی گئی ہو، ’’دینار‘‘ یعنی سونے کے سکے کے ذریعے خریدا جائے، تو جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ تلوار پر سونے کی مقدار کتنی ہے اور وہ مقدار سونے کے سکوں سے کم ہے، تو یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا کیونکہ باقی ساری صورتوں میں یا تو سونے کے سکوں پر اضافہ ہوتا ہے یا اس اضافے کا احتمال ہوتا ہے۔ نیز غامدی صاحب نے اس طرف بھی توجہ نہیں دی کہ بینک اکاؤنٹپر دیا جانے والا اضافہ افراطِ زر کی شرح کے مطابق نہیں ہوتا۔

اس پر صرف یہ کہنا کسی طور بھی درست نہیں ہے کہ ہم تو صرف اصولی بات واضح کررہے ہیں کہ اتنا اضافہ لیا جاسکتا ہے اور مقدار سے ہمیں غرض نہیں ہے، کیونکہ سوال فرضی نہیں ، بلکہ عملی صورت حال کے بارے میں ہے جس سے آپ ناواقف نہیں ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ افراطِ زر کی ذمہ داریقرض لینے والیپر نہیں ڈالی جاسکتی۔ اگر آپ کو قرض دینے والے کی فکر ہے اور افراطِ زر کی وجہ سے اسے پہنچنے والے نقصان کی تلافی آپ ضروری سمجھتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ اس تلافی کا بوجھ قرض لینے والے پر کیوں ڈالا جائے، جبکہ افراطِ زر کی تلوار قرض دینے والے کی طرح قرض لینے والے پر بھی چلی ہے؟

پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جن بعض ممالک نے ادائیگیوں کو افراطِ زر کی شرح کے ساتھ منسلک کرنے کی کوشش کی، انھوں نے یہ مسئلہ تو حل نہیں کیا لیکن کئی نئے مسائل کھڑے کرلیے۔ اصل مسئلے کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے کہ بینک ایک ’فرضی شخص‘ ہے جو اربوں کا مالک ہوتا ہے اور وہ ایک چھوٹے سے اکاؤنٹ ہولڈر سے چند ہزار یا چند لاکھ روپے قرض لے رہا ہے۔ ضرورت اکاؤنٹ ہولڈر اور بینک کے تعلق کی نوعیت تبدیل کرنے کی ہے، حل بھی وہیں سے نکلے گا۔ جہاں بینک سود کو ’مارک اپ‘ یا کوئی اور نام دے کر جواز تخلیق کرنا چاہتے ہیں، وہاں بھی تنقید ہونی چاہیے، لیکن جہاں وہ خود قائل ہیں کہ یہ سود ہے، وہاں اس کے لیے جواز کیسے سوچاجاسکتا ہے؟

غامدی صاحب کے تجویز کردہ حل کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جسے بینک بھی سود کہہ رہا ہے، آپ اسے افراطِ زر کے ساتھ جوڑ کر جواز دینا چاہتے ہیں۔ غامدی صاحب بھول گئے ہوں، تو انھیں یاد دلانا چاہیے کہ کسی زمانے میں وہ کہا کرتے تھے کہ سود بینک کی خمیر میں یوں گندھا ہوا ہے کہ سود کے بغیر بینکاری کا تصور ممکن ہی نہیں ہے، اور اسی لیے ’’سود کے بغیر بینکاری‘‘کے بجائے ’’بینک کے بغیر معیشت‘‘کا سوچنا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔قبل ازیں سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment